فری کٹنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شاہ جی سے تعلق کو تقریباً سلور جوبلی ہوچکی ہے یہ تعلق اگر گولڈن جوبلی تک پہنچ گیا تو سمجھئے کمال ہی ہوگا۔ شاہ جی دسمبر کی ٹھنڈی ٹھار دوپہر میں طویل عرصے بعد خوش وخرم نظر آئے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ دسمبر کی سردی کا مقابلہ کرنے کی بجائے انہوں نے سر کے بال اتنے چھوٹے کروائے ہوئے تھے کہ نائی سے رجوع کرنے میں کم از کم انہیں مارچ کے آخری ہفتے کا انتظار کرنا پڑے گا۔ عین اس وقت جب بچے نئے تعلیمی سال میں داخل ہورہے ہوں گے تو شاہ جی کسی نائی کے حمام میں حجامت کے لئے داخل ہورہے ہوں گے۔ ستم ظریفی تو یہ تھی کہ ان کے ساتھ موجود دس سالہ بچے کی تازہ تازہ ٹنڈ کروائی ہوئی نظر آرہی تھی۔

شاہ جی نے سلام دعا کے بعد پہلا انکشاف یہ کیا کہ ”صاحب ٹنڈ“ ان کا بھتیجا ہے۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے شاہ جی کی بات کو کاٹتے ہوئے سوال داغ دیا کہ معصوم بچے نے ایسا کیا جرم کیا ہے کہ اسے سخت سردی میں ٹنڈ کروا کر شہر کا چکر لگوا رہے ہو۔ میرے اس سوال نے گویا شاہ جی کے جذبات کا ”موگاہ“ توڑ دیا اور پھر حسبِ معمول انہوں نے صحافیوں کے مالی اور معاشی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ کئی کئی ماہ سے تنخواہیں لیٹ ہیں اس لئے نیشنل پریس کلب کی منتخب باڈی نے صحافیوں کی فری ”اجتماعی کٹنگ“ کا بندوبست کیا ہے۔ چنانچہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے اپنی کٹنگ اس حساب سے کروائی ہے کہ کم از کم تین ماہ کے لئے اس ”دکھ“ سے دور رہوں جبکہ بھتیجے کی ٹنڈ اس لئے کروائی ہے کہ اس کو ”فکربال“ سے چھ ماہ کے لئے نجات مل سکے۔

شاہ جی فرطِ جذبات میں بتا رہے تھے کہ موجودہ حکومت نے اہل صحافت کو ”فکرِ بال بچہ“ تو دیا ہی تھا لیکن معاملات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ یہ فکر اب بالوں تک جاپہنچی ہے۔ اسی دوران باتوں باتوں میں شاہ جی نے میرے سر کا بھی جائزہ لیا اورکہنے لگے ویسے آپ کو فی الحال کٹنگ کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی اگر آپ چاہیں تو رش کے باوجود آپ کے مختصر بالوں کو مزید مختصر کراسکتے ہیں کیونکہ ایک دونائی اپنے ”گرائیں“ ہیں۔

شاہ جی نے قدرے میرے کان کے قریب ہو کر مشورہ دیا کہ آج کل میں اگر کوئی شادی ہے تو بیوٹیشن بھی مفت ”خدمات“ سرانجام دے رہی ہیں بھابھی کو لیجا کر خوش کردیں اس بیوٹیشن کو پریکٹس کرکے راحت ملے گی اور بھابھی کو آپ کے اثرورسوخ کے ”سرخی پاؤڈر“ سے مستفید ہونے کا موقع مل جائے گا۔

شاہ جی کے جذبات کا طوفان تھم چکا تو میں نے عرض کی کہ شاہ جی پاکستان میں بہت بڑے پیمانے پر ”کٹنگ“ فری ہوتی ہے لیکن ہر شہری اپنی بصیرت کے مطابق اس کو دیکھ پاتا ہے۔ شاہ جی ابھی میری بات کی گہرائی میں غوطہ زن ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ میں نے انہیں بتایا کہ حضور ابھی دو دن پہلے حکومت نے نیب کے ساتھ سرکاری نائیوں والا سلوک کیا ہے۔ حکومت نے جو آرڈیننس جاری کیا ہے اس نے نیب کی سربازار ٹنڈ کرکے رکھ دی ہے۔ خود نیب کو سمجھ نہیں آرہی کہ اس کٹنگ سے اس کا چہرہ مزید سنورے گا یا پھر اس کی شکل فلمی اداکار مصطفیٰ ٹنڈ جیسی ہوجائے گی جو ہمیشہ ہی ولن رہے۔ شاہ جی نے فوراً مجھ سے اتفاق کیا اور کہا کہ بالکل درست کہا آپ نے۔

میں نے مزید فری کٹنگ کے حوالے دیتے ہوئے شاہ جی کو بتایا کہ ہمارے ہاں 72 سال میں سب نے ملکر قومی خزانے کی فری کٹنگ بہت شوق سے کی ہے اور قومی خزانہ اس قدر بے بس رہا ہے کہ بعض اوقات اس کے سر پر بال بھی نہیں تھے لیکن موقع پرست حکمرانوں نے اقتدار کے استرے کا بے رحم استعمال کرتے ہوئے بالوں کے ساتھ خزانے کی کھال بھی اتارلی۔ شاہ جی اب تقریباً میری گفتگو کے رحم وکرم پر تھے اور ان کی شکل بتا رہی تھی کہ وہ فری کٹنگ کی مزید وارداتوں بارے جاننے کے خواہش مند ہیں۔

میں نے انہیں بتایا کہ پہلے جنرل ایوب خان نے سیاسی جماعتوں کی فری کٹنگ کی اور 9 سال تک اقتدار کے مزے لئے اور جنرل یحییٰ خان نے تو فری کٹنگ کرتے ہوئے ایسا ”ٹکر“ لگایا کہ ملک ہی دولخت ہوگیا۔

اس کے بعد جنرل ضیاء الحق نے تقریباً گیارہ سال سیاسی جماعتوں کی ”فری کٹنگ“ کے ذریعے انہیں سردی گرمی میں ٹنڈ کی نعمت سے نوازا اور پھر ان کے منہ بولے بیٹے تو ”گنجی“ حالت میں اقتدار سے چپک کر رہ گئے۔ اسی طرح سرے محل، ایون فیلڈ اور پانامہ رپورٹس درحقیقت ہمارے قومی رہنماؤں کی قومی سطح پر کی گئی فری کٹنگ کی وارداتوں کی عکاس ہیں۔

شاہ جی نے بس ایک لقمہ دیا کہ نیشنل پریس کلب نے فری کٹنگ کی سہولت دے کر کوئی بڑا کام نہیں کیا اس کے بعد میں نے دوبارہ فری کٹنگ پر جاری اس فری سٹائل مذاکرے کوآگے بڑھاتے ہوئے بتایا کہ دو سال پہلے جو چائنہ کٹنگ کا جن نمودار ہوا تھا وہ شہریوں کے کئی پارکس، سکولوں کے پلاٹس اور قبرستانوں کی زمین نگل گیا۔ چائنہ کٹنگ کے ذریعے ہاؤسنگ کالونیوں اور سوسائٹیوں کو انتہائی بے دردی سے اس طرح ”گنجا“ کیا جس طرح پولیس کسی چور کو پکڑ کر ٹنڈ کرتی ہے اور پھر گدھے پر بٹھا کر علاقہ کا چکر بھی لگواتی ہے حالانکہ اس چور کا جرم یہ نہیں ہوتا کہ اس نے چوری کی ہے بلکہ جرم یہ ہوتا ہے کہ اس نے پولیس کو حصہ نہیں دیا ہوتا۔

شاہ جی کو میں کے بتایا کہ ہماری عدالتوں میں ہر روز انصاف کی فری کٹنگ ہوتی ہے اور اکثر اوقات تو انصاف کا سر عدالت نے اندر ہی قلم کردیا جاتا ہے۔ ہمارے جج، ہمارے وکیل، مدعی اور ملزم انصاف کی اس ”فری کٹنگ“ کا منظر روز دیکھتے ہیں اور شرمندہ بھی نہیں ہوتے۔ ہمارے پورے نظام میں نسل درنسل میرٹ کی فری کٹنگ کا عمل جاری ہے اور اسی وجہ سے کئی اہل نا اہل ہوگئے اور کئی نا اہل اہل قرار پاچکے ہیں۔ شاہ جی نے بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ آپ پیسے دے کر حجامت کروالیں مجھے فی الحال اجازت دیں میں نے کچھ اور دوستوں کی فری کٹنگ کروانی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 75 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *