ماحول قاتل ”پولی تھین بیگز“۔ کیا ہمیں اس کا ادراک ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1970 تک پولی تھین بیگز کو ایک نایاب شے کے طور پر سمجھا جاتا تھا۔ اس وقت تک لوگ گھرکا سودا سلف یا سامان لینے کے لئے بازار جاتے تو گھر سے نکلتے وقت اپنے ساتھ کپڑے کا تھیلا یا کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی ٹوکری ضرور رکھتے تھے۔ پولی تھلین جو کہ ایک کیمیائی مرکب ہے، 1933 میں انگلینڈ کے ایک کارخانے میں حادثاتی تجربے کے طور پر پیدا ہوا۔ جسے کئی سالوں تک خفیہ رکھا گیا اور دوسری عالمی جنگ میں پہلی مرتبہ برطانیہ ایرفورس نے پولی تھلین کو اپنے ریڈار ڈھکنے کے طور پر استعمال کیا۔

آج ہم پولی تھین بیگز کی جو شکل استعمال کر رہے ہیں اسے 1965 میں انجینیر ”اسٹین گوسٹف“ نے ڈیزائن کیا جسے سویڈش کمپنی ”سیلو پلاسٹ“ نے پیٹنٹ کیا۔ جس نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں تیزی سے کاغذ اور کپڑے کے بنے بیگز کی جگہ لینا شروع کردی۔

پلاسٹک بیگز کی موجودہ شکل پولی تھین نامی سیاہ مادہ سے بنائے جاتے ہیں۔ جس کو آسانی سے کسی بھی شکل اور رنگ میں رنگا جا سکتا ہے۔ مضبوطی اور لچک کی وجہ سے صارف دس روپے کی چیز سے لے کر ہزاروں لاکھوں تک کے سامان کی پیکنگ اس بیگ میں کروانا پسند کرتے ہیں۔ یہ آج دنیا بھر میں اس قدر اہمیت حاصل ہوچکی ہے کہ اس کے بغیر اب روزمرہ زندگی ادھوری لگتی ہے۔ اگر آپ اردگر نظر دوڑائیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہم روزانہ پولی تھین بیگ کا استعمال کہیں نا کہیں ضرور کرتے ہیں۔ ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ کے مطابق کرہ ارض پر ہر سال ایک کھرب تک شاپنگ بیگ تیار ہو کر ہمیشہ کے لیے اس چھوٹے سے سیارے کا حصہ بن جاتے ہیں۔

جبکہ ارتھ پالیسی انسٹیٹیوٹ کے مطابق دنیا فی منٹ میں 2 ملین پلاسٹک بیگ استعمال کرتی ہے۔ اسی ادارے کے مطابق ایک بیگ کو ڈسٹ بن میں جانے سے پہلے اوسط 12 منٹ استعمال کیا جاتا لیکن یہی پلاسٹک جب استعمال کے بعد تلف کیا جاتا ہے تو اپنی مخصوص ساخت کی وجہ سے ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں سال تک ماحول میں موجود رہ کر اُسے آلودہ کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ تو یوں جہاں ایک طرف یہ پلاسٹک ہماری زندگی میں سہولتیں پیدا کرتی ہیں، تو دوسری طرف اس سے نا ٖصرف ماحول آلودگی کا شکار ہورہا ہے بلکہ جنگلی اور سمندری حیات کو بھی سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔

پولی تھین چوں کہ نہ سڑنے اور گلنے والی شے ہے اس لیے یہ زمین کی ساخت اور زرخیزی کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ اس کے نقصان سے انسان بھی ہرگز محفوظ نہیں ہے۔ ایک حالیہ نئی تحقیق کے مطابق انسانی جسم میں مائیکرو پلاسٹک نہ صرف شامل ہے بلکہ ہر انسان اوسطاً ہر ہفتے پانچ گرام پلاسٹک کھا جاتا ہے۔ اس پلاسٹک میں ایسے کیمیائی مادے ہوتے ہیں جو انسانی جسم کے اینڈوکرائن سسٹم یعنی ہارمونز پیدا کرنے والے نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں اور پلاسٹک سے نکلنے والے کیمیکلز انسانوں میں موٹاپے کے علاوہ بانجھ پن کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پلاسٹک میں موجود ایک کیمیکل فینول انتہائی خطرناک ہے۔ اس کیمیائی مرکب کے استعمال سے دل اور جگر کے امراض اور خون میں شکر کی مقدار بڑھنے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ ا

اگر ہم اس مسئلہ کے تدارک کا سوچیں تو یہ بھی ضروری نہیں کہ کاغذ یا کاٹن کے بیگز پلاسٹک کے متبادل زیادہ ماحول دوست ہیں۔ اگرچہ ان کے انتخاب کرنے سے گندگی کم ہو سکتی ہے پران کے منفی اثرات بھی کم نہیں ہیں۔

یو کے انوائرمینٹ ایجنسی کے مطابق ایک کاغذی بیگ کو پولی تھین بیگ کے مقابلے میں ماحول دوست بنانے کے لئے کم از کم تین بار استعمال کرنا پڑتا ہے۔ کاغذ سے بنے شاپرز کی تیاری کے لیے خاص طور پر لمبے اور مضبوط ریشے درکار ہوتے ہیں، جنہیں پہلے کیمیائی مادوں سے دھویا جاتا ہے۔ ایسے بیگ تب ماحول دوست ہوتے ہیں، جب اِنہیں ری سائیکل شدہ کاغذ سے تیار کیا گیا ہو۔ سوتی کپڑے، درختوں کی چھال کے ریشوں یا فلیکس سے بنے بیگز مضبوط ہوتے ہیں، ایک سے زیادہ مرتبہ استعمال ہو سکتے ہیں اور ماحول دوست ہوتے ہیں پران کا منفی پہلو یہ ہے کہ ان کے لیے درکار پودوں پر بہت سا پانی اور وسائل خرچ ہوتا ہے۔

یوں اس کا ایک ہی دیرپا حل ہے اور وہ ہے اعتدال پسندانہ استعمال اور پلاسٹک کے متبادل کے طور پر ری سائیکل کے قابل پلاسٹک کا استعمال کرنا۔ اگر کارخانے دار صرف اپنا خام مال تبدیل کرکے ماحول میں تحلیل ہوجانے والے (بائیو ڈی گریڈ ایبل) اور ری سائیکل کے قابل پلاسٹک بنائیں تو یہ بھی ایک موزوں عمل ہوگا۔

اس کے علاوہ ہم برطانیہ کے ماڈل کی بھی پیروی کر سکتے ہیں۔ برطانیہ میں پلاسٹک بیگز کا استعمال ختم کرنے کے لیے اکتوبر 2015 میں انوکھا قانون بنایا گیا تھا۔ برطانیہ میں دکان سے سودا خریدنے کے بعد انہیں گھر لے جانے کے لیے پانچ پینی (تقریباً نو روپے ) فی شاپنگ بیگ خریدنا پڑتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے لوگ شاپنگ بیگ خریدنے سے پرہیز کرنے لگے، جس کے کچھ ہی مہینے بعد پلاسٹک بیگز کے استعمال میں 85 فی صد کمی دیکھنے کو ملی۔

اس کے علاوہ کیمیائی مادوں پولی پروپین یا پولیسٹر سے بنے ہوئے شاپنگ بیگز، جو ایک سے زیادہ مرتبہ استعمال ہو سکتے ہیں، کپڑے سے بنے شاپرز  ہرگز برے نہیں ہیں۔ پولی پروپین سے بنا شاپر تین بار کے استعمال کے بعد ہی پولی تھین کے کسی ایسے شاپر کے مقابلے میں زیادہ ماحول دوست بن جاتا ہے، جسے ایک ہی بار استعمال کر کے پھینک دیا جاتا ہے۔

اگر ہم پاکستان میں شاپنگ بیگز ہر حکومتی پالیسی پر نظر دوڑائیں تو پاکستان میں ماضی میں مختلف ادوار حکومت میں پولی تھین بیگز پر پانچ دفعہ پابندیاں لگ چکی ہیں۔ لیکن ان کا اطلاق صرف کاغذات تک ہی محدود رہا ہے۔ ہمارے خطے میں لوگ پولی تھین سے بنے تھیلیوں کواستعمال کرنے کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ ہمارے کلچر کا حصہ بن گیا ہے۔ 1990 میں پاکستان میں ایک کروڑ پلاسٹک بیگز بنتے تھے، آج یہ تعداد 55 ارب تک پہنچ چکی ہے۔

پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے ایک سروے کے مطابق پلاسٹک تھیلوں کی صنعت سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ لوگ بلا واسطہ وابستہ ہیں لیکن ویسٹ مینجمنٹ سسٹم نا ہونیکی وجہ سے انہیں استعمال کرنے کے بعد صحیح ڈھنگ سے ضایع کر نے کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ صارف انہیں استعمال کے بعد بلا تردد گلی کوچوں، سڑکوں، نالیوں، دریاؤں، باغیچوں، حتٰی کہ اپنے گھروں کے باہر پھینک دیتے ہیں۔ جو کہ ماحول کا حصہ بن کرنا صرف ان کو آلودہ کر دیتے ہیں۔ بلکہ نباتات اور حیاتیات کی زندگیوں کے لئے خطرہ کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔

پولی تھین بیگز سے چھٹکارے کا حل یہ ہے کہ اب ہم جدید دنیا کی تقلید کریں جو شاپنگ بیگ بنانے کے لیے بائیو ڈی گریڈ ایبل طریقہ استعمال کررہے ہیں۔ اس طریقے سے تیار کیا گیا شاپنگ بیگ جزوقتی مصیبت تو ہوں گے لیکن کل وقتی مسئلہ نہیں رہیں گے۔ شاید قومی سطح پر کی جانے والی یہ ہلکی سی کاوش ہم لوگوں کو ماحول قاتل کے الزام سے بری الزمہ قرار دے دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *