2020 کا پہلا کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے تو سب مایا ہے مگر بظاہر ایک کائنات ہے جس میں ‌موجود اربوں کہکشاؤں میں ایک کہکشاں ”راہ شیر“ یعنی Milky Way نام کی ہے، جس کے اربوں سورجوں میں سے ایک سورج کے گرد سیاروں کے ہجوم کو ”نظام شمسی“ کا نام دیا گیا ہے۔ اس نظام میں ایک سیارہ زمین نام کا ہے۔ اس کرہ ارض پر ”پاکستان“ کے نام سے ایک ملک ہے جس کا سب سے بڑا کوئی پونے دو کروڑ آبادی والا شہر کراچی ہے۔ کراچی میں ایک مقام ”کلفٹن“ نام کا ہے۔ اس میں ایک علاقے کا نام ”گزری“ ہے۔

شہر کے مرکز سے آتے ہوئے ایک پل ہے جس کے بائیں جانب ”کوثر میڈیکوز“ نام کی ایک بہت پرانی اور معروف دوائیوں کی دکان ہے جو پریمیر آرکیڈ نام کی ایک کثیرالمنزلہ عمارت کے نیچے واقع ہے۔ اس کے اوپر دوسری منزل پہ ایک فلیٹ ہے جس کے ماسٹر بیڈ روم میں، میں 2019 اور 2020 کے عین ملاپ کے وقت لیٹا، موبائل پر فیس بک کو Scroll یعنی اوپر نیچے کر رہا تھا۔ باہر سے دوچار ہلکے پھلکے اور ایک دو دھماکہ دار پٹاخوں، چند ”چرچریوں“ کی صدائیں آئیں۔ گھر میں ایک خاتون بیرسٹر، ایک خاتون ڈاکٹر، ایک خاتون بزنس ماسٹر بے سدھ خوابیدہ تھے کیونکہ سبھوں کو صبح ساڑھے سات سے ساڑھے آٹھ تک اپنے اپنے دفاتر جانا ہے۔ نہ 31 دسمبر کی چھٹی تھی نہ یکم جنوری کی ہے۔ بس یہ تھا پرانے اور نئے سال کا ادغام۔

مجھے جن دو چار لوگوں کو پاکستان میں نئے برس کی مبارک باد دینی تھی وہ بارہ بجنے سے پہلے دے چکا تھا کیونکہ سبھی بارہ بجے کے قریب سونے کے عادی ہیں۔ ماسکو میں وہاں کے بارہ بجے فون کر نہیں سکتا تھا کیونکہ تب یہاں صبح کے دو بجے ہوتے۔ دو برس پہلے دھابیجی کے واٹر پمپ میں کوئی خرابی ہو گئی تھی جو آج تک درست نہیں ہو پائی اس لیے اس نام نہاد ”پوش“ علاقے میں بھی پانی کی راشننگ ہے۔ پانی صبح سات بجے تا آٹھ بجے دیا جاتا ہے جو اپارٹمنٹ کے تینوں باتھ رومز میں موجود بالٹیوں اور ڈرموں میں ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ گیزر گیس کی کمی کی وجہ سے ویسے ہی خاموش ہے۔ مطلب یہ کہ صبح سات بجے تو پانی بھرنے کے شور سے ویسے ہی جاگنا ہوتا ہے اس لیے بہتر ہے ساڑھے چھ اٹھ کر نماز فجر ادا کر لی جائے۔

اسی لیے ماسکو میں موجود اپنے بچوں کو رات ساڑھے گیارہ بجے فون کرکے آنے والے سال کی مبارک دے دی تھی۔ 29 دسمبر 2019 کو ماشا اللہ گیارہ برس کے ہوئے اپنے فرزند مرزا تمجید مخمدووچ کو مبارک باد دیتے ہوئے رونا رویا کہ یہاں تو نیا سال منایا ہی نہیں جاتا تو کہنے لگا ہاں نہ پاپا آپ کا ملک ”اسلامی ملک“ ہے۔ میں نے بتایا کہ نہیں بھائی معاملہ یہ نہیں، متحدہ عرب امارات بھی تو مسلمانوں کا ملک ہے مگر وہاں تو جوش و خروش سے نیا سال منایا جاتا ہے تو کہنے لگا، ”پاپا وہاں تو سیاح بہت ہوتے ہیں اس لیے“۔ بھئی یہاں خوشی منانا ممنوع ہے۔ نوجوانوں کو ساحل سمندر پر جانے سے روکا جاتا ہے۔ دوسرے بڑے شہروں میں دفعہ 144 نافذ کی جاتی ہے تاکہ چار یا چار سے زیادہ لوگ جمع نہ ہوں، یہ سن کے اس نے منہ بنایا۔

بات یہ ہے کہ نیا سال تو میں بھی شاید ڈیڑھ عشرے سے نہیں منا رہا مگر جو مناتے ہیں ان کو دیکھ کے خوش ہونا کوئی بری بات خیال نہیں کرتا۔ روس میں تو نیا سال ایسے ہوتا ہے جیسے بہت بڑا تہوار کیونکہ وہاں اول تو کرسمس کی تاریخ 7 جنوری ہوتی ہے، دوسرے یہ کہ کمیونزم کے دور کی پون صدی کے بعد ولادت مسیح منایا جانا گرجا گھروں تک محدود ہے۔ دو ہی بڑے تہوار ہیں ”سال نو“ اور ”8 مارچ“۔ ان دونوں تہواروں ‌ پر ایک دوسرے کو تحائف دیے جاتے ہیں۔ 31 دسمبر سے نو جنوری تک چھٹیاں ہوتی ہیں۔ شہر کے چوکوں میں کرسمس ٹری 15 دسمبر سے ہی نصب اور منور کر دیے جاتے ہیں۔ نئے سال کی تیاری کے سلسلے میں بچوں اور بڑوں کے لیے تفریح کے اہتمامات کیے جاتے ہیں۔

نیا سال منایا جانا خالصتا ”گھریلو تہوار ہے جسے انواع و اقسام کے سامان اکل و شرب سے سجی میزوں ‌کے گرد کنبے کے افراد اور دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے منایا جاتا ہے۔ بارہ بجے سے عین پانچ منٹ پہلے صدر روس ٹی وی پر نمودار ہو کر تہنیتی تقریر کرتے ہیں۔ تقریر ختم ہوتے ہی بارہ بجے کا گجر بجتا ہے اور صدر مملکت کی مبارک باد کے ساتھ ہی صدر کے ساتھ ساتھ سب اپنے جام اٹھا لیتے ہیں۔ ایک دوسرے کو مبارک باد دی جاتی ہے، گلے لگایا جاتا ہے۔ پھر فنکشن صبح تک جاری رہتا ہے۔ بارہ بجے کے بعد سرکاری“ سالیوت ”یعنی آتش بازی کے بعد پٹاخوں اور آتش بازیوں کا شور تین بجے تک آنکھ نہیں لگنے دیتا۔

البتہ صبح ٹی وی پر دکھایا گیا کہ پاکستان میں بھی نوجوانوں نے حکومت کی ایک نہ سنی۔ سمندر پر بھی پہنچے اور بحریہ ٹاؤن والوں نے آتش بازی کا بھی زبردست انتظام کیا۔ خوشیوں کو چاہے جتنا مرضی روک لو، لوگ خوشی منا ہی لیتے ہیں۔ خوشی منانے کی راہ میں روڑے نہیں اٹکانے چاہییں، ویسے بھی ہمارے ہاں دکھ ہی دکھ ہیں۔ گیس کی کمی سے مہنگائی تک۔ عسرت سے غلاظت تک۔ تعلیم کے فقدان سے صحت کے حصول کو رسائی تک۔ وغیرہ وغیرہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply