نواز شریف کی معافیاں اور یوٹرن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہا جاتا ہے کہ مرحوم جنرل ضیاءالحق کسی وجہ سے اس وقت بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام غلام قادر آف لسبیلہ سے خفا ہو گئے، اور وہ کسی بہانے جام صاحب کو اس منصب سے ہٹانا چاہتے تھے، کسی موقع پر ملاقات ہوئی تو جنرل نے جام غلام قادر سے کہا کہ ”جام صاحب آپ کے خلاف بہت سی شکایات مل رہی ہیں یا تو پھر ان کا ازالہ کیجیے یا پھر ہمیں کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا“

اس لب و لہجے سے جام غلام قادر کو اندازہ ہو گیا کہ جنرل کے کیا ارادے ہیں انہوں نے بڑی متانت لیکن گہری فطانت سے جواب دیا۔
”سر بے عیب ذات ایک تو اللہ کی ہے اور ایک آپ کی، باقی رہے ہم جیسے لوگ تو بندہ بشر ہیں کوئی نہ کوئی غلطی تو ہو ہی جاتی ہے۔ فرمایئے میں کس طرح ازالہ کروں تاکہ دوبارہ کوئی شکایت کا موقع پیدا نہ ہو“

تین دہائی قبل شروع ہونے والا سفر ابھی ختم نہیں ہوا جمہوریت کے چیمپیئنز کا جب وقت قیام آتا ہے وہ سجدے میں گر جاتے ہیں۔ جسٹس کھوسہ نے دسمبر کے اوائل میں سپہ سالار کی مدت ملازمت میں توسیع پر فیصلہ دیا سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں سپہ سالار کی پوسٹ کے حوالے سے قانون سازی کا کہا گیا۔ جمہوری ممالک میں قانون سازی عوام کے نمائندے عوامی اور ملکی مفاد کو مدنظر رکھ کر کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پارلیمنٹ نے اس پر قانون سازی کرنا تھی۔ حکومت نے ترمیمی بل وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ایوان زیریں میں لانا تھا قرین قیاس تھا کہ اپوزیشن بالخصوص ن لیگ سپہ سالار کی دوسری مدت کے لیے لائے گئے ترمیمی بل کی مخالفت کرے گی کیونکہ میاں نواز شریف وزارت اعظمی سے نکالے جانے کے بعد اپنی تقریروں میں تواتر سے اس بات کا ذکر کرتے کہ میرا مقابلہ عمران خان سے نہیں خلائی مخلوق سے ہے میں عوام کے ووٹ کی عزت کی خاطر ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوں۔

قوم شریف خاندان کا ماضی بُھلا بیٹھی اسے میاں نواز شریف کی شکل میں انقلابی لیڈر نظر آنے لگا۔ میاں نواز شریف کو جب اقتدار سے نکالا گیا وہ مقتدر قوتوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گیا دانشوروں نے اپنی تحریروں میں انھیں فرد سے علامت قرار دیا اُنھیں نیلسن منڈیلا اور چی گویرا سے تشبیہ دی گئی کیا معلوم تھا اور جب عوام کے ووٹوں کو عزت دلوانے کا وقت آیا تو عہد جدید کا نیلسن منڈیلا کھڑا ہونے کی بجائے سجدے میں گر گیا۔

شریف خاندان نے پہلی بار سجدہ سہو نہیں کیا ماضی میں دو بار سجدہ سہو کر چُکے ہیں نواز شریف ضیاء الحق دور میں پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے انھیں زعم ہو گیا کہ میں آئینی وزیراعلیٰ ہوں کسی کی ڈکٹیشن نہیں لوں گا جنرل ضیاءالحق سے اُن کی ٹھن گئی جنرل اس معاملے پر پریشان ہوا کہ ہاتھوں کا لگایا ہوا آج مجھے آنکھیں دکھا رہا ہے جنرل نے پیر پگاڑا سے مشورہ کیا پیر پگاڑا نے کہا یہ مشکل کام نہیں معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔

انہوں نے یوسف رضا گیلانی کو ٹاسک دیا کہ وہ ایم پی ایز سے رابطے کریں میں تمھیں پنجاب کا وزیراعلیٰ دیکھنا چاہتا ہوں یوسف رضا گیلانی نے ایسا ماحول بنا دیا کہ نواز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جا رہی ہے میاں نواز شریف لاہور سے بھاگم بھاگ جی ایچ کیو پہنچے اور جنرل کے قدموں میں بیٹھ گئے جنرل لاہور ائیرپورٹ پر اترے اور تاریخی الفاظ کہے کہ ”نواز شریف کا کلہ مضبوط ہے“ پیر پگاڑا نے کہا کہ نواز شریف کی بوری میں سوراخ ہو گیا تھا جس سے دانے گر رہے تھے میں نے اسے سی دیا ہے۔

دوسرا موقع جنرل مشرف کے مارشل لاء کے بعد آیا شریف خاندان کو پابند سلاسل کر دیا گیا نواز شریف اٹک قلعے میں پس زنداں کر دیے گئے نوابزادہ نصراللہ کی قیادت میں اے آر ڈی بنائی گئی میاں نواز شریف بے بانگ دھل ایک بار پھر مقتدر قوتوں سے ٹکرانے کی باتیں کرنے لگے اپوزیشن رہنما میاں نواز شریف کو وقت کا ماؤ زئے تنگ سمجھ بیٹھے کہ وہ عوام کی خاطر قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کر رہا ہے اٹک قلعے کے مشہور زمانہ مچھر بھی میاں نواز شریف کو جُھکا نہیں سکے۔

نوابزادہ نصراللہ کی سربراہی اے آر ڈی کا اجلاس ہو رہا تھا جس میں میاں نواز شریف کو جیل کی سلاخوں سے نکالنے کے حوالے سے تدابیر اختیار کرنی تھی اجلاس ابھی جاری تھا کہ ایک شخص نے نوابزادہ نصراللہ کے کان میں آ کر کچھ کہا جس پر نوابزادہ نصراللہ بولے ”زندگی میں پہلی بار ایک تاجر سے ہاتھ ملایا تھا جس پر میں خسارے میں رہا“ ہوا کچھ یوں تھا کہ اجلاس کے دوران نوابزادہ نصراللہ کو بتایا گیا کہ جس کے لیے آپ نے اپوزیشن رہنماؤں کا اکٹھ کیا وہ تو رات کے اندھیرے میں خاندان سمیت جدہ چلا گیا۔

وقت بدلتا ہے مشرف کا رعونت بھرا دور اختتام کو پہنچتا ہے نواز شریف ایک بار پھر اقتدار میں آتے ہیں عوام سمجھتے ہیں کہ نواز شریف بدل چُکا ہے اب وہ ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائے گا۔ اقتدار کے دنوں میں ایک دو مواقع پر انہوں نے آئینی وزیراعظم ہونے کی جھلک بھی دکھلائی انھیں اقتدار سے نکال دیا جاتا ہے اب کی بار وہ ”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ لے کر نکلتے ہیں نواز شریف کے اس بیانئے کو مقبولیت ملتی ہے، کوٹ لکھپت جیل سے پیغام ملتا ہے کہ ”مر جاؤں گا ان قوتوں کے آگے سر نہیں جکھاؤں گا کیونکہ میرا سر صرف اللہ کے حضور جُھکتا ہے“ قوم کو ایک بار پھر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جاتا ہے اور اندرخانے مقتدر قوتوں کے ساتھ مذاکرات چلتے ہیں میاں نواز شریف بیماری کے باعث باہر چلے جاتے ہیں۔ آگ اگلنے والی زبانیں بند ہو جاتی ہیں پراسرار خاموشی چھا جاتی ہے بتایا جاتا ہے کہ سیاست ہوتی رہے گی میاں صاحب کی صحت عزیز ہے۔

سپہ سالار کو دوسری مدت کے لیے توسیع دی جاتی ہے اپوزیشن اس پر چُپ سادھ لیتی ہے۔ جسٹس کھوسہ کے سامنے کیس جاتا ہے وہ بال پارلیمان کی طرف پھینک دیتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل پیش کیا جاتا ہے عوام کے ووٹوں کو عزت دلوانے کا وقت آیا تو نواز لیگ ماضی کی طرح سجدے میں گر گئی اپوزیشن ضرور بل کی حمایت کرتی مگر دوسری بار مدت ملازمت میں توسیع کا دروازہ تو بند کروا دیتی۔ اگر یہی کچھ کرنا تھا تو پھر نواز شریف چوہدری نثار کے مشوروں پر عمل کرتے خواجہ آصف کی باتوں میں آ کر اُنھیں ذلیل کرنے کی کیا ضرورت تھی قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی کیا ضرورت تھی۔ قوم کو ووٹ کو عزت دو کے نام پر بھیانک خواب کیوں دکھایا گیا؟ سچ کہا کسی نے کہ انسان لاکھ کوشش کرے ماضی سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بشارت راجہ

بشارت راجہ رفاہ یونیورسٹی سے میڈیا سائسز میں ایم فل کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ بطور کورٹ رپورٹننگ کر رہے ہیں۔ مختلف ویب سائٹس کے لیے بلاگ اور کالم بھی لکھتے ہیں۔

bisharat-siddiqui has 99 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *