شعوری بالغ النظری اور پابندیوں کا خاتمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس معاشرے کو گُھن اندر سے لگ رہا ہے۔ معاشرے کے نوجوان کو ففتھ جنریشن وار کے کُنج گل میں اُتار دیا گیا ہے یاد کریں کیسے پینڈ کا نائی بچے کو چڑی دکھانے کے بہانے نیچے اُسترا چلا دیتا تھا بچے کو چڑی تو نظر نہ آتی لیکن نائی صاحب اپنا مطلوبہ ہدف ضرور پورا کر لیتا تھا۔

کہتے ہیں پابندیاں تجسس کو جنم دیتی ہیں۔ تجسس بغاوت کی راہ پر لانے والا پہلا دھکا ہوتا ہے۔ بچے کو اگر یہ کہہ دیا جائے کہ فلاں فلم، فلاں کمرے، فلاں علاقے میں نہیں جانا تو یقین رکھیں کہ وہ پہلا موقع پاتے ہی اسی جگہ ضرور جائے گا۔ ہماری یہ بلا ضرورت کی پابندی بچے کو تجسس میں مبتلا کر دیتی ہے، بہت سے بچے اسی وجہ سے منشیات کی لت میں پڑتے ہیں۔ آپ حضرتِ آدم اور حوا کی مثال ہی لے لیں۔

ہمارا سماج بلا ضرورت پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے، مُنافقت گُھٹی میں پلائی جاتی ہے، جھوٹ کی باقاعدہ تربیت گھر سے کرائی جاتی۔ جوبچہ جھوٹ نہ بول سکے اس کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی اور تمسخر اُڑایا جاتا ہے۔ سماج کر لڑکی چاہتی ہے کہ اس کے ساتھ سچ کی بجائے ایسا پر فریب جھوٹ بولا جائے جس سے کم از کم اس کے پاس اس دل پشوری کا کوئی جواز تو ہو اور کل کو اگر یہ سب ویسا ہی ہو جیسا ہوتا ہے تو اس کے پاس خود کو بے قصور اور مظلوم ثابت کرنے کے لئے ایک داستان ہو۔

وہ چاہتی ہیں کہ ان کے ساتھ سچ نہ بولا جائے کیوں کہ سچائی تلخ ہوتی ہے۔ سنا تھا تنگ و تاریک گلی محلوں میں پروان چڑھنے والے بچے اکثر بے راہروی کا شکار ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں تنگ و تاریک گلی محلے کے بچوں کے پاس تفریح کے مواقع نہیں ہوتے ان کے پاس کھل کر جینے کے امکانات زیادہ نہیں ہوتے وہ محرومیوں کی غلام گردشوں میں پل کر جوان ہوتے ہیں اور پھر محرومیاں اپنی تسکین کی راہ خود ڈھونڈتی ہیں۔ اب پاکستان میں آئے روز بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات پر نظر ڈالیں۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان میں روزانہ 10 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ واقعات ہر جگہ پر ہو رہے ہیں اب تو سوشل میڈیا پر محرمات سے جنسی تلذذ حاصل کرنے کے واقعات بھی تواتر سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔ بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات ہر جگہ ہو رہے لیکن رپورٹ نہ ہونے والے کیسز رپورٹ ہونے والے کیسز سے بہت زیادہ ہیں۔ بس اڈوں، ریلوے سٹیشنز، درباروں، دیہاتوں اور مدرسوں میں جنسی زیادتی کے کیسزبہت زیادہ ہیں۔

بھوک اخلاقیات کی متلاشی نہیں ہوتی، بھوک انسانیت اور حیوانیت کے فرق کو مٹا دیتی ہے، بھوک کا کوئی فرقہ، کوئی جنس کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ جنسی عمل ایک فطرتی ضرورت اور زی روح کا بنیادی تقاضا ہے۔ سماج نے اس کو نہ صرف ممنوع قرار دیا بلکہ مذہبی بنیادوں پر عطا کیے گئے حقوق بھی چھین لئے۔ مذہبی استبدادی ٹولے کی من چاہی تشریح نے معاشرہ کو انسان کے لئے ایک پنجرہ بنا دیا۔ کثیر ازدواجی، لونڈی، نکاحِ متعہ سب پر پابندی ہے یہ تو وہ جائز کام تھے جن کا ذکر قرانِ حکیم میں موجود ہے۔

اب ان پابندیوں سے جو حاصل ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ریڈ لائٹ ایرایاز بیماری کی نرسریاں ہیں، اور خوف کے سائے ہروقت ان کے سروں پر منڈلاتے رہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں جنسی تسکین دینے والے کھلونے بھی بیچنے کی ممانعت ہے۔ ہر چیز پر تو پابندی ہے۔ لوگ جینا چاہتے ہیں موقع پاتے ہی ملک سے فرار کی راہ تلاش کرتے ہیں۔ ریاست یرغمال ہو چکی ہے۔ ریاست سب انسانوں کو ایک جیسا شہری تصور کرنے سے قاصر ہے۔ کچھ سال پہلے تک پاکستان پوری دنیا میں آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ پورن موویز دیکھنے والا ملک تھا اور شاید اب بھی ایسا ہی ہوگا۔ پھر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے اس پر پابندی لگا دی اب لوگ وی۔ پی۔ این استعمال کر لیتے ہیں۔ گرو رجنیش نے کہا تھا جنس سے جنگ کے نتیجے میں ہی انسان جنیست میں مبتلا ہوا ہے۔

اب اگر روز 10 بچے جنسی زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں تو اس کا حل کیا ہے کچھ احباب تجویز کریں گے کہ ملزمان کو سرِ عام پھانسی دی جائے، کچھ فرمائیں گے کہ اسلام کا نفاز ضروری ہو گیا ہے، کچھ کہیں گے انٹرنیٹ بند کردو، کچھ کے خیال میں جلدی شادیاں کرو۔ یہ سب بھی کر کے دیکھ لو نتیجہ یہی رہے گا۔ تو پھر اس کا حل کیا ہے؟ اس کا حل سوچنا اصل مسئلہ ہے۔ اس برائی کو جڑ سے ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کو کم سے کم تر کیا جا سکتا ہے۔

اور وہ ایسے کیا جا سکتا ہے کہ اس جرم سے وابستہ ہر مجرم کی سزا کو یقینی بنایا جائے۔ کوئی بھی مجرم سزا سے بچ نہ پائے۔ دوسرا معاشرے میں جنسی آگاہی کو عام کیا جائے سیکس ایجوکیشن کا مطلب ہے کہ بچوں کو اگاہ کیا جائے کہ ان کے اعتماد کے رشتے دار ماموں، چاچو، کزن، استاد بہنوئی، خالو، محلے دار، ڈرائیور، باورچی ان کے پرائیویٹ پارٹس کو نہیں چھو سکتے، ان کو زیادہ قریب نہیں کر سکتے ان سے جنسی گفتگو نہیں کرسکتے بچوں کو اس بابت مکمل آگاہی اور شعور دینے کی ضرورت ہے۔

ہر مدرسے میں ایک سوشل ویلفیئر افسر اور ایک ماہرِ نفسیات/ سائیکالوجسٹ کی تعیناتی یا سہ ماہی دورے اور رپورٹ مرتب کر کے مقامی ایس ایچ او کے دستخط کے ساتھ متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کو جمع کرانا ضروری قرار دیا جائے۔ مقامی ایس ایچ اوز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو مدارس میں رہائش پذیر بچوں کا مکمل ریکارڈ رکھنے اور ان کی شکایات سننے کا پابند بنایا جائے۔ مدارس کے مہتمم حضرات اپنی ذمہداری کا خیال کرتے ہوئے اساتذہ پر کڑی نگاہ رکھیں اور طالب علموں سے بھی اس بابت پوچھتے رہیں۔

والدین کو چاہیے کہ جب وہ بچوں کو ٹیوشن یا قران پڑھوائیں تو وہ ان کو بند کمروں میں نہ بیٹھنے دیں۔ ایسے لوگ جن پر بچوں کے جنسی استحصال کا الزام ہو ان کو واچ لسٹ میں ڈالیں اور ان کی ایک ڈیٹا بیس مرتب کی جائے۔ بچوں سے جنسی استحصال کرنے والوں کا ہر گز دفاع نہ کیا جائے اور ہر اس واقع کی رپورٹ مقامی پولیس سٹیشن کو ضرور دی جائے چاہے وہ آپ کا بھائی ہو یا باپ۔ یہ کام مشکل ضرور ہیں مگر نا ممکن نہیں ہیں۔ برائی کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن اسے کم سے کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ جامعات میں اگرچہ بچے نہیں ہوتے پھر بھی ایسے اساتذہ یا طالب علموں کا کڑا احتساب کرنے کی ضرورت ہے جو کسی بھی طور پر جنسی استحصال کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رئیس نعمان احمد کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *