مسعود ملک مرحوم کی یاد میں ریفرنس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صحافیوں نے ہم سے بچھڑنے والے مسعود ملک مرحوم کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ مسعود ملک دسمبر میں ہم سے جدا ہوئے مرحوم نے ترکے میں اپنے لواحقین کے علاوہ بے شمار صحافیوں، سیاستدانوں اور تاجروں کو سوگوار چھوڑا ہے۔ مسعود ملک کی اصل شناخت نوائے وقت سے وابستگی اور پھر سبکدوشی رہی۔ انہوں نے پوری زندگی دل جوڑنے کے لئے کام کیا اور دل توڑنے والی ہر سرگرمی سے دور رہے۔ مرحوم نے دل توڑنے والی واحد بات اس وقت کی جب وہ اپنے بچوں، چاہنے والوں اور دوستوں کو روتا چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جاملے، اس کا گلہ اس لئے نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ایک دن ہم سب نے اپنے پیاروں کے دل توڑ کر اور انہیں روتا دھوتا چھوڑ کر اس دارِ فانی سے کوچ کرجانا ہے۔

مسعود ملک مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد ان کے ساتھ صحافتی جدوجہد کرنے والے دوست شاہزاد انور فاروقی نے کیا تھا۔ سٹیج پر جناب سینیٹر پرویز رشید، جناب رائے ریاض احمد، جناب ذوالفقار چیمہ، جناب شکیل قرار اور جناب طاہر خلیل جلوہ افروز دکھائی دیے۔ صحافیوں کی سدا بہار لیڈر محترمہ فوزیہ شاہد نے مسعود ملک مرحوم کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا البتہ مرحوم کے بچپن کے دوست امجد صاحب نے کافی سچی اور کھری باتیں کیں اور مسعود ملک کی زندگی کے کیے چھپے ہوئے پہلوؤں سے بھی صحافی دوستوں کو آگاہی بخشی۔

تعزیتی ریفرنس میں مسعود ملک مرحوم کی دی گئی اہم ترین خبروں کا تذکرہ نہیں ہوا البتہ ان کے جنرل پرویز مشرف سے کیے گئے ایک چبھتے ہوئے سوال نے پورے ریفرنس کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا۔ مسعود ملک کے بنکر دوست کا کہنا تھا کہ اس سوال نے ان کا کیریئر غرق کردیا اور ایک ہم عصر اخبار کے رپورٹر نے ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔

میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ مسعود ملک کی پوری صحافتی زندگی کو اس ایک سوال نے امر کردیا ہے۔ اگرچہ اس سوال نے ان کی معاشی حالت کو خراب کیا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس نوکیلے سوال نے صحافتی قبیلے میں آزادی صحافت کا راگ الاپنے والوں کو بے نقاب بھی کیا اور صحافتی برادری کو جرآت اور ہمت بھی عطا کی۔ جنرل پرویز مشرف کے روبرو بیٹھے ہوئے درجنوں صحافیوں میں سے مسعود ملک اور فراز ہاشمی نے ایسے سوالات کیے تھے جن سے جنرل پرویز مشرف اور ان کے ساتھی اپنی لائن اور لینتھ کھو گئے تھے۔

مسعود ملک مرحوم نے سوال کیا کہ جب ذوالفقار علی بھٹو بھارت گئے تو 90 ہزار قیدی چھڑا کر لائے اور پھر میاں نواز شریف گئے تو واجپائی کو پاکستان لائے، آپ (جنرل پرویز مشرف) بھارت سے کیا لائے ہیں؟ امریکہ کے سوا کسی سے نہ ڈرنے والے جنرل پرویز مشرف کو یہ سوال بہت ہی ناگوار گزار، چنانچہ جنرل راشد عزیز نے امریکی سٹائل میں نوائے وقت کے ایڈیٹر انچیف مجید نظامی کو فون کیا اور ان سے مسعود ملک کے سوال پر ادارے کی پوزیشن پوچھی تو مجید نظامی اس فون کال پر ڈھیر ہوگئے اور مسعود ملک کو ادارے سے فارغ کردیا گیا۔ یہ بالکل اسی طرح ہوا تھا جس طرح امریکی جنرل کولن پاؤل نے افغان جنگ پر جنرل پرویز مشرف سے پوچھا تھا کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا طالبان کے ساتھ؟ تو جنرل پرویز مشرف نے اس فون کال پر ہی ہتھیار ڈال دیے تھے۔

بہرحال اس سوال سے پہلے ایک عمومی تاثر تھا کہ مجید نظامی مرحوم ایک دبنگ اور اپوزیشن کا ساتھ دینے والے اخباری مالک ہیں لیکن جنرل راشد عزیز کی ٹیلی فون کال نے مجید نظامی کو جنرل پرویز مشرف بنا کر رکھ دیا اور مجید نظامی نے جنرل راشد عزیز کی کال کو وہی پروٹوکول دیا جو جنرل پرویز مشرف نے کولن پاؤل کو دیا تھا۔

اسی طرح اس پریس کانفرنس میں ایک چبھتا ہوا سوال ڈان اخبار کے رپورٹر فراز ہاشمی نے داغا تھا اور یہ پوچھ لیا کہ جو ڈالر باہر سے آرہے ہیں اس بات کی کیا گارنٹی ہے وہ ڈالر جرنیل تو نہیں کھا جائیں گے؟ اس سوال پر بھی جنرل راشد عزیز نے روزنامہ ڈان کے مالکان کو ”مطلوبہ نتائج“ کے لئے فون کیا تھا مگر ان کی طرف سے کورا جواب دیا گیا کہ ”مطلوبہ سہولت“ میسر نہیں ہے۔ چنانچہ خلائی مخلوق نے ڈان کے دفتر کے باہر فراز ہاشمی کے ساتھ آزادی اظہار پر ”اظہار محبت“ کرکے حساب برابر کردیا تھا۔

مسعود ملک مرحوم کو سینیٹر پرویز رشید نے بہت ہی خوبصورت الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ مسعود ملک ہم سے بڑے آدمی تھے، اس لئے ہم اپنے سے بڑے آدمی کو کیا خراج تحسین پیش کریں؟ سینیٹر پرویز رشید نے اعتراف کیا کہ ہمارے ماتھے پر تو لکھا ہے کہ ہمارا اصول جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق بیان کرنا ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اہل صحافت اور اہل سیاست دونوں ایک مخصوص حد تک ہی جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق ادا کر پاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بطور سیاستدان میں سمجھتا ہوں کہ سیاستدانوں کو علم ہوتا ہے کہ جابر حکمرانوں کو قانونی راستہ دینے کے لئے کس طرح اور کتنا کلمہ حق بیان کرنا ہے مگر مسعود ملک نے برملا جرآت کا اظہار کیا اس لئے وہ ہم سے بڑے آدمی تھے۔ مسعود ملک کے تعزیتی ریفرنس میں میڈیا کے موجودہ حالات اور خطرات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ البتہ یہ بات سچ ہے کہ جابر حکمران کے سامنے پڑھا گیا کلمہ حق مسعود ملک کو امر بھی کر گیا ہے اور ہماری آنیوالی نسلوں کے لئے مشعل راہ بھی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 75 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *