کچھ ان کہی باتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ باتیں جو میں کہنا چاہتی تھی لیکن کہہ نہیں پائی۔

یہ جو لوگ کہتے ہیں عورت میں پیش قدمی کی صلاحیت نہیں ہوتی، وہ فیصلے کرنے میں پس و پیش کرتی ہے۔ عورت کے موڈ کا کچھ پتہ نہیں چلتا، عورت بے وقوف و جذباتی ہوتی ہے۔ جو عورت معاشی طور پہ مضبوط ہو جائے وہ اس سماج کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ جب عورت ڈرائیونگ کرتی ہے تو وہ مسئلہ پیدا کرتی ہے وہ اچھی ڈرائیور نہیں ہوتی، یہ عورتیں خوامخواہ تیوری چڑھائے رکھتی ہیں۔ گھریلو عورت ویلی نکمی ہوتی ہے۔ بس سٹار پلس دیکھ سکتی ہے یا ثنا صفینہ، عاصم جوفہ کے سوٹ ڈسکس کر سکتی ہے، توجہ لینے کو خوامخواہ بیمار ہوتی ہے۔ پورے محلے اور خاندان کی گوسپ کر کے دل بہلاتی ہے۔

ان سب باتوں کے جواب میں میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔ ایک عورت جو گھر سے نکلتی ہے لیکن کنفیوژن کا شکار ہوتی ہے وہ احمق نہیں ہوتی بلکہ وہ اس سماج میں صدیوں سے پنپے عزت و غیرت کے معیار کو اپنے کندھوں پہ اٹھا کے چل رہی ہوتی ہے وہ جانتی ہے کہ آج کوئی اسے غلط طریقے سے چھو جائے یا اس کا ریپ ہو جائے تو بے عزتی مجرم کی نہیں ہوگی اس کی ہو گی۔ وہ بے عزت کہلائی جائے گی۔

وہ ایک اچھے ڈیزگنیشن پہ ہونے کے باوجود کھل کے فیصلہ نہیں لے سکتی تو اس کی وجہ اس کے اگرد گرد موجود مرد ہوتے ہیں جن کی انا پہ چوٹ لگی ہوتی ہے کہ یہ کمزور مخلوق ان کے برابر کیونکر آ گئی۔ وہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے گھبرا جاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کے ریفلیکسز مردوں جتنے مضبوط نہیں ہوتے کیونکہ اسے بچپن سے ہی ایسے کھیل کھیلنے کا موقع نہیں ملا ہوتا جس سے دماغ کے حکم کو جسم فوری ردعمل دے سکے۔

وہ گھر میں رہتے ہوئے یہی سنتی ہے کہ وہ کچھ نہیں کرتی یہ رائیگانی کا احساس اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی اہمیت جتانے کے لیے اپنے اردگرد ہر انسان کو برا ثابت کرنے کی کوشش کرے۔

پھر وہ عورت جو انڈیپینڈنٹ رہنے کا فیصلہ کرتی ہے معاشی آزادی حاصل کرتی ہے وہ بھی اپنے لیے ساتھی چنتے ہوئے کنفیوژن کا شکار ہوتی ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ وہ جانتی ہے کہ یہاں کا مرد معاشی طور پہ مضبوط عورت سے کس قدر خوف ذدہ ہوتا ہے اور اس خوف سے پیدا ہونے والے احساس کمتری کا بدلہ وہ کس طرح ذہنی اور جسمانی اذیت دے کے کرتا ہے۔

وہ دانشور نہیں کہلا سکتی کیونکہ اس کے لیے عقل کا ہونا ضروری ہے۔ کوئی تخلیق اس کی ہونے پہ یقین نہیں آتا کیونکہ ایسا فرض کرنا محال ہوتا ہے کہ وہ مختلف سوچ سکتی ہے۔ وہ ادبی محافل میں اور دانشوروں کے گیٹ ٹو گیدر میں بول نہیں سکتی کیونکہ پری سپوزڈ ہے کہ یہ اس کے بس کا روگ نہیں۔ وہ سوشل سرکل میں کھل نہیں سکتی کیونکہ اسے پتہ ہے آخرکار گوسپ کا نشانہ بننا ہی اس کا مقدر ہے۔

ایک ایسا فرد جسے ہر وقت یہ احساس ہو کہ اس کے بدن کو نظریں ٹتولتی ہیں، اسے سیکچولی اوجیکٹیفائی کیا جاتا ہے، اسے کم عقل، جذباتی، بے وقوف اور احمق سمجھا جاتا ہے وہ پھر بھی اس سماج میں زندہ رہتا ہے اپنا آپ منواتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ وہ ہے۔ اے مرد یہ ایہ طمانچہ ہے اس سماج پہ، تمہاری نظروں پہ، اس فرسودہ سوچ پہ اور صدیوں سے پروان چڑھی روایت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply