شریعت بل سے شہریت بل تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک طرف بھارت کے شہریت ایکٹ کو برسرِاقتدار بی جے پی اور اس کے حمایئتی تو دوسری طرف انسانی وشہری مساوات کا پرچم بلند کرنے والوں کی صف آرائی ہے۔ بارہ دسمبر 2019 ء کو بھارت کے صدر رام ناتھ کووند کے ترمیمی قانونِ شہریت پر دستخط کرنے سے پیشتر ہی مقامی اور بین الاقوامی سطح پر ردِعمل آنا شروع ہو گیا تھا جو تاحال جاری ہے۔ ان مظاہروں میں درجنوں قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہو چکی ہیں۔

البتہ یہ بات واضح ہوچکی کہ مودی حکومت کو محض اس بنِا پراپنی من مرضی نہیں کرنے دی جائے گی کہ پارلیمان میں اس کی جماعت کی اکثریت میں ہے یا وہ بھارت کے اکثریتی مذہب کی ترجمان ہونے کی دعوے دار ہے۔ ہندوستان کی بیشتر ریاستوں نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ اس متعصبانہ قانون کو اپنے علاقے میں لاگو نہیں کریں گی۔ ان کے نزدیک یہ قانون بھارت کے آیئن اور سیکولر نظامِ حکومت کے لئے خطرہ ہے۔ اس ایکٹ کے خلاف قرارداد کیرالہ کی اسمبلی میں وہاں کے چیف منسٹر نے خود پیش کی ہے۔ بنگال میں جلوسوں کی قیادت چیف منسٹر ممتا بینرجی نے کی، یوپی، بہار کے بعد، مہاراشٹرہ میں ایکٹ کی مخالفت زوروں پہ ہے۔

مبصرین کے خیال میں شہریت ایکٹ ایک فیصلہ کن معرکہ ہوگا۔ بھارت مستقبل میں بی جے پی کی مذہبی امتیاز کی روش پر چل کر ایک تنگ نظر معاشرت کی شکل اختیار کرے گا یا بلا تعصب نظامِ ریاست کی جانب پیش قدمی کرے گا۔ اس کا انحصار اب شہریت ایکٹ کے مستقبل پرہے۔

بھارت میں جاری اس سیاسی بحران کے ناتے پاکستان کی حکومت نے اپنا ردِعمل دیا ہے لیکن یہ سوچناضروری ہوگا کہ داخلہ ریاستی پالیسی کے ضمن میں ہم سے کیا غلطیاں ہویئں جن سے بچنا یا انہیں درست کرنا ضروری ہے۔ کیا خبر ہم اس آئینے میں اپنی تصویر کاجائزہ بہتر زاوئیے سے لے پائیں۔ اورہم ان غلطیو ں کو نہ دوہرائیں جو ہندوستا ن میں ہو رہی ہیں۔

1984 ء کے ریفرینڈم کے ذریعے جنرل ضیا الحق نے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر سے صدرِ پاکستان بن گئے تو 1985 ء کے غیر جماعتی انتخاب ممکن ہوے وزیرِاعظم محمد خان جونیجو کی حکومت بننے کے ایک سال کے دوران سینٹ میں ایک پرایؤیٹ ممبرز بل پیش کر دیا گیا جسے شریعت بل کہا گیا۔ بل کے محرکین جمعیت علماء اسلام کے دو گروپوں کے نمائندے تھے۔ حافظ حسین احمد (جے یو آئی۔ ف) اور قاری سمیع الحق (مدرسہ حقانیہ کے سربراہ جنہیں 2019 ء میں قتل کر دیا گیا) جو اپنے گروپ کے قائد تھے۔

بل کا مبینہ مقصد تو ملک میں قانون اور نظام کو اسلامی شریعت کے مطابق بنانا تھا مگر ایک رائے یہ بھی تھی کہ اس بل کے ذریعے ضیا الحق اور حمائیتی در حقیقت جونیجو حکومت کی باگیں اپنے ہاتھ میں رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ دوسرا خیال یہ تھا کہ پالیسی کے طفیل جب علما سینٹ میں آ ہی گئے تو ایسے بل کی توقع کرنی چاہیے کیونکہ وہ اپنے علم اور تجربے کے مطابق ہی قانون سازی کروائیں گے۔

1988 ء میں جونیجوحکومت کے خاتمے کے اڈھائی ماہ بعد ضیا الحق ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہوگئے مگر شریعت بل کی بازگشت بے نظیر بھٹو کے دورِ حکو مت ( 1990۔ 1988 ء) میں سنائی دیتی رہی۔ اگلی حکومت مسلم لیگ ( ن ) کی تھی جس نے یہ بل 1991 ء میں شریعت ایکٹ کے نام سے پاس کر دیا۔ اس ایکٹ کاقانونی و اطلاقی اثر ایک قراردادسے کچھ زیادہ نہ تھا لیکن عملاً ریاستی پالیسیوں میں جاری مذہبی امتیاز کے رحجان کو ایک اور قانونی جواز مل گیا۔

اس ایکٹ میں یہ اعادہ کیا گیا تھا کہ اکثریتی مذہب کے احکامات ہی ملک کا رواج اور ضابطہ (Grand Norm (ہونگے۔ قوانین قران و سنت کی روشنی میں بنیں گے۔ بے شک ایکٹ میں یہ درج تھا کہ مذہبی اقلیتوں کے پرسنل لاز متاثر نہیں ہوں گے۔ مگر پرسنل لا ز تو ملکی قوانین کا ایک محدود حصہ ہوتا ہے۔ لہذا یہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ شریعت ایکٹ 1991 کثرت پسندی نہیں اکثریت کی اجارہ داری کے جاری رحجان کا آیئنہ دار تھا۔

پھر مسلم لیگ ( ن ) کی دوسری حکومت کو 1998۔ 99 ء میں ایک اور شریعت ایکٹ پاس کرنے کا خیال آیا۔ نیا بل جس میں پاکستان کو مذید مذہبی ریاست بنانے کے عنوان پائے جاتے تھے اسے قومی اسمبلی سے با آسانی پاس کروا لیا گیا۔ مگر سینٹ میں اس بل کی مزاحمت ہوئی جہاں پاکستان پیپلز پارٹی اور قوم پرست جماعتوں کی اکثریت تھی۔ سول سوسائٹی ا ور انسانی حقوق کی طرف سے بھی اس بل کی شدید مخالفت کی گئی۔

یہی وجہ تھی کہ اکتوبر 1999 ء میں جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تو بینظیر بھٹو سمیت بہت سے لوگ لیگ سے اتنے ما یوس ہو چکے تھے کہ وہ اس کے خلاف غیر آیئنی اقدام کی قابل ِذکر مخالفت نہ کرسکے۔ شریعت بل کے ناتے لیگ اپنے مقاصد و سیاسی فکر کے ضمن میں شبہات پیدا کر چکی تھی۔

پھر 2005 ء میں مشرف دورِ اقتدار میں جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی کی سربراہی میں چلنے والے انخابی الحاق، متحدہ مجلسِ عمل کی طرف سے خیبر پختونخواہ اسمبلی میں ایک حَسبہ پیش کیا گیاجس کے تحت ایک متوازی نظامِ انصاف کی تشکیل دیا جانا تھا۔ لیکن صدرِپاکستان کے ریفرنس پر سپریم کورٹ نے حَسبہ بل کو آیئن ِ پاکستان کے منافی قرار دے دیا۔

شریعت بل اور اس جیسے مطالبات کی بازگشت پاکستان میں باربار سنائی دیتی رہی۔ ہمارے کئی قوانین جو آج مسلمہ نا انصافیوں کے باعث باعث ِ تنقید بنتے ہیں اسی ساخت اور درسے آئے۔ یہ باز گشت کبھی لال مسجد پر قبضہ جیسے سانحات میں سنائی دیتی کبھی دھرنو ں کی شکل میں سیاسی و معاشی ہیجان بپا کرتی ہے۔

یہ کہنا بجا ہوگا کہ شریعت ایکٹ کوئی واقعہ یا چند واقعات نہیں بلکہ ایک رحجان ہے جس کا آغاز پاکستان میں قائدِاعظم کی رحلت کے کچھ عرصہ بعد ہوا۔ 1949 ء میں قراردادِمقاصد پاس ہوئی تو مولانا مودودی اور ساتھیوں کی طرف سے تجویز آگئی کہ پاکستان میں غیر مسلم شہریوں کو ذمی قرار دے کر ان سے جزیہ (اضافی ٹیکس) وصول کیا جائے۔ جزیہ تو نہیں لگالیکن 1956، 1962 اور 1973 ء کے تینو ں دَساتیر، قوانین اور ریاستی پالیسیوں میں مذہبی اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کا سامان کردیا گیا اس رحجان میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا۔

تعلیمی نظام میں اکثریتی مذہب کی تعلیم لازم ہے لیکن دوسرا کوئی مذہب نصاب کا حصہ نہیں۔ اقلیتی طلباء کو یہ آپشن دیا جاتا ہے کہ وہ اخلاقیات کا مضمون پڑھ سکتے ہیں۔ اس آپشن میں تعلیمی اداروں میں تعصب اور امتیاز کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اس وجہ سے 80 فی صد سے زائداقلیتی طلباء مجبوراً اسلامیات ہی پڑھتے اور پاس کرتے ہیں (مطالعہ : ادارہ برائے سماجی انصاف) ۔

اقلیتی عقیدے کے افراد کے صدر اور وزیرِاعظم بننے پر آیئنی پابندی ہے لیکن آئے دن سرکاری محکموں کی طرف سے شائع ہو نے والے اشتہارات خاکروب کی آسامیاں غیر مسلموں کے لئے مخصوص کرتے ہیں۔ 1972 ء میں جو مشنری سکول بلا کسی زرِ تلافی ادا کیے قومی تحویل میں لے لئے گئے تھے، 2019 ء تک ان میں سے آدھے بحقِ سرکا ر بھاری رقوم کے عوض واپس کیے گئے۔ 5 سکولوں اور دو کالجوں کی واپسی گزشتہ دہائیوں سے معرضِ التواء میں ہے۔ اس لیے کہ سابق مالکان (کلیسائیں ) مالی استطاعت، انتظامی سکت میں کمزوری کے ساتھ ساتھ سماجی اثر کھو ہو چکی ہیں۔

خواندگی کے اشاریوں کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے۔ کہ ہندو برادری کے افراد شرحِ تعلیم میں اوسط پاکستانیوں سے 20 فی صد اور مسیحی 11 فی صد پیچھے ہیں۔ اقلیتی خاندانوں میں بچوں شرح ِاموات پا کستان میں اوسط شرح سے دو فی صد زیادہ ہیں، جس سے صحت اور آمدن کے حوالہ سے ان کی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکتاہے۔ ماضی کی نسبت مذہبی اقلیتیں معاشی، معاشرتی اور سیاسی میدانوں میں پسماندہ ہو چکی ہیں۔ اب اے آرکارنیلئس تو کیا، کوئی آئرین پروین اور اے نئیر پیدا ہو جائیں توبڑی بات ہے۔ اگر اس صورت حال وجہ امتیازی ریاستی پالیسیوں میں پائے جانے والی حقوق اور مواقع کی عدم مساوات نہیں تو کیاہے؟

پاکستان کے شریعت اور بھارت میں شہریت ا یکٹ کی خاصیت اور مماثلت یہ ہے کہ یہ مذہب کی بنیاد پر شہریوں میں تخصیص، تفریق اور ترجیح قائم کر تے ہیں۔ پاکستان میں اس رحجان کے محرک مولانا مودودی اور اس رحجان کے چیمپئن نریندرمودی ہیں۔ دونوں کے میں ساٹھ برس کا فرق ہے اس لئے مولانا کو مودی کا پیشرو کہنا پڑے گا۔

شہریت ایکٹ ( ترمیم شدہ ) میں افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کی اقلیتوں کو بھارت کی شہریت اختیار کرنے کی اجازت دی گئی مگر مسلمان شامل نہیں۔ جس کافوری اثر تویہ ہوگاکہ آسامی مسلمان بے وطن بن جائیں گے۔ لیکن ترمیم کے اثرات ایک طرف، اس پر احتجاج کرنا درست اور ضروری ہے کیونکہ انسانوں کے یکساں احترام کے اصول سے انحراف کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایات پر کوئی ملک یہ کہ کر جان نہیں چھڑوا سکتا کہ یہ اس کا داخلی معاملہ ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی جوابدہی کوممکن بنانا ہوگا۔ چونکہ کوئی ملک بلا تعصب اور بلا امتیازحقوق کے نفاذکے بغیر ترقی اور امن کے راستے پر پیش قدمی نہیں کر سکتا۔

حکومت ِپاکستان نے سکھ برادری کے مذہبی عقائد کے احترام میں کرتار پو ر بارڈر کھول کر جس سفر کا آغاز کیا ہے وہ انسانوں کو ملکی سرحدوں سے آگے اس دنیا کا شہری ماننے اور انسانی کنبے کا احترام ممکن بنانے تک جاتا ہے۔ اس سفر میں ماضی کی غلطیوں کی درستی کے ساتھ نئی دریافتوں او ر نئی منزلوں کے امکان بھی روشن ہیں۔ کاش 2020 ء ایسی کئی اچھی خبروں کا سال ہو۔ نیا سال مبارک ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *