مداری پنا ترقی کا دشمن ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1999 اور 2000 میں جب میں پاکستان نیشنل فٹ بال کا حصہ تھا۔ تو ہم پاکستان سپورٹس کمپلیکس میں رہائش پذیر تھے۔ روزانہ ہم محتلف کھیلوں کے کھلاڑی آبپارہ مارکیٹ اتے تھے۔ ہم زیادہ تر یا تو کامران ہوٹل میں بیٹھتے تھے یا شیخ تسلیم کے میوزک شاپ پر گپ شپ لگتی۔ کامران ہوٹل کے سامنے وین اسٹاپ تھا جہاں بھارہ کہو کے لئے وین جاتی تھی۔ وہاں پر ہمیشہ کچھ مداری ہوتے تھے جو مردانہ کمزوری کے لئے دوائیں بھیجتے تھے۔ ان کا طریقہ واردات بہت محتلف اور دلچسپ ہوتا تھا یہ مداری ہاتھ میں رومال لے کر پٹاری کھول دیتا تھا جس میں سانپ ہوتا تھا کہتا تھا کہ میرے ہاتھ میں یہ رومال اب کبوتر بن جائے گا۔

ہمارے عوام رومال کو کبوتر بننے کے چکر میں آخر تک مداری کی باتیں غور سے سنتے اور اس چکر میں مداری اپنی دوائیاں بھیج کر اپنی راہ لیتے۔ لیکن رومال سے کبھی بھی کبوتر بنتے نہیں دیکھا۔ یہی مداری پن ہمارے سیاست میں بھی ہو رہا ہے۔ ایک آزادی شہری کے حقوق، مساوات اور بنیادی حقوق سے محروم پاکستانی عوام کے لیے مختلف شعبدے تخلیق کیے گئے کبھی ملک خطرے میں ہے، تو کبھی جمہوریت کے نام پر، تو کبھی تبدیلی، کبھی ووٹ کو عزت دو، کبھی اسلام خطرے میں ہے تو کبھی ملکی مفاد کے نام پر عوام کو بے وقوف بنایا گیا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت سے متعلق قانون سازی کے سلسلے میں مسلم لیگ کا موقف کے حوالے سے صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایک طرف مفادات کے پینترے ہیں اور دوسرے اور تضادات۔ جس نے کچھ ایسی صورتحال پیدا کردی ہے کہ یوں کہیے کہ ”یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے“۔ اب جبکہ عدالت نے معاملہ پارلیمنٹ کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ پارلیمنٹ کی بالا دستی کو یقینی بنانے کا ایک اچھا موقع ہے۔ لیکن ارکان پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ کی بالا دستی کی طرف پیش قدمی کرنے کے بجائے طاقت ور حلقوں کی خوشنودی کے حصول کے لیے ایک دوسرے پر مسابقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پارلیمنٹ ایک ایسا ادارہ ہے جو اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا سکتا ہے۔ جب پارلیمنٹ بیانیے کی تشکیل اور تنازعات کو سلجھانے میں اپنا قائدانہ کردار ادا نہیں کرتی تو پھر ایسا خلا جنم لیتا ہے جس سے کوئی بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ہمارے لیڈرز سویلین بالادستی تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن سویلین بالادستی کی علامت پارلیمنٹ کو انہوں نے کتنی اہمیت دی؟

موجودہ جمہوری حکمومت ہو یا سابقہ حکومتیں سیاسی مسائل میں ایسے الجھی کہ عوامی مسائل کی فکر ہی نہ رہی۔ یہ لوگ اپنے مفادات کے لئے اپنے تنخواؤں کے مراعات میں اضافہ کا بل تو پاس کر سکتے ہیں۔ طاقتور اداروں اور افراد کے لئے تو بل اور قانون دنوں میں پاس کر لیتے ہیں۔ اور اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن بھی ایک پیج پر ا جاتے ہیں۔ لیکن عوام کی بہتری یا قانون سازی کے حوالے سے کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جمہوریت کا سب سے اہم عنصر سیاسی جماعتیں خود اندرونی جمہوریت کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں۔

سیاستدانوں کا مقصد فقط اقتدار میں انا اور اپنا اقتدار کو مضبوط کرنا جبکہ اپوزیشن کا مقصد حکومت کو گرانا اور اقتدار حاصل کرنا اور اس کے لئے اصول کچھ بھی نہیں۔ طاقت اور اقتدار حاصل کرنے کے لئے غیر جمہوری قوتوں کے ہاتوں میں کھیلتے یہ سیاستدانوں کو یہ بات سمجھ نہیں ا رہی کہ ان کے سیاسی رول کو کم کرنے کے لئے کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ جبکہ سیاست میں تعصب، زبان درازی، جھوٹ، ناشائستگی اور گالی گلوچ آ گئی ہے۔

کہیں پر سیاہی پھینکی جا رہی ہے تو کسی پر گندے انڈے پھینکے جا رہے ہیں۔ اس پر بھی بس نہ چلا تو ذاتیات پر حملے کیے جاتے ہیں حکومت اور اپوزیشن میں اختلاف رائے اب ذاتی دشمنی میں بدلتا ہوا نظر آرہا ہے جو تشویشناک ہے ماضی میں بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایشوز پر اختلاف رائے ہوتا تھا۔ تحریکیں بھی چلتی تھیں محاذ آرائی اور عدم اعتماد تک نوبت آجاتی تھی مگر سماجی اقدار کا پاس ضرور رکھا جاتا تھا۔ سیاست لڑنے جھگڑنے اور مرنے مارنے کا نام نہیں بلکہ مسائل کا حل جمہوری انداز میں گفت شنید سے کیا جانا ایک دوسرے کو برداشت کرنا ایک دوسرے کی بات سننا مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنا یہی سیاست ہے اور جمہوریت کا حسن بھی، لیکن ہمارے ہاں جمہوریت کی شکل ہی بگڑتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ملک میں سیاسی عدم استحکام کی فضا ہے اور سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں ہے۔

کسی بھی ملک کی معیشت مضبوط ہو تو اس کی بات دنیا میں اچھی طریقے سے سنی جاتی ہے۔ معیشت کی مضبوطی کا دارومدار ملک کے سیاسی استحکام سے ہوتا ہے۔ پاکستان سے رقبہ اور آبادی میں بہت سے چھوٹے ملک دنیا کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ان قوموں نے ترقی کے حصول کے لئے علم پر مبنی معیشت کو فروغ دیا سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے بغیر کوئی قوم ترقی یافتہ قوم نہیں کہلا سکتی اس کے لئے ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہوگا محض جنگی جنون اور کھوکھلے نعرے پاکستان کو مضبوط نہیں بنا سکتے۔

اب جنگ معیشت کی ہے، ہتھیاروں کی نہیں۔ پیسے ہوں تو سائنس ٹیکنالوجی ہتھیار سب آ جاتے ہیں۔ اور یہ پیسے ریاستی ادارے نہیں بنا سکتے۔ یہ پیسہ بنانے کے لئے عام افراد کو مواقع فراہم کرنے ہوتے ہیں۔ افراد مل کر ریاست کو امیر کرتے ہیں۔ اتنی سی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں عقیدت کے چشمے اتار کر کھلی انکھوں سے افراد، اداروں، سیاسی جماعتوں اور شخصیتوں کا از سر نو جائزہ لئیجئے۔ وہ عقیدت جو ہم نے اداروں، سیاسی جماعتوں اور افراد کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔ وہ عقیدت جس نے ہماری آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی ہے۔ وہ عقیدت جس نے ہمارے سوچ بچار کے قوت کو مفلوج کیا ہے۔ وہ عقیدت جو ہم سے سائنسی اور منطقی انداز فکر چھین چکی ہے۔ وہ عقیدت جو ہماری قوت فیصلہ کو بانجھ کر چکی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *