صاعقہ عرف سائکو بیگم، اور پیکدان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کئی برس گزر گئے میں لاہور کے ایک علاقے شاہدرہ میں رہتا تھا۔ میں اور میرا دوسرا ساتھی اجمل ریلویز میں کام کرتے تھے۔ ہمارے گھر کے ساتھ جس صاحب کا گھر تھا اس کا نام محی الدین تھا اور اس کی بیوی کا نام صاعقہ جسے میرا دوست ”سائکو“ کہتا تھا۔ اور یہ ٹھیک نام تھا!

میری نانی اللہ پاک اسے کروٹ کروٹ اپنے پیاروں کے ساتھ رکھے، کہتی تھی کہ نام کا اثر کردار پر بھی پڑتا ہے لیکن یہاں بات کچھ زیادہ ہی عجیب نکلی! صاعقہ کے نام کا اثر تو نکلا لیکن انگریزی لفظ سائکو سے! یعنی صاعقہ صاحبہ ذہنی معذوریت کا شکار دکھائی تھی۔ ظاہر ہے ایسی بیوی سے پالا پڑ جائے تو صرف دو ہی نتیجے برآمد ہوسکتے ہیں۔

بندہ اگر صبر کرے تو ولایت کا درجہ پا سکتا ہے، اور اگر اپنی من مانی پر اُتر آئے تو کمینے پن کی انتہا تک بھی جا سکتا ہے۔ لیکن جناب محی الدین صاحب نے بہت کوشش کی کہ درمیانی راہ پر چلا جائے۔ سو وہ روزے بھی رکھتا تھا تو ساتھ ساتھ میں شغل بازی میں آکر اکثر پیتا اور پلاتا بھی تھا!

نماز بھی پڑھتا تو ہر جمعرات کو ثریا مسکین سے کہیں نہ کہیں ضرور ملتا! (ثریا مسکین کا نام اس لیے مسکین کے طور پر مشہور ہوتا کہ وہ ہر نئے مرد کو اپنے شوہر کی بیماری کا رونا رو کر اور آہ ہ زاری کر کے بار بار کہتی: ہُن جی دسو، میں تے مسکین کی کرے؟ )

میاں محی الدین پڑوس کی مکی مسجد میں چندہ بھی دیتا رہتا اور ساتھ ساتھ میں تاکا جھانکی میں اکثر نت نئی وارداتیں بھی کرتا۔

اور جناب محی الدین کی روش کے سامنے سائکو بی بی اکثر و بیشتر طیش میں آکر گھر کے ہی برتن توڑتی۔ ان کے گھر بجلی کا سرکٹ شارٹ ہوا تو ہم ہی پہلے لوگ تھے جو ان کے گھر گُھسے، اور کٹ آؤٹ نکالا! اجمل نے پلاس کی مدد سے تار کاٹ دی۔

لیکن ایک بات ہم نے نوٹ کی کہ محی الدین کے دو کمروں والے گھر میں ہم نے کوئی چیز کانچ کی نہیں دیکھی! مجھے شش و پنج میں دیکھ کر اجمل نے کہا! میرے باپ، سائکو کے گھر میں کانچ؟

میاں محی الدین سال دو سال میں اگر گھر کو چونا پوچی کروا بھی لے تو کوئی کچھ خاص نظر نہیں آتا، کیوں کہ دیواروں پر ہر دو انچ کے بعد کسی نہ کسی چیز کے پھینکے سے چیتھڑے اڑ ہی جاتے!

وہ اپنے ماتا پتا کے تمام دکھوں کا مداوا گالیاں دینے سے پورا کرتی!
وہ اپنے شوہر کی گھٹیا حرکات کا انتقام اپنے ہی گھر کی چیزوں کو توڑ کر لے لیتی!
وہ دوسرے بغل والے پڑوسی پٹھان بیگم کی کسی شکایت پر اپنے ہی بال نوچتی!
تمام متاثرین سائکو اس کے گھر کو پیکدان کہتے!

اور ایک دن انقلاب آگیا! میاں محی الدین کا ایکسیڈنٹ ہو گیا! چوٹیں اچھی خاصی لگی تھی، بیس دن میو ہسپتال میں گزار کر اپنے گھر لیٹنے کے لیے لایا گیا!

اُس کے کے سامنے والے چار دانت ٹوٹ گئے تھے، جبڑا کٹ گیا تھا! وہ بول نہیں پا سکتا تھا! کم سے کم چھ مہینے تک تو وہ ”گاندھی برت“ ہوگیا! اب صاعقہ کا بول بالا تھا!

وہ اپنی تمام تر ذلالتوں سے گھر میں ہذیان بکتی، برتن توڑتی، اپنے بچوں کے مارتی پیٹتی اور پڑوسیوں کو وہ ایسی جلی سڑی سُناتی کہ ہم سب اپنے آباء و اجداد کے بھی کیے ہوئے یا نہ کیے ہوئے گناہ یاد کر کر کے توبہ استغفار کرتے رہتے۔

لیکن ایک دن ہماری جان چھوٹ گئی، میرا تبادلہ کراچی ہوگیا! اب پتہ نہیں اس کا کیا حال ہوگا؟ مجھے معلوم کرنے کی کوئی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ صاعقہ بیگم عرف سائکو مجھے ہر گلی میں، ہر نکڑ پر، ہر شہر میں دیکھنے کو عام ملتی ہے، یہاں جب بھی کوئی مظاہرہ ہوتا ہے، یہاں جب بھی کوئی ہڑتال ہوتی ہے، یہاں جب بھی میرے زخم بھرنا شروع ہوتے ہیں تب وہ ہی سائکو مجھے چار سُو دیکھنے کو ملتی ہے۔ جس نے تمام سماج کو پیکدان بناڈالا ہے! آپ نے نہیں دیکھی کیا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply