شہریت ترمیمی قانون اور بھارتی سیاست!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت میں بھارتی صدر کی جانب سے شہریت ترمیمی قانون کی منظوری کے بعد اب اصل ایجنڈے کی گرہیں کھلتی جا رہی ہیں۔ اب یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ یہ آر ایس ایس کا بنیادی ایجنڈے کا پہلا پتھر ہے جس کا مقصد صرف بھارت کو ہندو راشٹر بنانا ہے۔جس کے لئے شہریت ترمیمی قانون لا کر اس مذموم ایجنڈے کی تکمیل کی شروعات کے لئے پہلی اینٹ چنی گئی۔ بھارت میں ایسے دیگر فیصلوں کی طرح اس مہلک فیصلے کی تائید حاصل کرنے کے لئے مودی سرکار عوام اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے لئے اس تاثر کو قائم کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے کہ اس ترمیمی قانون کے ذریعے پاکستان ’افغانستان اور بنگلہ دیش کی مظلوم اقلیتوں کو شہریت دی جائے گی۔

امت شاہ بھی دعویٰ کر چکے ہیں کہ یہ قانون شہریت لینے کا نہیں بلکہ دینے کا ہے حالانکہ یہ بیانات صرف عوام کو گمراہ کرنے کے لئے دیے جا رہے ہیں کیونکہ پاکستان‘ افغانستان اور بنگلہ دیش سے آئے افراد تو اس قانون کے تحت شہریت کے حقدار ٹھہرے لیکن بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کو یکسر اس حق سے محروم کر دیا گیاہے۔

اس ترمیمی قانون کے خلاف پورے بھارت میں جو مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں اس سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے بھارت آتش فشاں کے دہانے پر آکھڑا ہے۔ عالمی میڈیا میں جو ان مظاہروں کے حوالے سے رپورٹس سامنے آرہی ہیں اس سے عدم تشدد اور جمہوریت کے علمبردار بھارت کا چہرہ بری طرح مجروح ہو چکا ہے۔ اس ملک گیر تحریک میں اب تک درجنوں جانیں جا چکی ہیں اور اس قدر اموات جمہوری سیکولر بھارت کے وجود کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ آسام میں جب سے این سی آر کی مہم چلی سب سے زیادہ مسلمانوں کو عدم تحفظ کا احساس ہوا کیونکہ مسلمانوں کو ڈرانے اور دھمکانے کی کوششیں کی گئی ملک گیر تحریک کی شدت سے مودی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے۔

بھارت میں مودی سرکار کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ ظلم و استحصال جیسے سلوک کے پیش نظر بھارت میں بسنے والی اقلیتوں کے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں کہ مسلمانوں کے بعد انہیں بھی مودی حکومت اپنی جنونیت کی بھینٹ چڑھا سکتی ہے۔ 137 کروڑ کی آبادی پر مشتمل بھارت میں موجود اقلتیں اس وقت بی جے پی حکومت کی نفرت کا شکار ہیں۔

پورے بھارت کو ہندو راشٹر بنانا مودی کا ناپاک مشن ہے اور اس مشن کی تکمیل کے لئے ایسے عاقبت نا اندیش فیصلے کیے جا رہے ہیں جو نفرت اور تعصب کو ہوا دے رہے ہیں۔ پورے بھارت میں ہونیوالے مظاہروں سے جو فسادات جنم لے رہے ہیں اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اگر بھارت کی حکومت نے اس ترمیمی قانون کو واپس نہ لیا تو ایشین ہٹلر مودی کی حکومت کو نفرت کی کوکھ میں پلنے والا لاواکسی بھی وقت جلا کر خاکستر کر سکتا ہے۔

این آر سی کو جب پورے بھارت میں لاگو کیا جائے گا تو جو اس کے مضمرات کھل کر سامنے آئیں گے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کوہو گا کیونکہ یہ متنازعہ شہریت ترمیمی قانون وہاں کے ان مسلمانوں کے لئے تباہ کن ہو گا جو کسی وجہ سے شہریت حاصل نہیں کر سکے۔ بھارت کی ریاست آسام میں ہونیوالے تجربے کو دنیا انسانی بحران کی شکل میں دیکھ چکی ہے اور اس انسانی بحران نے کرہ ارض پر بسنے والے ہر درد مند دل رکھنے والے انسانوں کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔

بھارت میں ظلم و استحصال کے خلاف جیسے نوجوان ملک گیر تحریک کا حصہ بن چکے ہیں اور اس ظالمانہ متنازع شہریت ترمیمی بل پر جس طرح سنجیدہ عوامی حلقے رنجیدہ ہیں اس کا ادراک مودی سرکار کو نہیں۔  یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت نے اس تحریک کو کچلنے کے لئے ملک بھرمیں پولیس کو ظلم و بربریت کی سفاک تاریخ رقم کرنے کی کھلی چھوٹ دیدی ہے۔

صورتحال یہ ہے کہ پورا بھارت انقلاب اور آہ و فغاں کی گونج میں خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہا ہے اور دوسری جانب مودی بڑی تسلی و تشفی کے ساتھ بیان دے رہے ہیں کہ ملک کے مفاد میں اس طرح کا غصہ تو جھیلنا تو پڑتا ہے۔ گویا انہیں عوام میں پائے جانیوالے غم و غصہ کے عملی مظاہروں کی بالکل پرواہ نہیں لیکن وہ ایک جمہوری سیکولر بھارت کے منتخب وزیر اعظم کی حیثیت سے عوام کے مطالبے کے سامنے اپنی انا ’ضد اور ہٹ دھرمی کو سرنڈر کرنے پر بالکل تیار نہیں۔

شاید نریندر مودی کو ادراک نہیں کہ یہ جوش سے زیادہ ہوش کے ناخن لینے کی نوید ہے یہ ایک ایسے انقلاب کی دستک ہے جو تخت نشینی کی سیاست کرنیوالی مودی حکومت کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گی کیونکہ ہندوستان میں اٹھنے والی ایسی تحریکیں جب بھی اٹھیں تو ان تحریکوں میں ہمیشہ نوجوان ہراول دستہ ثابت ہوئے اور یہ تحریکیں کامیاب ہوئیں۔

بھارت کی سیاست بھی کروٹیں لے رہی ہے ناقابل تسخیر مودی حکومت جو بھارت کے اکہتر فیصد نقشے پر اپنی جیت کی بساط بچھا کر ملک کے سیاہ سفید کی مالک بن بیٹھی تھی مہاراشٹر اور ہریانہ میں جو بی جے پی کو سیاسی نقصان ہوا اس کی تلافی کسی صورت بھی ممکن نظر نہیں آرہی اور جھاڑ کھنڈ کا اقتدار کا ہاتھ سے نکل جانا اس بات کا غماز ہے کہ مودی کی شکست کی سیریل شروع ہو چکی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو بی جے پی کی حکومتی بساط اکہتر فیصد سے کم ہو کر چالیس فیصد پر سمٹ کر رہ گئی ہے۔

مسلسل فتوحات سر کرنے والے مودی کی شکست و ریخت کے باب کا آغاز تب شروع ہوا جب راجستھان ’مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔  مودی کے مقابلے میں کانگریس کی حکومت چھ ریاستوں میں تھی اب جھاڑ کھنڈ کی ریاست کا اقتدار بھی کانگریس کو مل چکا ہے۔ کانگریس کے مقابلے میں مودی سرکار کی حکومت سولہ ریاستوں میں ہے لیکن کانگریس کے پاس جن سات ریاستوں کا اقتدار ہے ان کے مقابلے میں مودی سرکار کے پاس جن ریاستوں کا اقتدار ہے وہ ان سات ریاستوں سے چھوٹی ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ بی جے پی جو مسلسل جیت کے کٹہرے میں کھڑی نظر آتی تھی اب مدھیہ پردیش‘ راجستھان ’چھتیس گڑھ‘ کرناٹک ’مہاراشٹر اور جھاڑ کھنڈ میں کیسے ہار گئی اس بڑا آسان جواب ہے کہ مودی حکومت کے عاقبت نا اندیش فیصلوں نے جو مسلمانوں سمیت ملک کے دیگر طبقوں کے درمیان نفرت کی خلیج قائم کر دی ہے اب یہی نفرت کی آگ مودی حکومت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے مودی کو بھارت کی سیاسی تاریخ کا ادراک ہونا چاہیے کہ اندرا گاندھی کے دور حکومت میں بھی یہی سوچ پروان چڑھ رہی تھی کہ اب پورے ملک میں صرف کانگریس کا راج ہو گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

اب جو ملک میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کی منظوری کے بعد پیدا ہو چکے ہیں مودی حکومت کا مستقبل مخدوش ہو کر رہ گیا ہے کیونکہ پے در پے سیاسی و عوامی شکست کے نشتروں نے مودی کو گھائل کر کے رکھ دیا ہے۔  آنے والے دن مودی حکومت کے لئے مزید آزمائش کے ہیں کیونکہ 2020 ء میں پہلے دہلی اور بعد میں بہار میں اسمبلی الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔ بہار کا ہی حصہ جھاڑ کھنڈ تھا جہاں مودی کو تازہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

مودی کو اس الیکشن میں اگر تین سے زائد نشتیں مل جائیں تو بڑی بات ہے لیکن حالات کی دستک مودی کی سیاست کے ستارے گردش میں کی نوید دے رہی ہے۔ اگر حالات ساز گار رہے تو جموں و کشمیر میں بھی اسمبلی الیکشن ہو سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بی جے پی کے لئے کہیں سے بھی اچھے کی امید نظر نہیں آرہی۔ مودی اور امت شاہ جو اپنے اقتدار کو دائمی سمجھ کر نمرودی فیصلے کر رہے تھے انہیں اب ادراک ہو جانا چاہیے کہ بھارت کی عوام نے ان کے اقتدار کو سمیٹنا شروع کر دیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *