وزیر اعظم صاحب! خدارا حریم شاہ کو بچالیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان ایک جانب مردانہ غیرت پر مبنی سماج ہے تو دوسری جانب مذہبی جنونیت بھی موجود ہے۔ اسے سماج میں عورت کی بے باکی اور جرات اظہار انتہائی خطرنا ک ہے۔ ہم ابھی تک ملالہ یوسف زئی کی جرات و بہادری کو ہضم نہیں کر پار رہے ہیں۔ حالانکہ ملالہ یوسف زئی کو جب شہرت ملی تو نابالغ بچی تھی۔ ملالہ ذہانت اور جرات اظہار کے باعث ابھی تک دشنام کی زد میں رہتی ہے۔ “غیرت مند مردوں”  نے سکول جاتی بچی پر حملہ کیا اور مارنے کی کوشش کی تھی۔ علاج اور پھر عدم تحفظ کی بنا پر ملالہ یوسف زئی کو پاکستان سے باہر بھیج دیا گیا تھا جوآج دنیا بھر میں پاکستان کا روشن چہرہ ہے۔

قندیل بلوچ کا انجام بھی یاد ہے۔ بے باکی و جرات اظہار کے جرم میں غیرت مند بھائیوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ قندیل بلوچ کا قتل ابھی کل کی بات ہے۔ عورت آزادی مارچ پر بھی جو ردعمل دیکھنے میں آیا۔ اس سے اچھی طر ح پاکستان کے سماج کی عکاسی ہوتی ہے کہ عورت کیا ہے۔ عورت کہاں تک اپنے وجود کو قائم رکھ سکتی ہے اور کہاں اسے اپنی وجودیت سے انحراف کرنا پڑ سکتا ہے۔

حریم شاہ اور صندل خٹک نے نہ جانے کیا سوچ کر میدان کارزار میں قدم رکھا اور آگے بڑھتی چلی گئی ہیں۔ ملکی سیکورٹی سمیت کئی من چلے سیاستدانوں کے بھی پول کھول دیے ہیں۔ پچھلے دنوں شیخ رشید اور فیاض الحسن چوہان کی ویڈیو لیک ہونے اور عمران خان کے حوالے سے بیان کے بعد ٹک ٹاک سٹار میڈیا میں زیادہ موضوع سخن بنی ہیں۔ کئی اہم ترین خبریں اور ایشو حریم شاہ اور صندل خٹک کے چرچا میں دب کر رہ گئے۔ حریم شاہ اور صندل خٹک تو شاید اس چرچا کا لظف لے رہی ہوں مگر حریم شاہ کے والد اس ساری صورتحال پر لب کشائی پر مجبور ہوئے اور ایک معذرت خوانہ وڈیو پیغام دیا کہ شاید حریم شاہ کو معاف کردیا جائے۔ حریم شاہ کے والد مکرم ضرار شاہ کے الفاظ اور چہرے کے تاثرات چغلی کھاتے نظر آتے ہیں کہ ایک بے بس باپ بیٹی کے لئے رحم کا طلب گار ہے کہ بچی ہے۔ جوان عمر ہے۔ بھول گئی ہے۔

سچ بھی یہی ہے کہ حریم شاہ اور صندل خٹک سے بھول ہوئی ہے۔ بچگانے میں سب کھیل و تماشا کرلیا ہے۔ شاید انہیں یہ اندازہ بھی نہ ہو کہ بات یہاں تک بھی جا سکتی ہے۔ یہ ٹک ٹاک کا کھیل گلے کا پھندہ بھی بن سکتا ہے۔ حریم شاہ سب کچھ اب سمجھ گئی ہے۔ اپنے تحفظ کی درخواست بھی کر رہی ہے کہ فوج اسے سیکورٹی فراہم کرے۔ پولیس حکومت کے انڈر ہے۔ حکومت سے سیکورٹی کا مطالبہ اس لئے بھی نہیں کیا ہے کہ حریم شاہ کو ڈر حکومت کے اندر سے بھی ہے۔

حریم شاہ عوام میں سے ہیں۔ کسی سرکاری فیملی کا حصہ بھی نہیں ہے۔ اہم ترین یہ ہے کہ عورت ہے۔ حریم شاہ کے والد کی جانب سے ویڈیو پیغام کے بعد حریم شاہ خطرے کی زد میں ہے۔ قندیل بلوچ کے معاملہ میں لاپرواہی سے کام لیا گیا تھا۔ قندیل بلوچ اپنے ماں باپ کے گھر مردہ حالت میں پائی گئی تھی۔

آرمی چیف سے بھی التجا ہے کہ دیر کیے بغیر حریم شاہ کو سیکورٹی فراہم کی جائے اور فوج کی نگرانی میں لے لیا جائے۔ وزیر اعظم عمران خان فوری نوٹس لیں اور حریم شاہ کے تحفظ کے لئے انتظامات کیے جائیں۔  وزیر اعظم صاحب! خدا کے لئے حریم شاہ کو بچالیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *