جنوری، جانوس اور دروازے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نئے سال کا پہلا مہینہ جنوری۔ پہلا دن جنوری کا کچھ خود کلامی میں گذرتا ہے۔ گذرے سال کے واقعات اور حوادث فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے سے گذرتے ہیں۔ کبھی کوئی لمحہ لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتا ہے اور کہیں دل کو اداسی گھیر لیتی ہے۔ کچھ پسشیمانیاں بھی دامن پکڑتی ہیں۔ کاش اس وقت یہ نہ کیا ہوتا، یہ نہ کہا ہوتا، یہ کر لیا ہوتا، یہ کہہ دیا ہوتا۔ پھر یادوں کو جھٹک کر نئے سال سے عہد و پیماں باندھنے کا سوچا جاتا ہے۔

اس سال بہت سی کتابیں پڑھیں گے، سوشل میڈیا سے کچھ کچھ دوری رکھیں گے، جھوٹ کم بولیں گے، باقاعدگی سے جم جایں گے۔ دوستوں سے ملنا ملانا رکھیں گے۔ ایک دوسرے کے حال سے باخبر رہیں گے۔ جو روٹھے ہوئے ہیں انہیں کسی طرح منا لیں گے۔ جن سے محبت ہے ان سے اظہار کریں گے۔ جو غلطیاں پچھلے سال کیں، انہیں درست کریں گے۔

دیکھا آپ نے نئے سال کے عہد باندھنے کے لیئے ہمیں پچھلے سال کو سامنے رکھنا پڑتا ہے۔ یہ پیچھے جھانکنا اور آگے دیکھنا جنوری مہینے کا خاصا ہے۔

جنوری مہینہ کا نام رومن میتھالوجی کے دیوتا جانوس سے لیا گیا ہے۔ یہ دیوتا دو چہروں والا ہے۔ اور دونوں چہرے دو مختلف سمتوں میں دیکھ رہے ہیں۔ ایک گذرے زمانے یعنی ماضی کی طرف اور دوسرا آنے والے وقت یعنی مستقبل کی طرف نگاہ رکھے ہوئے ہے۔  جانوس نام لاطینی زبان کے لفظ جانوا سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں دروازہ۔ جانوس کو دروازوں، راہداریوں، پلوں اور تبدیلیوں کا خدا مانا جاتا ہے۔ ، ایک دورکا اختتام اور دوسرے کی ابتدا اس سے منسوب ہے۔ ماننے والے یہ بھی مانتے ہیں کہ جانوس کی ذمہ داری یہ بھی تھی کہ وہ بدی کی قوتوں کو دور رکھے۔ اسی لیے اس کا ایک چہرا پیچھے کی طرف تھا تاکہ وہ دشمنوں پر نگاہ پہ رکھ سکے۔ جنگ کو روکنے اور امن کی طرف جانے کا راستہ بتانے والا بھی جونس کو سمجھا جاتا ہے۔ روم میں بڑے دروازوں اور گیٹس کو جانوس کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔

عام طور پر رومن دیوتا کا کوئی یونانی ہم منصب بھی رہا ہے۔ کیونکہ یہ دونوں میتھالوجی ساتھ ساتھ رہیں ہیں اور ان کا تعلق مذہب سے رہا ہے۔ لیکن جانوس وہ واحد رومن دیوتا ہے جس کا یونانی ہم پلہ کوئی نہیں۔ اسی لیے شاید جانوس کو مذہبی دیوتا کی بجائے ایک رہنما اور لیڈر زیادہ مانا جاتا ہے۔

تبدیلیوں کے اس دیوتا پر بھاری ذمہ داریاں تھیں۔ وہ وقت کا دیوتا بھی تھا۔ فصلوں کے بونے اور ان کے تیار ہونے میں بھی جانوس کا ہاتھ سمجھا جاتا تھا۔ زندگی میں کوئی نیا موڑ آئے، شادی، مرگ، پیدائش ہر موقع پر جانوس کو یاد کیا جاتا تھا۔

مستقبل پر نظر اور ماضی پر نگاہ شاید ایک رکاوٹ سی لگے۔ لوگ کہتے ہیں کہ آپ جب تک آپ پیچھے دیکھتے رہیں گے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اور کچھ کا خیال ہے کہ آپ ماضی کو یاد رکھ کر ہی مستقبل میں داخل ہو سکتے ہیں۔ آپ کی موجودہ زندگی جو ہے وہ ماضی میں کیے گئے اعمال اور فیصلوں سے ہے۔ خوشخبری یہ ہے کہ آپ مستقبل کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ماضی سے سیکھ کر۔ یعنی آپ کا ماضی آپ کے حال پر تو اثر انداز ہو سکتا ہے لیکن مستقبل بنانا آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

کچھ کا خیال ہے کہ ماضی اور مستقبل کو چھوڑو، بس حال میں رہو۔ یعنی جو بھی ہے بس یہی اک پل ہے۔ ماضی کو آپ بدل نہیں سکتے، مستقبل کو آپ دیکھ نہیں سکتے اس لیے آپ کی نظر اور توجہ حال پر ہونی چاہیئے۔ ہم مستقبل کو دیکھ نہیں سکتے لیکن ہم آئندہ کے منصوبے ضرور بناتے ہیں۔

کچھ کہتے ہیں کہ ماضی کو بھلا دو۔ بس آگے بڑھو۔ لیکن یہ اتنا آسان نہیں۔ اور یہ ہونا بھی نہیں چاہیئے۔ ماضی کو یاد رکھنا چاہیئے۔ غلطیاں جو کی گیں ان سے سیکھ لیں۔ یقین جانیے ماضی میں جو کچھ غلط آپ نے کیا ہے اس کا اعتراف آپ اگر خود سے ہی کر لیں تو آئندہ کچھ اچھا کرنے کی خواہش دل میں جاگے گی۔ ماضی اور مستقبل دونوں پر نظر رکھیں۔ اپنے حال کو مطمین بنایں۔ مستقبل کے اہداف کی لمبی چوڑی لسٹ مت بنائیں۔ ایک وقت میں ایک ہی ہدف کو ترجیح دیں۔ جانوس کی طرح دونوں طرف نظر رکھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *