غداری، پیرا 66 اور توہینِ میت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ چند روز سے ایک عدالتی فیصلہ زیرِ بحث ہے، گو کہ یہ ایک معمول کی بات ہے مگر اس میں ایک جج صاحب کی چند باتیں ایسی ہیں جس کی کم و بیش ہر شخص مذمت کر رہا ہے یہاں تک کہ سزا کے حق میں موجود لوگ بھی ان باتوں کی مذمت کررہے ہیں وہ یہ ہیں ”قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ مفرور مجرم کی گرفتاری اور سزا پر قانون کے مطابق عملدرامد کروائیں، اگر مجرم سزا سے قبل ہی وفات پا جائے تو اس کی لاش گھسیٹ کر اسلام آباد کے ڈی چوک لائی جائے اور تین روز تک وہاں لٹکائی جائے“۔ یقیناً یہ نہایت سخت الفاظ ہیں اور ان کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ کسی کو یہ سن کر ہلاکو خان یاد آتا ہے تو کسی کو ابن زیاد۔ بعض لوگ ان الفاظ کی اوٹ سے مکمل کیس پر ہی سوال اٹھا رہے ہیں اور بعض اس کے مندرجات پر، اس کے لیے کچھ چیزوں کا سمجھ لینا ضروری ہے جیسے جرائم؟ توجیہات؟ قانون؟ سزا؟

سنگین غداری کیس میں سابق صدر و آرمی چیف جناب پرویز مشرف کو 5 جرائم کی بنیاد پر سزا سنائی گئی،

1۔ بطور آرمی چیف آئین معطل کرنے

2۔ بطور آرمی چیف غیر آئینی پی سی او جاری کرنے

3۔ بطور صدر مملکت ججوں سے غیر قانونی، غیر آئینی حلف لینے

4۔ بطور صدر مملکت غیر آئینی احکامات جاری کرنے

5۔ بطور صدر مملکت ججوں کو نظر بند کرنے

ہر جرم میں سنگین غداری ثابت ہونے پر ایک ایک بار سزائے موت سنائی گئی۔ حیرت انگیز طور پر بیشتر وہ افرادجو مقدمے و فیصلے کے خلاف ہیں یہ بات تسلیم بھی کرتے ہیں کہ یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کی توجہات دلچسپ ہیں، جیسے آئین معطلی، ایمرجنسی، مارشل لاء وغیرہ جمہوریت و عوامی حقوق کی خلاف ورزی تو ہے مگر ملک سے بے وفائی، غداری نہیں۔ حتا کہ جس تین رکنی خصوصی عدالت نے یہ فیصلہ دیا اس میں اختلافی نوٹ لکھنے والے جج صاحب کا بھی یہ ماننا ہے کہ یہ کام تو کیے گئے ہیں مگر ان پر وہ مستحق سزا نہیں۔

بعض لوگ ملکی مفاد اور مجبوری کا لیبل دے کر بھی اسے جائز قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ 70 سالہ تاریخ میں 33 برس سے زائد تک غیر آئینی و قانونی طریقے سے حکومت کو کبھی نظریہ ضرورت کہہ کر تو کبھی پارلیمان سے منظور کروا کر انوکھا قانونی و آئینی تحفظ دیا جاتا رہا۔ نومبر 2007 ء کی ایمرجنسی عدالتی و پارلیمانی تحفظ سے محروم رہی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تاخیر سے ہی سہی نا صرف مقدمہ قائم ہوا بلکہ فیصلہ بھی آگیا، فیصلے پر عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آتا مگر خیر فیصلہ آجانا ہی خوش آئیند ہے۔

ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے جس کام کی بنیاد ہی درست نہ ہو وہ کام چاہے کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو اچھا رہ نہیں سکتا، یہ ایسے ہی ہے کہ ایک چور چوری کرے اور پھر چوری شدہ مال سے کچھ رقم صدقہ خیرات کردے یا کچھ مسجد کے چندے میں جمع کروا دے۔ اگر ہم پہلی بار ہی آئین شکنی پر مصلحت کی چادر نہ اوڑھتے تو یقیناً آج حالات بہت مختلف ہوتے اور یہاں تک نوبت ہی نہ آتی۔ جواز تلاش کرنا ایسا ہی ہے جیسے ہم بچپنے میں بچے کے غلط کاموں کو تحفظ دیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہی بچہ بڑا ہوکر ایک باقاعدہ وارداتیاں بن جاتا ہے۔

اس پر مجھے ہمسایہ ملک کا ایک ٹیلی ویژن اشتہار یاد آگیا جسے یوٹیوب پر لاکھوں بار دیکھا جاچکا ہے اشتہار کا مواد ”سیلنگ پراڈکٹ“ سے زیادہ محبت و تربیت پر مبنی ہے، اشتہار کچھ یوں ہے کہ ایک خاتون اپنے کم سن بچے سے اس لیے ناراض ہے کہ بچے نے ماں کے پرس سے بغیر اجازت دس روپے نکال لیے تھے۔ کھانے کی میز پر موجود بیشتر اہل خانہ خاتون کو اس بات پر تنبیہہ کرتے ہیں اور طرح طرح کی توجیحات دیتے ہیں، بس دس روپے ہی تو تھے، ایسا کیا کردیا، اس کے والد کے ہی پیسے تھے وغیرہ وغیرہ۔ مگر سسر بہو کی اس بات پر حمایت کرتے ہیں اور تمام اہل خانہ پر وہ حقیقت اشکار کرتے ہیں جس سے وہ جانتے بوجھتے نظریں چرا رہے تھے کہ پیسے بچے نے ”اٹھائے“ نہیں بلکہ ”چرائے ہیں“، آج چوری کی ہے کل نا جانے کیا کرے گا۔

ہم بھی ایسا ہی کررہے ہیں، ایسا کیا کردیا، آئین ہی تو توڑا ہے، مجبوری تھی وغیرہ کہہ کر غیرقانونی کام کو تحفظ دے رہے ہیں اگر پہلے بار ہی سزا دے دیتے تو متعدد بار آئین نہ ٹوٹتا۔ اگر ایک ناخلف بیٹا شب و روز ماں سے بدسلوکی کرے، اس پر تشدد کرے اس کا کہا نامانے مگر کھانے کے وقت ماں سے لاڈ شروع کردے، ایسے میں ماں بیچاری کیا کرے گی ماں تو ماں ہے بچے کو کھانا بھی دے گی بدلے میں اس سے مار بھی کھالے گی، مگر وہ لوگ جو یہ دیکھ رہے ہیں ان کی بھی تو ذمہ داری ہے اس بدبخت کو سمجھائیں خواہ زباں سے یا ہاتھ سے۔ یہ دھرتی بھی ماں ہی ہے اگر اس کا کوئی نا خلف بیٹا اس سے بدتمیزی کرے تو ذمہ داروں کی ذمہ داری ہے اسے سبق سکھائیں۔ آئین پورے ملک کا، ہر ادارے ہر شخص کا محافظ ہے اور آرٹیکل 6 آئین کا محافظ ہے۔ آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی پر عمر قید یا سزائے موت کی سزا ہے۔

کچھ بات اس قابل مذمت پیرا 66 (جس کا متن ابتدائیے میں دیا جاچکا) سے متعلق ہے کہ کم و بیش ہر میڈیا چینل پیرا 66 پر مذمتی ٹاک شو کرچکا، تقریباً تمام مسالک کے بڑے علما، ماہر قانون دان اور دیگر شبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بے شمار افراد سوشل میڈیا و دیگر پر اس سے متعلق مذمتی رائے کا اظہار کرچکے بلکہ اسے ”توہین میت“ قرار دے چکے ہیں۔ میں ان لوگوں سے سوال کرنا چاہتا ہوں توہین میت کیا ہوتی ہے؟ کیا کسی شخص کو گولیوں سے چھلنی کردینا توہینِ میت میں آسکتا ہے (کیا خبر موت 2، 4 گولیوں سے ہی واقع ہوچکی ہو) ، کیا قبرسے لاش چرانا توہینِ میت ہے؟

کیا لاش سے زیادتی کرنا توہینِ میت ہے؟ کیا میت کا جنازہ نہ پڑھانا توہینِ میت ہے؟ اگر یہ سب توہینِ میت کے زمرے میں آتے ہیں تو ہم سب کی بلخصوص علما ئے دین کی زبانیں و فتاویٰ خاموش کیوں؟ کیونکہ وطن عزیز میں ایسے کام ہورہے ہیں زیادہ کچھ نہیں بس ایک دو خبریں، گذشتہ ماہ راولپنڈی کے نواحی علاقے میں ایک کم سن بچی کو اس کے قریبی عزیز نے قتل کے بعد زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔ چند ہفتوں قبل کھاریاں کا ایک رہائشی (جس کے اگلے پچھلے موجود نہیں ) ایکسیڈنٹ میں مارا گیا، محلے کے مولوی صاحب نے اس کے غیر مسلک کا ہونے کے شبے کی بنا پر نمازِ جنازہ پڑھانے سے انکار کردیا، مسجد سے اعلان ہوانہ محلے داروں میں مولوی صاحب کے انکار کے بعد جنازہ پڑھنے کی ہمت، بلآخر دو لوگوں نے تدفین کا فیصلہ کیا اور اس کے ہم مسلک مولوی سے رابطہ کرکے جنازہ پڑھوایا، بعد ازاں وہی دونوں افراد جنازہ اٹھائے قبرستان چل پڑے راستے میں دو رکشے والوں نے یہ عجیب منظر دیکھا تو وہ بھی کاندھا دینے پہنچ گئے یوں اس جنازے کو بمشکل چار کندھے نصیب ہوئے، یہ دل دہلا دینے والی تصاویر سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔

مجھے کوئی ایک مذمتی ٹاک شو، علما کا کوئی بیان یا مذمتی ٹرینڈ ان ماملات پر نظر نہیں آیا، ممکن ہے کسی نے کیا بھی ہو مگر کوئی پذیرائی نہیں۔ ایک طرف طاقتور سابق صدر و آرمی چیف ہے جس کے خلاف اقلیتی عدالتی حکم پر فتاویٰ کی بھرمار دوسری طرف کمزورکم سن بچی و نشئی شخص جو معاشرے کی بے حسی کے ڈسے قبروں میں سو رہے ہیں اور ہم سب خاموش۔ طاقت ور اور کمزور کے لیے قانون اور کی بات تو بہت سنتے ہیں آج پتا چلا طاقتور اور کمزور کے لیے تو بیان و زبان بھی اور ہے۔

اللہ ہمیں ہدایت دے۔

پاکستان زندہ باد

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *