گرم انڈے، گڑ والا چائے، لچھادار پراٹھا اور ایک پلیٹ جمہوریت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئٹہ نے برف کی چادر اوڑھ لی۔ خوشا وہ دن یاد آئے جب دسمبر کی کنواری برف پر ننگے پیر چلتے تھے۔ ہاتھ پاﺅں کی انگلیوں میں پہلے درد اور پھر حدت پیدا ہوتی۔ زرخیز میدانوں سے دور، پہاڑ کے ہمسائے میں بسنے والے انسانوں کے لئے جاڑا صرف سختی کا موسم نہیں جبر کا تہوار بھی ہے۔ پہاڑی آدی واسیوں کے واسطے آگ جلانے کا سامان، پیٹ بھرنے کے سامان جتنا مقدس ہوتا ہے۔ چار دیواری سے بے نیاز کچے گھروندوں کی چمنیوں سے جب کوئلے کا دھواں اٹھتا ہے اور فضا کوئلوں کی باس سے مہکتی ہے تو ماﺅں کے چہرے تمتما اٹھتے ہیں۔ کھردرے ہاتھوں والے بوڑھے خشک گوشت کے شوربے کی آس میں راتوں کے منتظر رہتے ہیں۔ بلوری آنکھوں والے بچے برف کے نوکدار بھالوں سے کھیلتے کھیلتے لمس کی پہچان کھو دیتے ہیں۔ یہ داستان بہت طویل ہے۔ جن انسانوں کی خوشی کا نصاب آگ اور روٹی پر مشتمل ہو وہاں بہار آنے میں عمریں کھپ جاتی ہیں۔ اب اس دل فگاری کا کیا ذکر! یہاں پت جھڑ کا موسم اتنا طویل ہو چکا ہے کہ زرخیز میدان بھی کئی عشروں سے دھوپ کی حدت سے محروم ہیں۔ فاﺅوسٹ نے شیطان سے کہا تھا، جب تیرا اس حلقے میں گزر نہیں تو تو اندر کیوں آیا؟ شیطان نے کہا، ’ ہم شیطانوں اور بھوتوں کا یہ قانون ہے کہ جس راستے سے آتے ہیں اسی راستے سے جاتے ہیں‘۔ ادھر ہمارے بھوت واپسی کا راستہ بھول چکے ہیں۔ اور ایک مشکل یہ بھی کہ قافلے کو رستہ دکھانے والے، رہزنوں کے اسیر ہو گئے۔ اب اس سمت سفر ہے جہاں رائیگانی کے سوا کچھ نہیں دھرا۔

آئیے کچھ خوش کن باتیں کرتے ہیں۔ کوئٹہ میں برف گرتی ہے تو گھروں میں قید دوست شام سمے چائے خانوں کا رخ کرتے ہیں۔ سردی اور چائے کی حدت جسم میں اتری تو شیخ عبدالباری اور ماما قادر بھی حسب وعدہ پہنچ گئے۔ شیخ ہمارے ایسے خوش بین دوست ہیں جن کا اولین کلمہ جمہور کی برابری کے رستے گزرتا ہے۔ بیٹھتے ساتھ ہی فرمانے لگے، ’بھئی جھگڑا توسیع کا تو ہے ہی نہیں۔ جمہوری عمل افراد پر نہیں، اداروں پر بھروسے کا نام ہے۔ جہاں فرد کی حیثیت ناگزیر ہو جائے وہاں اداروں کی ساکھ ڈوب جاتی ہے‘۔ اس غیر متوقع بھاشن پر راوی نے شیخ کی توجہ اس دیوار کی جانب دلائی جہاں لکھا تھا، ’ ہوٹل میں سیاسی گفتگو ممنوع ہے‘۔ شیخ مزید سیخ پا ہو کر کہنے لگا اس عبارت کے تانے بانے بھی انہی سے ملتے ہیں جو سماج کو غیر سیاسی کر کے جمہور کا استحصال کرنا چاہتے ہیں۔

ماما قادر نے یوں سر اٹھایا جیسے ابھی ابھی مراقبے سے باہر نکلے ہوں۔ راوی سے فرمانے لگے، منڑا ہم بولتا جائے گا تم ہاتھوں کو ہلاتا جاﺅ۔ اس سردی میں ہمارا پٹو ( چادر) سے ہاتھ نکالنے کا دل نہیں کرتا اور ہاتھ ہلائے بغیر بات کا تاثیر کچا پڑتا ہے۔ پھر شیخ سے گویا ہوئے، ہاں شیخہ زوئے پھر کیا لفڑا ہے؟

شیخ اب بھی سنجیدہ تھا۔ کہنے لگا، ماما جمہوریت کی ناک کاٹ دی ان اہل جمہور و دستور و بے دستور نے۔ یہاں جمہوری آدرش پر خود جمہور کے نمائندے قائل نہیں۔ مجھے تو اب ڈر لگنے لگا ہے کہ یہ سیاسی عمل کم اور طاقت پر قابض گروہوں کی آپسی چوہدراہٹ کے مسائل زیادہ ہیں جس کے لئے یہ گاہے لڑتے رہتے اور گاہے خاموش سمجھوتہ کر لیتے۔

اس بلیغ تجزیے کے بعد شیخ نے ستائش کی آرزو میں ماما قادر کی جانب دیکھا۔ ماما بولے، زوئے بات سنو ہمارا۔ پہلا بات تو یہ ہے کہ ان سب کا جیب میں دس دس ناک ہے۔ ایک کٹتا ہے تو جیب سے نکال کر فورا دوسرا لگا لیتا ہے۔ ان کا ناک کا فکر تو کرو مت۔ اور دوسرا یہ بتاﺅ کہ ہم نے تم کو اس گپ کے لئے ادھر بلایا تھا؟ منڑا! یہ کوئٹے کا اس کاپر سردی کو دیکھو، اسلامی جمہوری اتحاد، ق لیگ اور تحریک تبدیلی کودیکھو، وٹس ایپ سے لے کر ویڈیوکریسی کو دیکھو، بحریہ ٹاﺅن اور ڈی ایچ اے کی روشنی کو دیکھو، عامر لیاقتی اور حریم شاہی کو دیکھو، ٹک ٹاک شاعری کو دیکھو۔ وینا ملک کا حب الوطنی کو دیکھو، زورو کا مشرقی ادب میں مقام اور اس کی اداکاری کو دیکھو، شائستہ خان اور نکے میاں کا مخ دیکھو، جمہوریت دیکھو، تمہارا بکواس دیکھو۔

اس خطاب کے دوران راوی ماما کی ہدایات کے مطابق مسلسل ہاتھوں سے ہوا میں اشارے کرتا رہا۔ شیخ نے ماما سے مخاطب ہونے کی بجائے راوی سے مخاطب ہوتے فرمایا، بند کرو یہ نازیبا اشارے، میں بہت سنجیدہ بات کر رہا ہوں۔ ماما گپ مار رہا ہے۔ میں یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ انصاف، امن اور خوشحالی کا حصول انسان کی مشترکہ دانش کا نصب العین ہے۔ ہم اس ریاست کے باسی ہیں۔ ریاست کا وجود عوام سے ہوتا ہے۔ نقشے پر پیچ و خم کھاتے دائرے کو ریاست نہیں کہتے۔ یہاں پچھلی ڈیڑھ صدی سے عوام کی حقوق پر طاقتور گروہوں کا قبضہ ہے۔ ریاست کے نام پر چند گروہ عوام کے استحصال پر کمربستہ ہیں۔ یہاں بد امنی ہے، منافرت ہے، غربت ہے، افلاس ہے۔ اور ادھر تم لوگوں مذاق ختم نہیں ہو رہا۔ ۔

ایک منٹ ایک منٹ! ماما اچانک بیچ میں کود پڑے۔ تم کیا چاہتا ہے ہم کیا کرے؟

شیخ فرمانے لگے، ہمیں کم از کم اس کا احساس تو ہونا چاہیے کہ ہمارے اردگرد یہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ غلط ہے۔ یہ جمہور کو بے دست و پا کرنے کا ایک طویل جبر ہے۔

ماما نے ہوں کا ہنکارا بھرا۔ پھر بولے ہمارے پاس صرف احساس نہیں اس کا حل بھی موجود ہے۔ تم بولو تو ہم بتاوے؟ شیخ کے چہرے پر سنجیدگی کے تاثرات میں دلچسپی غالب آئی۔ بولے، جی جی ضرور۔

ماما نے فرمایا، منڑا میں تو کہتا ہوں گم کرو یہ بانس بانسری۔ خوامخواہ روز روز کا چک چک ہے۔ ہم تو کہتا ہے سر جی کو بولو، عوام کے ساتھ کوئی ایسا کھیل پاٹ سیٹ کرے کہ عوام براہ راست سپہ سالار کا انتخاب کرے۔ یہ پارلیمان، دستور، عدالت، انتخاب، شائستہ خان، ووٹ کو عزت دو، ہم نے جان اللہ کو دینی ہے، یہ سب مفت کا خرچہ ہے۔ ان سب کو ادارے میں صنم (ضم) کرے۔ پورا ملک کو ڈی ایچ اے بنا لیوے۔ سب اے کلاس شہری ہو ئے گا۔ قوم کا ہر بچہ قوم کا سپاہی ہوئے گا۔ ہمارا مرفی کو بھی کسی ڈرامے مرامے میں کردار مل جائے گا۔ خدا کا قسم ہمارے علاقے میں بہت لوگوں کا کوئی شناختی کاغذ نہیں ہے۔ مرفی کا تو شناحتی کاغذ بھی موجود ہے۔

شیخ نے خشمگیں نظروں سے ماما کو دیکھا اور بولے، بات یوں ہے۔۔۔ اچانک ماما پھر کود گئے۔ منڑا گم کرو خر نازوان۔ زوئے اس گپ سے زیادہ بڑا مقام ماما قادر نے گرم انڈے کو بخشا ہے۔ بیرے کو آواز دیتے ہوئے بولے، ھلکہ ادھر لاو چھ گرم انڈے۔ اور بات سنو! تین کپ گڑ والا چائے، ہمارے لئے ایک لچھادار پراٹھا اور شیخ کے لئے ایک پلیٹ جمہوریت لاﺅ۔ اور ہاں جمہوریت نلی والا لانا۔ نلی میں دیکھو، گودا ہونا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 182 posts and counting.See all posts by zafarullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *