کپتان کے کھلاڑی یامافیا کے حواری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈیڑھ سال قبل اگر پی ٹی آئی کا تصور کیا جائے تو ایسی سیاسی جماعت کا خیال ذہن میں ابھرتا ہے جو نوجوان نسل کے بہتر مستقبل کی آمین ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری جیسے مسائل اوربحرانوں میں گھِری معیشت کپتان کے کھلاڑیوں کی ایک چٹکی کی منتظر ہے۔ ایسی سیاسی جماعت جس کے اقتدار میں آنے کے بعد تمام اداروں سے سیاسی اثرو رسوخ ختم ہو گا۔ سفارش اور رشو ت جیسے ناسور سے بچنے کے لئے سخت قوانین متعارف کروائے جائیں گے۔ ہر قسم کے مافیا کی حکومتی سطح پر ناصرف حوصلہ شکنی کی جائے گی بلکہ سخت قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کرپٹ سیاستدانوں اور اشرافیہ کا کڑا احتساب ہو گا۔ پاکستان ایک ایسی فلاحی ریاست ہو گی جس میں عام شہری کو بہتر معیار زندگی فراہم کیا جائے گا۔ ڈیڑھ سال قبل پکنے والے اس خیالی پلاؤ کی خوشبو اس قدر لذیذ تھی کہ پاکستانی عوام اس کو کھائے بنا نہ رہ سکے، جس کی مرہون منت انتخابات 2018 میں کپتان کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا۔

اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ میں کرپشن ختم کر نے کے لئے فرشتے کہاں سے لاؤں، میں ادارے ایسے بناؤں گا کہ کوئی کرپشن کرہی نہیں سکے گا۔ کپتان کے دیگر دعوؤں کی طرح یہ بات بھی شاید انتخابات تک ہی محدود تھی کیونکہ پی ٹی آئی قیادت نے بین الصوبائی مفادات کی آڑ میں ایسے ادارے کو بگاڑنے کا تہیہ کر لیا ہے جو کرپشن کے بغیر کام کر رہا ہے۔ پاکستان کے دیگر اداروں کا کباڑا تو تقریباً ہو ہی چکا ہے لیکن خوراک کی فراہمی کے لئے کرپشن فری اور رول ماڈل ادارے سے قانون سازی کے اختیارات لے کر ایسے ادارے کو تفویض کیے گئے ہیں جہاں کرپشن روز کا معمول بن چکی ہے۔

وہ مافیا جس کو کافی عرصے سے اپنی ناقص اورغیر معیاری پروڈکٹس بیچنے میں کافی مشکلات حائل تھیں، کو فیصلہ سازی کے ایوانوں سے بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پنجاب فوڈ اتھارٹی سمیت پاکستان میں کام کرنے والی دیگر اتھارٹیز کے اختیارات ختم کر کے وفاقی ادارے ”پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی“ کو منتقل کیے گئے ہیں جو کہ آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 154 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ خوراک کے معیار اور کوالٹی کا تعین کرنا صوبوں کی ذمہ ہے اور اس بات کی وضاحت سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی کی ہے۔ صوبائی سطح پر اختیارات ختم کیے جانے کے بعد ایسے ادارے کو منتقل کیے گئے ہیں جہاں فوڈ مافیا کی دسترس ہے اور وہ اپنی غیر معیاری اور ناقص پروڈکشن کی رجسٹریشن آسانی سے کروا سکتے ہیں۔

فوڈ مافیا کے علاوہ کئی اعلیٰ پائے کے سیاستدان بھی پنجاب فوڈ اتھارٹی کے خلاف تھے۔ چند ماہ قبل اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی نے دوران اجلاس اتھارٹی کے حوالے سے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا کیونکہ گلبرگ لاہور میں واقع بسٹرو 201 کو اتھارٹی نے حفظان صحت کے ناقص انتظامات پرسیل کیا تھا۔ واضح رہے کہ بسٹرو 201 اسپیکر پنجاب اسمبلی کے انتہائی قریبی عزیز کی ملکیت ہے۔

شہباز شریف نے اپنے دور اقتدار میں اس ادارے کو فعال کرنے کے لئے نہ صرف فوڈ مافیا بلکہ سیاسی جماعتوں کا دباؤ برداشت کیا۔ فوڈ سیفٹی ٹیموں نے کسی وڈیرے یا جاگیر دار کے دباؤ میں آئے بغیر معیاری خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے دن رات کاوشیں کیں۔ یہی وجہ ہے عالمی سطح پر ادارے کی کارکردگی کو سراہا گیا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارو ں نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے قوانین اورمعیاری خوراک کی فراہمی کے لئے کی جانے والی کاوشوں پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے خوراک کے حوالے سے جو معیار طے کر رکھا تھا اس سے عوام دشمن عناصر کو کافی پریشانیاں لاحق تھی۔ غیر معیاری فلیورز اور کیمیکلز سے جوسز اور کولڈ ڈرنکس تیار کرنے والی کمپنیوں کے خلاف اتھارٹی سختی سے نبرد آزما تھی لیکن قانون سازی اور اجزائے ترکیبی کے معیار طے کرنے کے اختیارات چھینے جانے کے بعد فوڈ مافیا کو پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں ناقص پروڈکٹس مارکیٹ میں فروخت کر نے میں کافی حد تک آسانی ہو جائے گی۔

اگر ”پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی“ کے 23 سالہ ریکارڈ اورپرفارمنس کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ناقص میٹریل سے تیار اشیاء کو باآسانی پاکستان سٹینڈرڈ کا سرٹیفکیٹ بانٹا جاتا ہے۔ کسی بھی چیز کو سرکاری اور غیر سرکاری فیس کی مدد سے باآسانی رجسٹر کروایا جا سکتا ہے۔ اس ادارے کی شفافیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ”پی ایس کیو سی اے“ کے سیکریٹری، ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر پرنیب اور ایف آئی اے کی جانب سے 33 انکوائریاں چل رہی ہیں۔

مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان اور دیگر شرکاء کو بتایا گیا کہ خوراک کے معیار کے حوالے سے تمام ترقی یافتہ ممالک میں یکساں قوانین نافذ ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی خوراک کے حوالے سے قانون سازی کرنے میں حد سے تجاوز کرتی ہے۔ وفاقی حکومت کے مطابق ”پی ایس کیوسی اے“ پاکستان بھر میں خوراک کے معیار اور اجزائے ترکیبی کے حوالے سے یکساں قانون سازی کرے گی لیکن پنجاب فوڈ اتھارٹی کے قوانین کے مطابق عام شہریوں کی صحت اورموسمیاتی یا علاقائی تبدیلیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی بھی پروڈکٹ کے اجزائے ترکیبی کو نہ صرف بدلا جا سکتا ہے بلکہ مکمل طور پربند بھی کیا جاتا ہے لیکن کسی بھ پروڈکٹ کو بند کرنے سے قبل کمپنی کو متبادل پروڈکٹ لانے کا ٹائم دیا جاتا ہے۔ اتھارٹی کا مقصد معاشرے میں خوف کی فضا پیدا کرنا نہیں بلکہ معیاری خوراک بنانے والوں کی حوصلہ کرنا ہے تاکہ عام شہریوں کو صحت بخش خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

امریکہ سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک بھی پنجاب فوڈ اتھارٹی کے طرز کے قوانین پر عمل پیراہیں۔ مثال کے طور پرپاکستان کے شمالی علاقہ جات میں بسنے والے افراد کو نمک میں آئیوڈین کی مقدار کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے جبکہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں آئیو ڈین کی مقدار کی اس قدر ضرورت نہیں ہوتی، یہی صورتحال دیگر روزمرہ استعمال ہو نے والی اشیاء کی ہے۔ پاکستان میں علاقائی تبدیلوں کے پیش نظر خوراک کا یکساں معیار کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے؟ اگر کوئی کمپنی اپنی پروڈکٹ کو ”پی ایس کیو سی اے“ میں رجسٹر کرواتی ہے تو پنجاب فوڈ اتھارٹی سمیت دیگر فعال اتھارٹیزاس کے خلاف کارروائی کرنے کی مجاز نہیں ہوں گی۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے دودھ کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے نہ صرف قانون سازی کی ہے بلکہ پنجاب بھر میں پاسچر ائیزڈ دودھ کو کھلے اور غیر معیاری دودھ کے متبادل کے طور پرمتعارف کروانے کے لئے کوشاں ہے کیونکہ عام دودھ میں ناصرف بھاری مقدار میں ملاوٹ کی جاتی ہے بلکہ پنجاب کے باسیوں کی غذائی ضروریات بھی پوری نہیں ہو سکتی۔ یہ پاکستان کا واحد ادارہ ہے جو خوراک کے معیار کے حوالے سے کسی قیمت پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتا۔

پنجاب فوڈاتھارٹی نے سالانہ سروے کے تحت گھی کے معیارکو جانچنے کے لئے صوبہ بھر سے سینکڑوں پروڈکٹس کے نمونے حاصل کیے۔ فوڈ لیب میں لیے گئے سیمپلز کے معائنہ کے بعد انتہائی دلچسپ صورتحال دیکھنے کو ملی۔ ”پی ایس کیو سی اے“ سے رجسٹر ڈ کئی کمپنیوں کی پروڈکٹس اتھارٹی کے معیار پر پورا ہی نہ اتر سکیں۔ بوتلوں میں عام پانی بھر کر منرل واٹر کانام دیا جاتا ہے اور اس پر پاکستان سٹینڈرڈ کے سرٹیفکیٹس بھی آویزاں ہوتے ہیں۔

”پی ایس کیو سی اے“ کو خوراک کامعیار کے اختیارات سونپے جانے کے پیچھے پاکستانی فوڈ مافیا سمیت غیر ملکی کمپنیوں بھی کافی حد تک کوشاں تھی کیونکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی پروڈکٹس میں شامل اجزاء کی کوالٹی اور مقدار کا بھی وقتاً فوقتاًجائزہ لیتی ہے یہی وجہ ہے کہ تمام کمپنیوں کو پنجاب بھر میں اپنی اشیاء کے معیار کو متوازن رکھنا پڑتا ہے جو ان کے پیٹ میں مروڑ پڑنے کی بڑی وجہ بھی ہے۔ اتھارٹی نے سیون اپ کے لوگو پر لیموں کا نشان ہٹوایا کیونکہ اس میں لیموں کا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا، اس کے علاوہ بھی درجنوں ایسی مثالیں موجود ہیں۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر قسم کی اشیاء خوردوش میں ملاوٹ کی جا رہی ہے جس کا ادراک نا صرف معاشرے میں رہنے والے فرد واحد کو ہے بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے معززین بھی اس کو باخوبی جانتے ہیں۔ ان تمام حقائق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پنجاب فوڈ اتھارٹی سے اختیارات واپس لینا ملاوٹ مافیا کو غیبی مدد فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ پی ٹی آئی قیادت قومی مفاد کو نظر انداز کرتے ہوئے بزنس کمیونٹی کو مستفید کرنے کی ہر ممکن ہو کوشش کر رہی ہے۔ اگر وزیر اعظم عمران خان نے اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور نہ کیا تو فوڈ مافیا کو نوازنے میں پی ٹی آئی قیادت کا نام سر فہرست ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *