ناصح لوگ، ایک لوک سامراج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے سنا کہ: نہر کے کنارے پر ایک آدمی کا گھر تھا، سردی کا موسم تھا، وہ گھر کے باہر کنارے پر دھوپ کا مزہ لیتے لیتے چارپائی پر سو گیا۔ اچانک کسی ناصح ٹائیپ بندے کا وہاں سے گزر ہُوا، اس نے کچھ سوچ کر سوئے ہوئے آدمی کے پاؤں ہلاکر جگایا اور سلام دعا کی۔ میزبان نے آئے ہوئے مہمان کو چارپائی پر بٹھایا اور حال احوال لینے کے لیے مدعا پوچھا۔ تب اس بندے نے کہا: ”نہیں بس میں یہاں سے گزر رہا تھا تو آپ کو دیکھ کر خیال آیا کہ آپ کو مشورہ دوں۔ “

”حکم سرکار۔ “ میزبان نے ہم تن گوش ہوکر عرض رکھی۔

مہمان نے گلا صاف کرتے ہوئے کہا: ”دیکھو سارا دن یہیں پر سوتے رہتے ہوگے، مجھے یہ یقین ہے کہ یہ جھونپڑی بھی آپ کی ہی ہوگی، ایسے ہے نہ؟ “

”جی سائیں، یہ جھوپڑی میری ہی ہے۔ “

”ہاں تو ناراض مت ہونا بھائی، تم مجھے بہت احمق لگتے ہو، کیونکہ اگر تم یہاں ہی ہو اور دریا کے کنارے پر ہی تمہارا گھر ہے تو کیوں نہیں جال پھینک کر مچھلیاں پکڑتے ہو؟ “

”اچھا! تو پھر کیا ہوگا؟ “ میزبان نے تعجب سے پوچھا۔

ناصح نے جواب دیا: ”پھر یہ ہوگا کہ تم وہ مچھلیاں مارکیٹ میں بیچوگے اور تمہارے گھر میں پیسہ آنے لگے گا۔ “

”اچھا! تو پھر کیا ہوگا؟ “

”پھر تم اپنے بچے اسکول پڑھاؤگے، یہ جھوپڑی گرا کر اچھا گھر بنانا۔ “

”اچھا! تو پھر کیا ہوگا؟ “ اور تعجب زدہ جملہ

”پھر تمہارے بچے بڑے ہوجائیں گے اور وہ اچھی اچھی نوکری پر لگ کر اور پئسہ کمائیں گے“

”اچھا! تو پھر کیا ہوگا؟ “

”پھر تمہارے دن پھر جائیں گے، تم بہت سکون سے اپنی زندگی گزاروگے۔ “

”اچھا! تو پھر کیا ہوگا؟ “

اب بڑی مصیبت ہوگئی، اس آدمی کا ”اچھا! تو پھر کیا ہوگا؟ “ نہ ختم ہورہا تھا لیکن ناصح صاحب کی مستقبل بینی اب رکنے لگی تھی۔ تو جنجھلا کر ناصح نے جواب دیا: ”پھر تم بہت سکون سے نیند سوؤ کروگے! “

اب میزبان تڑپ اٹھا۔ وہ وہ چیخ کر بولا: ”تم پر خدا کی غارت ہو! وہ تو میں اب بھی سکون کی ہی نیند میں سو رہا تھا، یہ تو تم نے آکر میری نیند خراب کردی! اب صرف تمہارے ان ارشادات کو سن کر ہی میرا سکون تلف ہوگیا ہے تو جب یہ سب کچھ بالفرض ہو بھی جائے گا تو پتہ نہیں میرا پھر کیا بنے گا! “

کبھی سوچا، ہمارے اطراف بھی کچھ ایسے ہی ہو رہا ہے۔

دوستو سچ تو یہ ہے کہ مجھے اتنا شیطان سے ڈر نہیں لگتا جتنا اس ”ناصح جاتی“ سے! صدیوں کی تاریخ سے میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ گروہ انسان کے ابدی سکون کو ستیا ناس کرنے پر تُلا ہُوا ہے۔ میں نے دیکھا ہے اور آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ یہی ناصح تھا جس نے قابیل کو اکسایا تھا،

یہی ناصح تھے کہ جو نمرود کو بھڑکا رہے تھے،

یہی ناصح تھے جو فرعون کو اور آگ پا کر رہے تھے،

یہی ناصح تھے جنہوں نے سقراط کے لیے اتھینز کی زمین تنگ کردی تھی،

یہی ناصح تھے کہ جو اشوکا کو یدھ میں دھکیل رہے تھے

یہی ناصح تھے کہ جو شہید اعظم امام حُسین علیہ السلام کی زندگی تاراج کرتے رہے تھے، ہر طرف سے،

دنیا کی کون سی جنگ ایسی ہے جس میں ان ناصحوں کی کمین ترین تاریک سفاکیاں نہیں ملیں گی؟ یہ جاتی اپنے نام بدل بدل کر انسانی زندگی کا سکون برباد کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔ یہ سب پر نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں، اگر نہیں دیکھتے تو اپنے آپ کو! یہ سب کے کاموں پر تنقید کرتے ہیں لیکن خود کو عقلِ کل سمجھتے ہیں، یہ سب چیزیں جاننے کے چکروں میں رہتے ہیں لیکن نہیں جاننا چاہتے تو ان کی اپنی جنم کنڈلی! وہ اکثر میراثی کی طرح اپنے بنائے ہیروز کے گیت گنگناتے ملیں گے تو اسی وقت رودالی کی طرح ڈھاڑیں مارکر لعن طعن کرنے میں بھی جُٹے ہوئے ملیں گے!

دوستو! میں تو اس حد تک کہتا ہوں کہ آج کی اس تکنیکی دنیا کی جن عظیم لوگوں نے داغ بیل ڈالی تھی وہ سب کے سب ان ناصحوں سے بھاگ کر دور ہوئے تھے تب کوئی انہوں نے نظریات کا خزینہ لوگوں کو تحفے میں دیا تھا۔ آپ اٹھائیں ڈارون کی خودنوشت، اٹھائیں، مارکس کی کتب، دیکھیں لینن کی جدوجہد، ذرا آئین اسٹائین کی وہ کتاب بھی دیکھیں جو آکسفورڈ والوں نے شایع کرکے اسکولوں میں بانٹی ہے۔ دیکھیں اس میں کہ بلا کے اس ذہین بچے کے لیے ناصحوں نے کیسے کیسے اس کے ماں باپ کی زندگی اجیرن کردی تھی، اور آخرکار وہ بیچارے بھاگ کر دوسرے شہر منقتل ہوکر دم لیا!

میں تو کہتا ہوں کہ اس پورے کرہ ارض پر اگر کوئی چیز گھٹیا ترین ہے تو وہ یہی ”نصیحت“ ہے۔ کو زیادہ سے زیادہ دی گئی ہے اور کم سے کم لی گئی ہے۔ یہ ناصح لوگ، کہ جن کی زندگی میں تجربہ نام کی کوئی چیز نہیں، خود تو فقیر کی گودڑی کی طرح ان ”خیرات میں ملی ہوئی نصیحتوں“ کا بوجھ اٹھا اٹھا کر چلتے ہیں اور اب اپنا بوجھ کم کرنے کے لیے یہ بوجھ دوسروں کو منتقل کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ میں تو اس حد تک بھی اب کہتا ہوں کہ یہ ناصح لوگ اگر خلقِ خدا پر احسان ہی کرنا چاہتے ہیں تو بس یہ کریں کہ چپ کرکے اپنے ہی گھر بیٹھے رہیں، کسی کو کچھ نہ کہیں، ہاں پر اپنی اولاد کو ہی سنوارنے کا سوچیں تو بڑا کام ہوجائے۔

پھر آپ دیکھیں گے بہت بڑا تجربہ پھیلتا جائے گا، لوگ اپنی کھائیں گے، اپنا سوچیں گے، فطرت کا ہی سوچیں گے۔ کسی ادھار کی ملی ہوئی باسی اور ناکام ترین صلاح پر اپنی نیندیں تو خراب نہ کریں گے! کیا خیال ہے آپ کا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply