دعا ہے دو ہزار بیس بہتر ثابت ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقت کا پہیہ اپنی رفتار سے رواں رہنا ہے۔ ازل سے اس کی چال جس ترتیب سے جاری ہے ابد تک اسی طرح برقرار رہے گی۔ ماہ و سال یونہی آتے اور جاتے رہیں گے کیونکہ وقت کا کام نہ تو ٹھہرنا ہے اور نہ یکساں رہنا۔ آج تک گزرے بہت سے سالوں کی طرح دو ہزار انیس بھی کئی تلخ یادوں اور بہت سی ادھوری حسرتوں کے ساتھ رخصت ہو گیا۔ دو ہزار انیس کے آغاز تک حکومت سے لوگوں کی توقعات بہت زیادہ تھیں۔ کیونکہ تحریک انصاف عوام کو یہ سبز باغ دکھا کر اقتدار میں آئی تھی کہ ان کی حکومت میں عوام کے ہر درد کا مداوا ہو جائے گا۔

بیروزگار نوجوانوں کو نوکریاں ملیں گی۔ ہر غریب کو چھت میسر ہوگی۔ کوئی بے گھر نہیں رہے گا۔ صحت کے میدان میں انقلاب آ جائے گا۔ دوا دارو اور علاج کے لیے گھر کا سامان بیچنے کی نوبت کسی پر نہیں آئے گی۔ امیر غریب ہر بچے کے لیے یکساں نصاب تعلیم بنے گا اور سب کو یکساں مواقع دستیاب ہوں گے۔ اطمینان دلایا گیا تھا کہ پہلے والوں نے قوم کو بھکاری بنا دیا ہم نہ کشکول اٹھائیں گے اور نہ قومی وقار گروی رکھیں گے۔ یہی ملک ہوگا یہی معیشیت، قرض کے بغیر چلے گا بلکہ ترقی کی شاہراہ پر دوڑے گا۔ کرپشن کے مضمرات صبح شام بتائے جاتے تھے اور کہا جاتا تھا حکومت رہے نہ رہے، ملک کی لوٹی گئی دولت واگزار کرائے بغیر چور لٹیرے نہیں چھوٹیں گے۔ ریاست مدینہ کے قیام کا دعوی اور پولیس میں اصلاحات لانے کے وعدے کیے گئے۔

افسوس مگر ان میں سے کسی ایک بھی توقع اور امید پر حکومت پوری نہ اتری بلکہ سارا سال اپنے مقاصد سے دور ہی بھٹکتے رہی۔ یہ کہنا غلط نہیں کہ عوام کی زندگی میں بہتری کے بجائے الٹا اس کا معیار زندگی پہلے سے بھی بدتر ہو گیا۔ یہ سچ ہے کہ دودھ شہد کی نہریں آج سے پہلے بھی نہیں بہہ رہی تھیں، لیکن مہنگائی و بیروزگاری سے عوام کی حالت آج جیسی اجیرن بھی کبھی نہ تھی۔ کاروباری سرگرمیاں اس قدر ماند اور بازار اتنے سنسان پہلے کبھی نہ تھے۔

محاورتا نہیں بلکہ حقیقتاً غریب آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول نا ممکنات میں شامل ہو چکا ہے۔ بجلی گیس اور پٹرول کی قیمتیں آسمان چھونے لگی ہیں۔ نئی ملازمتیں تو کہاں ملنا تھیں صرف دو ہزار انیس میں دس لاکھ کے قریب برسر ملازمت لوگ بھی بیروزگاروں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ سانحہ ساہیوال کے متاثرین اور معذور صلاح الدین کے لواحقین کو ریاست مدینہ کی دعویدار اور پولیس اصلاحات کی علمبردار حکومت انصاف نہ دلا سکی۔ نقیب اللہ کے قاتل راؤ انوار کا بھی کوئی کچھ نہ بگاڑ سکا۔

قوموں پر عروج و زوال آتے رہتے ہیں اور خراب ملکی معاشی حالت بھی کوئی انوکھی بات نہ تھی۔ دنیا کی تاریخ بھری پڑی ہے جب آصائب و مشکلات سے قوموں کی بقا پر بھی سوالیہ نشان لگ گئے۔ لیکن ان اقوام نے رونا دھونا نہیں کیا ملبے پر بیٹھ کر ماتم نہیں کرتی رہیں بلکہ عزم و ہمت اور ارادے کی مضبوطی و پختگی سے حالات کا سامنا کیا اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر ابھریں۔ ہمارے چارہ گروں کو مگر چارہ گری سے گریز رہا ورنہ ہمارے جو دکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے۔

عزم و ہمت اور خلوص نیت سے کام لیا جاتا تو مسائل پر قابو پانا ممکن تھا۔ لیکن گزشتہ سارا سال حکومت یہی دہائی مچاتی رہی کہ پچھلی حکومتیں لوٹ کر لے گئیں۔ ہم نے جب اقتدار سنبھالا تو خزانہ خالی ملا تھا اور ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ دیکھا جائے تو آج تک کوئی حکومت ایسی نہیں آئی جس نے کہا ہو کہ پیشرو اس کے لیے آسانیاں چھوڑ کر گئے یا ملک ہمیں بہتر حالت میں ملا۔ ہمیشہ ہی سے جب ہماری حالت یہی رہی ہے تو رونے دھونے سے وقت کے ضیاع اور مزید نقصان کے سوا کیا حاصل ہونا تھا۔

واویلے پر لگائی توانائی اگر معاشی میدان میں صرف کی جاتی تو آج حالات کچھ بہتر ہو سکتے تھے۔ کاروبار کا بیڑہ غرق ہونے کا بڑا سبب احتساب کے نام پر اندھا دھند لٹھ بازی بھی رہی۔ ہم ایسے شروع دن سے چیخ رہے تھے کہ احتساب کے نام پر اچھل کود کا حاصل وصول کچھ نہیں ہو گا بلکہ اس سے ملکی معیشیت کا بالکل بھٹہ بیٹھ جائے گا۔ شکر ہے کہ خرابی بسیار کے بعد ہی سال کے آخر میں نیب کو بھی قاعدے میں لانے کی سوچ پیدا ہو گئی۔

محظ نیب کے پر کترنے سے لیکن بہتری کی زیادہ امید نہیں۔ جب تک حکومت اپنی انتقامی نفسیات کو لگام نہیں دے گی بہتری آ ہی نہیں سکتی۔ حکومت کو اپنی گزشتہ پالیسیوں پر نظر ڈالنی چاہیے اور ناکامیوں کا سبب بننے والی حماقتوں اور غلطیوں کی فہرست پر بنا کر ملکی و قومی سفر کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالنے کے لیے اپوزیشن کو ساتھ بٹھا کر آئندہ کا متفقہ لائحہ عمل تریتب دینے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے عوام کی کثیر تعداد مزدور، کسان اور اسی طرح کے نچلے طبقات پر مشتمل ہے جو لکیر غربت سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ جن کو پیٹ بھرنے کے لیے غذا میسر نہیں تن ڈھانپنے کو جنہیں کپڑا حاصل نہیں جن کے سر پر سائباں نہیں۔ ذاتی ایجنڈے کو پس پشت ڈال کر ان طبقات کی حالت بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ بھی ملک عزیز چہار اطراف سے مشکلات میں گھرا ہے۔ ان میں بہت سے چیلنجز داخلی محاذ پر ہیں اور بہت سے خارجی محاذ پر۔

وطن عزیز کی شہ رگ پر اسی سال کے ماہ اگست سے دشمن پوری طرح قابض ہو چکا ہے۔ وہاں بسنے والے ہمارے اسی لاکھ بھائیوں کو اس نے محصور کر کے ہر قسم کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر رکھا ہے اور ان نہتے و معصوم لوگوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ لیکن اپوزیشن اور حکومت کی لفظی جنگ اور اندرونی شور غوغے میں ہم ان کے لیے کماحقہ آواز نہیں اٹھا سکے۔ اب ادراک ہو جانا چاہیے ان تمام چیلنجز سے عہدہ برآ اسی وقت ہوا جا سکتا ہے جب قوم متفق و مستحکم ہو گی۔

باہمی تعاون، اخوت اور بھائی چارہ بالکل قصہ پارینہ بن چکا ہے اور اس کمزوری پر فی الفور قابو پانا وقت کی ضرورت ہے۔ حکومت قائم ہوئے عرصہ گزر چکا اب اپوزیشن مائنڈ سیٹ سے باہر نکلنا ہو گا جب تک قوم کے تمام طبقات ملکی بقا سلامتی اور استحکام کو نصب العین بناکر اپنی اپنی جگہ خلوص نیت سے کام نہیں کریں گے حالات نہیں بدل سکتے۔ اتفاق رائے کے قیام کا بڑا دارومدار حکومتی رویے پر ہے کیونکہ اگر حکومت نفرت و عقیدت پر مبنی تعصبات کو سرکاری وسائل سے بڑھاوا دیتی رہے گی تو کسی صورت اتفاق رائے نہیں ہوگا۔

دو ہزار انیس میں سب برا ہی نہیں ہوا بلکہ اس کے آخر میں عدالتوں نے کچھ اہم فیصلے بھی سنائے۔ سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کا فیصلہ جمہوریت کے مستقبل کے لیے نہایت خوش آئند تھا۔ اس کے علاوہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق دیا گیا فیصلہ بھی نہایت اہمیت کا حامل تھا۔ آج سے نئے سال دو ہزار بیس کا سورج حسب سابق امید و توقعات کی کرنیں لے کر طلوع ہو رہا ہے۔ مستقبل کا علم اس ذات کی ملکیت ہے جس کے ”کن“ کہنے سے کہکشاں میں گردش پیدا ہوتی اور وقت کا گھڑیال چلتا ہے۔

لہذا کہہ نہیں سکتے کہ اس نئے برس میں ہمارے لیے نیا پن ہو گا خوشخبریاں ہوں گی یا ہمارے حالات وہی رہیں گے جو آج سے قبل تھے۔ رب ذوالجلال سے دعا ہی کر سکتے ہیں کہ نئے برس میں ہم امن و سلامتی سے رہیں، ہمارے دلوں سے نفرت و کدورت کا خاتمہ ہو، برداشت و احترام کا حوصلہ ہمیں نصیب ہو جائے اور خوشحالی اب ہمارا مقدر بنے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *