جمہوریت سے درندگی کی جانب سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ھندوستان کی سب سے بڑی طاقت تو تھی ہی جمہوریت اور سچ تو یہ ہے کہ اسی بنیاد پر اسے دنیا میں ایک احترام اور اعتبار بھی حاصل تھا لیکن کسے معلوم تھا کہ تعصب کا مارا ہوا ایک نفسیاتی مریض دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کا انتظام سنھبالے گا اور اسے بد ترین فاشزم کی طرف دھکیل دے گا۔ اگر صرف الیکشن جیتنا ہی معیار ہے تو پھر ہٹلر اور مسولینی بھی تو الیکشن جیت گئے تھے لیکن مجموعی طور پر ان کی کاکردگی کیا رہی اور انجام کیا ہوا؟ ہر کوئی تو ابراھم لنکن اور نیلسن منڈیلا جیسے نہیں بنتے۔

سو ہندوستان کا نریندرا مودی، ہٹلر اور مسولینی سے بھی بد تر راستوں پر چل پڑا اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کو ایک تماشا بنا کر رکھ دیا۔ تبھی تو گجرات میں بد ترین فسادات میں مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہانے کے بعد جب اس نے دہلی کا رُخ کیا تو اگلا ٹارگٹ بھی مسلم اکثریتی کشمیر کو بنایا اور پھر کشمیر کے حوالے سے ایک جابرانہ آئینی ترمیم اور خوفناک محاصرہ جمہوریت تو کیا انسانیت کے لئے بھی کسی گالی سے کم نہیں۔

ھندوستان کی سر بلند دانشور اور انسانی حقوق کی علمبردار ارون دھتی رائے کے بقول ہم ابھی کشمیر میں ہونے والی درندگی کو رو رہے تھے کہ نریندرا مودی مزید آگے بڑھا اور پورے ہندوستان کی اقلیتوں خصوصًا مسلمانوں کی زندگی اجیرن کر دی، حال ہی میں مودی نے متنازعہ ترمیمی شہریت بل ایوان بالا راجیہ سبھا سے بھی منظور کروایا اور اب اس پر صرف صدر کے رسمی دستخط ہی باقی ہیں۔

اس بل کے ذریعے تمام اقلیتوں با الخصوص ان بیس کروڑ سے زائد مسلمانوں کو ہدف بنایا گیاہے جو ہندوستان کے شہری ہیں اب انہیں اپنے ہی ملک میں ایک پیچیدہ اور تضحیک آمیز طریقہ کار کے ذریعے یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ میں اس ملک کا حقیقی اور وفادار شہری ہوں ورنہ وہی ہوگا جو برما میں روھنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہوا یعنی دربدری اور تضحیک!

لیکن ابھی انسانیت مری نہیں اور شعور کی مشعل بجھی نہیں اس لئے بل جوں ہی پارلیمنٹ میں پیش ہوئی تو ساتھ ہی پورا ہندوستان تاریخ کے بد ترین ہنگاموں کی لپیٹ میں آیا۔ سات ریاستوں آسام تریپورہ، ناگا لینڈ، اروناچل پردیش، منی پور، میگالہ، اور مغربی بنگال میں تو عوام نے حکومتی مشینری کو یہاں تک مفلوج کر کے رکھ دیا کہ کشمیر کی حساس صورتحال کے باوجود بھی وہاں سے فوجی دستوں کو بلوانا پڑا لیکن صورتحال قابو میں آنے کی بجائے دن بدن بگڑتی جا رہی ہے حتٰی کہ علیحدگی کی لہر بھی عوامی احتجاج اور اشتعال میں سرایت کر گئی۔

آسام میں وزیر اعلٰی کے گھر پر عوام نے حملہ کر دیا، ریلوے سٹیشنز کو آگ لگادی، علی گڑھ یونیورسٹی مغربی بنگال کی جادو پور یونیورسٹی اور جامعہ اسلامیہ دہلی کے طالب علموں نے ایک طوفان اٹھا دیا ہے۔ آسام میں انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے جبکہ گوھاٹی میں غیر معینہ مدت تک سخت کرفیو نافذ کردیا گیا ہے جبکہ یونیورسٹیوں کے امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

اگلے دن انڈین فلم انڈسٹری کے سابق اداکار اور نریندرا مودی کی اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے شتروگھن سنہا نے ایک ٹی وی انٹرویو میں شدید غصے کے عالم میں مودی کے لئے چائے والا کا لفظ استعمال کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ اس چائے والے کی سوچ یہی ہے کہ ہندوستان میں نہ خود جیوں گا اور نہ ہندوستان کے لوگوں کو جینے دوں گا۔

شتروگھن سنہا ٹھیک ہی کہتا ہے کیونکہ تعصب اور تنگ نظری پاگل پن کی حدوں کو چھو لے تو اس سے لرزا دینے والے نتائج ہی برآمد ہوتے ہیں اور ہندستان کی بد قسمتی ملاحظہ ہو کہ دنیا کے دوسرے بڑے اور سوا ارب آبادی والے اس ملک کی باگ ڈور اس وقت ایک ایسے آدمی کے ہاتھ میں ہے جو شدید تعصب اور انتقام کے سبب اپنا ذہنی توازن بھی برقرار رکھنے میں ناکام نظر آرہا ہے اسی لئے تو گجرات کے وزیراعلٰی سے دہلی کے راج منتری (وزیراعظم) تک جہاں بھی طاقت اور اختیار اس کے ہاتھ آیا وہاں سے مسلمانوں کا بے آسرا لہو ہی بہتا دکھائی دیا۔

پتہ نہیں خوں کی اس پیاس میں وہ کون سی درندگی ہے جو سالہا سال سے بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے، اورتو اور اپنی درندہ صفت جبلت کی خاطر اپنے وطن کی جمہوری اقدار اور تہذیبی ورثے تک کو روندنے سے گریز نہیں کرتا دوسرے لوگ اس سے کسی انسان دوست روئیے کی کیا توقع رکھیں اور اگر پھر بھی کوئی ایسا کرے تو ان کے عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *