کیا اقلیتیں سیکولرازم سے محفوظ ہوتی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لیجئے صاحب، بھارت میں سیکولرازم کو خطرہ ہے۔ سیکولرازم ہی بھارت میں مسلمانوں کے تحفظ کا ضامن ہے۔ اگر بھارت ہندوتوا کا شکار ہو گیا تو وہاں رہنے والے مسلمان اور دیگر اقلیتیں غیر محفوظ ہو جائیں گی۔ مودی نے دوقومی نظریے کی ضرورت کو تقویت دی۔ اچھا صاحب یہ ساری باتیں ہم آج کل سنتے ہیں۔ اور یقین مانیے، سننے میں بڑی بھلی بھی لگتی ہیں۔

تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھیے ذرا۔ ہم اپنے ملک کے لئے کونسا نظام چاہتے ہیں؟ اسلامی یا سیکولر؟ ظاہر ہے اسلامی نظام۔ تو بھائی پھر گلہ کس سے کر رہے ہیں؟ ستر سال کی منافقت کا یہ ہی نتیجہ نکلنا تھا۔ دیکھو ہم ایک مکمل مذہبی ملک بنیں گے، اسلامی قوانین نافذ کریں گے۔ اقلتیوں کے ساتھ ہم جو چاہے کریں، لیکن تم اپنا نظام سیکولر ہی رکھنا۔ خبردار جو تم نے ایک مذہبی ریاست، یا دھارمک سرکار بننے کی کوشش کی۔ کیونکہ تمھارے دیش میں جو اقلیتیں ہیں، وہ ہماری ہیں، ہم ان کے ہیں۔ ہم ان کے تحفظ کے بھی ٹھیکیدار ہیں۔ لیکن جو ہمارے ملک میں اقلیتیں ہیں، ہم ان کے ساتھ جو چاہے کریں۔ کسی کو ہماری داخلی خودمختاری میں دخل اندازی کا کوئی حق حاصل نہیں۔

اچھا صاحب مان لی آپ کی بات لیکن یہی بات تو ابوالکلام آزاد اور کتنے ہی لوگ سمجھا رہے تھے کہ مسلمانوں کی طاقت کو تقسیم مت کرو۔ اب یہاں پہ غداری کا فتویٰ تو ضرور لگے گا، دو قومی نظریے کے تقدس کو پامال کرنے کا الزام بھی لگے گا۔ اور بدقسمتی سے اس الزام کے بعد کوئی ملزم نہیں بنتا، بلکہ سیدھا مجرم بن جاتا ہے۔ چلئے یہ بھی تہمت لگائیے، لیکن خود سے سوال تو کیجئے۔ چلئے تنہائی میں سوال کر لیجئے جہاں ریاست کی پہنچ نہ ہو۔ کہاں سے چلے تھے، کہاں پہنچے؟ کیا برصغیر کے مسلمانوں کی طاقت تقسیم ہو کرتین حصوں میں نہیں بٹ گئی۔ قریب ستر کروڑ مسلمان تین ملکوں میں تقسیم نہیں ہو گئے؟ اور پس گئے بیچارے وہ جنہوں نے مٹی کا قرض اتارنے کی کوشش کی، اپنی ماں دھرتی کو چھوڑنے سے انکار کر دیا۔

چلئے یہ بحث بھی ضمنی ہے۔ بٹوارہ ہو گیا۔ بہت اچھا۔ لیکن یہ کونسی تجربہ گاہ ہے جس میں اقلیتوں پر تجربے کرتے کرتے ہم نے انہیں تئیس فیصد سے تین فیصد پر لا کھڑا کیا ہے۔ کہاں گئے پاکستان کے موجودہ علاقے میں رہنے والے ہندو، عیسائی، پارسی اور یہودی؟ کہاں گئے وہ لوگ جنہوں نے اسی ملک میں اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا تھا؟ کچھ تو غلط کیا ہو گا ہم نے؟ کیا سیکولرازم جو بھارت میں اقلیتوں کے تحفظ کا ضامن ہے، کیا وہی سیکولرازم پاکستان کی اقلیتوں کو تحفظ نہیں دے سکتا تھا؟ قائداعظم کی سبھی تقریریں ہمیں ازبر ہیں۔ نہیں سننا چاہتے تو ایک گیارہ اگست کی تقریر نہیں سننا چاہتے۔ جناح ایک زیرک اور مدبر رہنما تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں یہ مسئلے پیدا ہوں گے، اسی لئے قانون ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں وہ رہنما اصول بتا دئیے کہ اب جب کہ بٹوارہ ہو چکا ہے، آپ آزاد ہیں چاہے مندروں میں جائیں مسجد میں جائیں یا گوردوارے میں۔ تو بتائیے کہ اگر زندگی قائد کو مہلت دیتی تو کیا قراردادِ مقاصد اسی اسمبلی سے منظور ہو سکتی تھی؟ اس سوال کا جواب آپ خود تلاش کر لیجئے۔ لیکن حتمی جواب تک پہنچنے سے پہلے کڑیاں ضرور ملا لیجئے اور سرپھرے سوالوں کو حب الوطنی کے قالین تلے دھکیلنے سے پہلےایک بار صرف ایک بار دلیل کی کسوٹی پر بھی پرکھ لیجئے۔

پھر بات ماضی کے طرف نکل گئی۔ واپس آتے ہیں آج کے حالات کی طرف۔ بات وہی کہ ہم برادر اسلامی ممالک کی چھتری تلے ایسے گھسے کہ ہماری معیشت سے لے کر ثقافت تک سب بری طرح کثیف ہو گئی، لیکن ہم اپنے رشتے مٹی کی بجائے ان ریگزاروں میں تلاش کرتے ہیں جو ہمیں ہندوستانی سمجھتے ہیں۔ ذرا کسی برادر اسلامی ملک میں جا کر نام لیجئے محمد بن قاسم کا، محمود غزنوی کا، ظہیرالدین بابر کا اور طارق بن زیاد کا۔ پھر سنئے ان کا جواب۔ تب آپ کو پتہ چلتا ہے کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا، یا تین میں نہ تیرہ میں اور کسی بھی اور محاورے یا ضرب المثل کے مطابق اپنی کیفیت کو لفظی جامہ پہنا دیجئے گا، لیکن سوال تو کیجئےاور پھر دیکھئے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔

روزمرہ کی زندگی میں جب کوئی نوجوان کیرئیر کے حوالے سے بھٹک رہا ہو تو ہمارا پہلا مشورہ یہ ہوتا ہے کہ بھیا پہلے اپنا ذہن صاف صاف بنا لو کہ کرنا کیا چاہتے ہو۔۔۔ اب اگر اسی اصول کو قومی زندگی پر منطبق کریں اور یہ کھوجنے کی کوشش کریں کہ ہم بحیثیتِ قوم پہنچنا کہاں چاہتے ہیں۔ اگر ہمیں ایک ملائی ریاست بننا ہے تو کیوں نہ سب سرکاری دفتروں اور کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر کو مٹا دیں کہ ایسا کرنے سے تو وہ واضح طور پر منع کر چکے تھے، اور کیوں نہ ہر تہوار پر گھسے پٹے بیانات دینا بند کر دیں کہ ہم پاکستان کو قائد کا پاکستان بنائیں گے وغیرہ وغیرہ۔۔ اور اگر ہمیں پاکستان کو ایسا ملک بنانا ہے جس میں تمام شہری برابر ہوں، چاہے کوئی شخص مسلمان، عیسائی، ہندو، سکھ، پارسی، احمدی یا کچھ ہے، یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ ریاست سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرے گی، سب کو ایک جیسے حقوق دے گی۔ کوئی بھی شخص خواہ اس کا عقیدہ کچھ بھی ہو وہ صرف اپنی محنت کے بل پر خاکروب سے صدرِ پاکستان بن سکتا ہو، تو پھر ہمیں لفظ سیکولر سے اتنی چڑ کیوں ہے؟ کیا قائدِ اعظم سیکولر نہیں تھے؟

گذشتہ دنوں شاید ایک اشتہار آپ کی نظر سے گزرا ہو جس میں درج تھا کہ صفائی کے لئے کرسچین لڑکے کی ضرورت ہے۔ کیا ایک عیسائی شخص صرف گٹر صاف کرنے کے لئے پیدا ہوتا ہے؟ ریاست اس کو یکساں موافق ماحول دے کر ترقی کا موقع کیوں نہیں دے سکتی؟

مندر پر حملہ ہو گیا، چرچ کو آگ لگا دی گئی، احمدی عبادت گاہ منہدم، یہ سب سنی سنی سی باتیں نہیں لگتیں آپ کو؟ اب ایسا کون کرتا ہے؟ وہ جو اسلام کے بزعمِ خود ٹھیکیدار ہیں؟ بھیا ایسا اسلام آپ کو ہی مبارک۔ آپ اپنے گھر میں جو مرضی کیجئے، لیکن ریاست کو ڈنڈے کے زور پر مسلمان کرنے کی کوشش مت کیجئے۔ پرچم میں جو سفید رنگ ہے وہ قائداعظم اور دیگر اکابر نے کچھ سوچ سمجھ کر رکھا تھا، اس پر ہرا رنگ کرنے کی کوشش مت کیجئے۔ قائد کا پاکستان بنانا ہے تو سفید رنگ کو چمکنے دیجئے۔ بھلا لگتا ہے۔ اور ہاں جب اپنے ملک میں اقلیتوں کو تحفظ فراہم کر چکیں تو پھر کسی اور دیش کی اقلیتوں کے بارے میں سوچ کر ہلکان ہو جائیے گا، گو اس کا حق بھی شاید ہمیں حاصل نہیں، آخر کو یہ دیوار ہندوتوا نے تو کھڑی نہیں کی!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *