حریم شاہ کے پیچھے کسی ”ورجینیا ہال“ کا ہاتھ تو نہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ورجینیا ہال امریکی شہری تھی اور بچپن سے ایک سفارتکار بننے کی شدید خواہش رکھتی تھیں۔ جس طرح امریکا میں اب تک کوئی خاتون صدر نہیں بنی بالکل ایسے ہی جب ورجینیا ہال سفارتکار بننا چاہتی تھیں تو اس وقت امریکا میں خاتون سفارتکار کی کوئی مثال موجود نہیں تھی اس لیے ورجینیا ہال کو کئی زبانوں پر دسترس حاصل ہونے اور متعدد سفارتخانوں میں خدمات سر انجام دینے کے باجود امریکی سفارتکار بننے کا ان کا خواب پورا نہ ہوسکا۔

ایک امیر گھرانے میں آنکھ کھولنے والی ورجینیا ہال کی زندگی نے اس وقت پلٹا کھایا جب شکار کھیلتے ہوئے ان کی ٹانگ میں گولی لگی اور ڈاکٹروں نے زخم ناسور بننے پر ان کی ایک ٹانگ گھٹنے سے نیچے کاٹنے کا فیصلہ کیا۔ اس واقعے کے بعد ورجینیا ہال کی زندگی بدل گئی۔ لوگ انہیں معذور سمجھتے تھے لیکن ورجینا نے خود کو منوانے کے لیے ہر وہ کام کرنے کی ٹھان لی جو عام لوگ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچتے۔ جب دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو ورجینیا ہال فرانس میں ایمبولینس کی ڈرائیور بن گئی جہاں وہ ایمبولینس لے کر میدان جنگ میں گھس جاتی اور برستی گولیوں میں زخمیوں کو وہاں سے نکال کر لے جاتی۔ اس دوران ان کی ملاقات ایک برطانوی خفیہ ایجنٹ سے ہوگئی جو ان کی بہادری سے متاثر ہوکر ورجینیا ہال کو لندن جانے اور ایک شخص سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا جو انہیں برطانی خفیہ ادارے میں کام دلوا سکتا تھا۔

جس طرح امریکا میں خواتین کو سفارتکار بنانے کا رواج نہیں تھا بالکل ایسے ہی برطانیہ میں اس وقت خواتین ایجنٹس کو میدان جنگ میں بھیجنے کا رواج بھی تھا اس لیے برطانوی خفیہ ایجنسی کے ساتھ چھ ماہ کام کرنے کے باوجود ورجینا ہال کو دشمن کے علاقے میں جانے کی اجازت نہیں ملی۔

1941 میں آخر کار ورجینیا ہال کو دشمن کے علاقے میں گھسنے کی اجازت مل گئی اور وہ نیو یارک پوسٹ کی رپورٹر بن کر فرانس پہنچ گئیں جہاں ان کی ملاقات میڈم جرمین سے ہوئی جو سیکس ورکروں کے ذریعے جرمن حکام کی جاسوسی کرتی تھی۔ میڈم جرمین جرمن حکام کو سیکس ورکروں کے ذریعے ورغلاتی، انہیں نشہ آور دوا پلا کر اہم دستاویزات کی تصاویر اترواتی اور وہ معلومات ورجینیا ہال کی مدد سے لندن پہنچاتی۔ یوں خواتین جاسوسوں کے اس نیٹ ورک نے برطانیہ کو جرمنی پر جاسوسی میں سبقت دلا دی۔ آہستہ آہستہ میڈم جرمین نے ورجینیا ہال کی مدد سے ایک پوری خفیہ فوج تیار کر لی جوسیکس ورکروں کے ساتھ ساتھ جرمن فوج کے ساتھ کام کرنے والے غیر جرمن سول ورکروں پر مشتمل تھی۔

پکڑے جانے کے ڈر سے جب برطانیہ نے ورجینیا ہال کو دوبارہ فرانس بھیجنے سے انکار کیا تو انہوں نے امریکی حکام سے رابطہ کیا اور یو ایس آفس آف اسٹریٹیجک سٹڈیز کی مدد سے دوبارہ فرانس پہنچ گئی۔ اب وہ برطانیہ کے ساتھ ساتھ امریکا کے لیے بھی جاسوسی کرنے لگیں۔ انہوں نے اپنے خفیہ نیٹ ورک کی مدد سے جرمن فوج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جس کی وجہ سے جرمنی میں ورجینا ہال کو پکڑنے کے متعدد منصوبے بنے لیکن ورجینیا ہال ہر بار جرمن فوج کو چکمہ دے کر نکل جاتی۔

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد 1951 میں ورجینا ہال نے باقاعدہ طور پر سی آئی اے میں شمولیت اختیار کر لی اور 1966 تک انٹیلی جنس اینلسٹ کے طور پر خدمات سر انجام دیتی رہیں۔ ورجینیا ہال کی کامیابی کے پیچھے سب سے بڑا ہتھیار وہ سیکس ورکرز تھے جن کی مدد سے وہ جرمن حکام کے بیڈ رومز تک رسائی رکھتی تھی اور اہم خفیہ دستاویز چرانا ان کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا تھا۔

اب ورجینا ہال کی کہانی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم حریم شاہ کی کہانی پر غور کریں تو یہ شبہ ہونے لگتا ہے کہ کہیں حریم شاہ کے پیچھے بھی کسی ورجینا ہال جیسے کردار کا ہاتھ تو نہیں ہے؟ حریم شاہ نے سب سے پہلے مبشر لقمان کے جہاز کے ساتھ بنائی گئی ویڈیو کے ذریعے سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کی۔ مبشر لقمان نے اس ویڈیو سے لاتعلقی کا اعلان کیا، بعد ازاں پولیس میں ایف آئی آر درج کروانے کی بھی کوشش کی لیکن صحافی برادری میں انتہائی با اثر سمجھے جانے والے مبشرلقمان کئی ماہ گزرنے کے باوجود اب تک ایف آئی آر درج کروانے میں ناکام ہیں۔

حریم کی دوسری وائرل ویڈیو وہ تھی جو انہوں نے دفتر خارجہ کی کرسی پر بیٹھ کر بنائی تھی۔ ایک ٹک ٹاک اسٹار کا یوں دفتر خارجہ کے دفتر میں گھسنا اور میٹنگ روم میں ویڈیو بنانا یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ حریم کی رسائی کسی اعلیٰ عہدیدار تک ہے جس کی مدد سے وہ یہ سب کر رہی ہیں۔ میڈیا پر چند دن شور مچانے کے بعد اس واقعے پر بھی مٹی ڈال دی گئی۔

یہ خدشہ صرف خدشہ ہی رہتا اگر ایک وفاقی وزیر شیخ رشید کے ساتھ حریم شاہ کی مبینہ ویڈیو کال منظر عام پر نہ آتی جس سے یا تاثر ملتا ہے کہ حریم شاہ شیخ رشید کے انتہائی قریب ہیں۔ حریم شاہ نے اس پر ہی بس نہیں کیا بلکہ پنجاب کے وزیر اطلاعات کے ساتھ بھی ان کی ویڈیو لیک ہوئی جس میں بہت کچھ سنا اور دیکھا جاسکتا ہے۔ جب ایک خاتون وفاقی وزیر سے براہ راست فون پر بات چیت کرے، دفتر خارجہ کے دفتر میں گھس کر ویڈیو بنا لے اور کئی وزراء سے ذاتی تعلقات کا دعویٰ بھی کردے تو یہ سوچنا ضروری ہوجاتا ہے کہ کیا وہ یہ سب صرف سوشل میڈیا پر مشہور ہونے کے لیے کر رہی ہے یا اس کے پیچھے کچھ اور کہانی ہے۔ ورجینا ہال جیسی مثالوں کی موجودگی میں حریم شاہ کی حرکتوں پر دائیں یا بائیں کسی بھی آنکھ کا پھڑکنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *