آرمی چیف کی توسیع نے کلیم اللہ اور سمیع اللہ کی یاد دلا دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن میں ہاکی کے میچز کے دوران اٹھتے بیٹھے اکثر یہی سنا کرتے تھے کہ گیند کلیم اللہ کے پاس پہنچی۔ کلیم اللہ نے پاس سمیع  للہ کو دیا۔ سمیع اللہ گیند لے کر آگے بڑھے۔ گیند پھر کلیم اللہ کے پاس۔ گول ہو یا نہ ہو مگر گیند اکثر انہی کلیم اللہ اور سمیع اللہ کے مابین گھومتا کرتی تھی۔ بچپن رہا نہ کلیم اللہ اور سمیع اللہ اور نہ ان جیسی پاکستانی ہاکی ٹیم۔ مگر کیا معلوم تھا کہ بڑے ہو کر زندگی کے مختلف شعبوں میں کلیم اللہ، سمیع اللہ اور گنید کو محاورتا دیکھا اورسنا کریں گے۔

گرچہ سمیع اللہ اور کلیم اللہ ایک ہی ٹیم کے ممبرز اور توانائیاں مخالف ٹیم کے خلاف صرف کرتے نظر آتے تھے مگر ہماری زندگی میں کئی شعبوں میں کلیم اللہ اور سمیع اللہ کہیں اتحادی ہوتے ہیں۔ کہیں ایک دوسرے کے مدمقابل اور کہیں ایک دوسرے سے دور۔ مگر گیند انہی دونوں کے درمیان گھومتی دکھائی دیتی ہے۔

یقین نہ ائے تو توسیع پر قانون سازی کو ہی دیکھ لیجیے۔ بطور قانون کے طالب علم زندگی میں پہلے ایسے کیس پر فیصلہ سنا جس کا قانون ہی موجود نہ تھا۔ حالانکہ اعلی عدالتوں میں روز ہی سنا کرتے ہیں کہ ججز صاحبان سائلین کو معصومیت سے کہتے نظر آتے ہیں کہ آپ کو کیسے ریلیف دیں۔ کیونکہ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ خیر، معجزے اسی کو تو کہا کرتے ہیں کہ انہونی ہو جائے۔ کیس نہ صرف سنا بلکہ حق میں فیصلہ بھی آجائے اورتواور قانونی تحفظ پہلے اور قانون سازی بعد میں کرنے جیسا سنہری موقع بھی فراہم کردیا جائے۔

یہ تو یاد نہیں کہ کلیم اللہ اورسمیع اللہ گول کون کرے گا کا فیصلہ گول کیپر کی طاقت اوراہلیت کو دیکھ کرکیا کرتے تھے یا نہیں۔ مگر یہاں ہمیں عملی زندگی میں کچھ عجب اتفاق ہے۔ وقتی طور پر توسیع کرکے کچھ ریلیف تو دے دیا گیا۔ مگر مسئلہ یہ رہا کہ اس طرح کی توسیع پر بند باندھے تو کون باندھے۔ لہذا طے ہوا کہ وقتی ریلیف کے ساتھ معاملہ پارلیمان میں بھیج دیا جائے۔ جیسا کہ گول کلیم اللہ سے نہ ہو رہا ہو تو پاس سمیع اللہ کی طرف بڑھا دیا جاتا تھا۔

پاس تو سمیع اللہ کے پاس آگیا مگر سامنے کئی گناہ طاقت ور گول کیپر دیکھ کر سمیع اللہ کرے تو کیا کرے۔ اب سمیع اللہ کے پاس یہی موقع ہے کہ گیند واپس کلیم اللہ کو دے یا پیچھے کھڑے کھلاڑی کی طرف دے مارے۔

صوبائی وزیر قانون بیرسٹر فروغ اے نسیم نے جس طرح توسیع پر قانون سازی کا ڈرافت تیار کیا ہے۔ اسے دیکھ کر پارلیمان (اپوریشن جماعتیں ) یعنی سمیع اللہ کے پاس یہی بہتر موقع ہے کہ گیند میدان میں گھومتا رہے جس طرف زور ہو اسی طرح گیند کو دھکیل دے۔ کیونکہ شاید گول کرنا سمیع اللہ کے لیے ممکن تو ہے مگر ہمت و جسارت کی کمی ضرور ہے۔ موقع دیکھ کر سمیع اللہ نے یہی فیصلہ کیا کہ گیند واپس کلیم اللہ کی طرف کی دھکیل دینا ہے پھر کلیم اللہ جانے، گیند اور گول کیپر۔

پارلیمان (اپوزیشن) جان چکا کہ توسیع کے ڈرافٹ میں بظاہر ابہام دور کیا گیا ہے مگر کئی ایسے ابہام پیدا ضرور کرے گا کہ وہ حمایت کریں یا مخالفت معاملہ جانا پھرعدالت ہی ہے۔ ایسے میں ان کی حمایت کچھ رعایت لینے کا سبب بنے تو دل میں نرم گوشہ پیدا کرنے کی گنجائش کے لیے حمایت کر دی جائے۔ فروغ اے نسیم کا ڈرافٹ کا کیا کہنا کہ ”غیرمعمولی ملکی حالات“ کی تشریح کون کرے گا۔

ایک ایسے وقت میں جب دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے دعوے برسوں سے کیے جا رہے ہوں تو ”ایمرجنسی“ کی تشریح کیسے ہوگی۔ پھر سوال یہ بھی پیدا ہوگا کہ کشمیر کا معاملہ جوں کا توں بلکہ مزید بگڑ چکا۔ ایسے میں ہر آنے والا انہی حالات میں توسیع پر اصرار کرتا رہا تو کیا کریں گے۔ پھر توسیع کی روایت صرف ایک ادارے تک ہی کیوں محدود رہے۔ بحران تو عدلیہ، پارلیمان اور مقننہ میں بھی ایک جیسا ہے۔ یہ وہ سوالات ہیں جس کا حتمی فیصلہ کرنا یقینا پارلیمان ہی کا کام تھا مگر پارلیمان یہ بھاری بھرکم بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے۔

لہذا پارلیمان سمیع اللہ کی طرح معاملے کو دوبارہ کلیم اللہ کی طرف بڑھا رہا ہے اور جب معاملہ کلیم اللہ کی طرف بھیجا جائے گا تو معاملہ تب بھی حال ہونے کا نہیں۔ اطلاعات ہیں کہ توسیع کے معاملے پرعدلیہ میں پہلے ہی کئی درخواستیں دائر کردی گئی ہیں جن میں عدلیہ، بیورکریسی سمیت سب کی مدت ملازمت میں توسیع کو لازم کرنے اور مدت ملازمت کو بڑھانے جیسے مطالبات موجود ہیں۔

درحقیقت کھیل ابھی ختم نہیں شروع ہوا ہے۔ معاملہ جہاں ختم ہوا تھا وہیں سے پھر شروع ہوگا۔ معاملہ کسی کی جیت یا شکست کا نہیں۔ مگر افسوس، جن کی کچھ کر گزرنے کی ذمہ داریاں تھیں وہ کلیم اللہ اور سمیع اللہ کے محاورے کے مصداق ”گیند“ ایک دوسرے کی طرف بڑھا کر اپنی ذمہ داری سے مبرا ہونا چاہتا ہیں۔ جنہیں تاریخ سنہری نہیں سیاہ حروف سے لکھے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *