ایکسٹنشن کی ٹینشن اور ووٹ کی عزت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دنوں سے پاکستان سے باہر کی دنیا خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں تیسری جنگ عظیم کی باتیں ہورہی ہیں، ایران کے طاقتور کمانڈر قاسم سلیمانی کی بغداد میں ہلاکت اور پھر امریکہ کے جانب سے اس ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد مشرق وسطیٰ میں حالات کافی کشیدہ ہیں، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا پاکستان کا چیف آف آرمی سٹاف سے رابطہ کرنا اور پھر پاکستان کا سعودی عرب کے دباؤ میں ملائیشیا میں ہونے والی سمٹ میں وعدے کے باوجود شرکت سے انکار جیسے واقعات پیش آچکے ہیں، لیکن پاکستان کی اندرونی سیاست میں ایکسٹینشن کی ٹینشن چل رہی ہے، سوشل میڈیا ہو، الیکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا آج کل ہر پلیٹ فارم کا ٹاپ ٹرینڈ ایکسٹینشن، آرمی ایکٹ میں ترمیم بنے ہوئے ہیں، حکومت سے زیادہ نون لیگ کو جلدی ہے کہ ایکسٹینشن والا معاملہ حل ہوجائے بلکہ یوں کہیں کہ حکومت سے زیادہ نون لیگ ایکسٹینشن کے ٹینشن سے نکلنا چاہتی ہے۔

اپوزیشن جماعت نون لیگ نے حکومت کی غیرمشروط حمایت کا اعلان اس وقت کیا جب حکومت کے جانب سے مجوزہ ترمیم کا مسودہ تک سامنے نہیں آیا، جن اراکین پارلیمنٹ نے مجوزہ بل کو پاس کرنا تھا، انہیں بل کا ڈرافٹ موصول نہیں ہوا تھا، نون لیگ نے غیرمشروط حمایت کرنے سے قبل کسی اپوزیشن جماعت سے بات تک نہیں کی۔

جب ملک میں اپوزیشن کی بڑی جماعت کے جانب سے یک طرفہ فیصلہ کرتے ہوئے حکومت کی غیرمشروط حمایت کا اعلان کیا، جس سے حکومت کی پوزیشن مستحکم ہوچکی تھی، اس وقت بھی اگر کسی نے ڈائیلاگ (مباحثہ) کی بات کی، وہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری ہیں، جنہوں نے مجوزہ ترمیم کو پارلیمنٹ میں لانے اور پارلیمانی پروسیس میں لانے کے ساتھ ساتھ اپنی پارٹی کے سب سے بڑے فورم یعنی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اہم ترین اجلاس بھی منعقد کیا، جس میں مجوزہ ترمیم پر سیر حاصل بحث ہونے کے بعد اس پر پارٹی کاموقف پیش کیا جائے گا، مجوزہ ترمیم کے حق میں جانے یا مخالفت میں جانے کا فیصلہ ہوگا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے نہ صرف حکومت بلکہ نون لیگ کو بھی بیک فٹ پر کردیا، بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی سمجھ بوجھ کے سبب نہ صرف حکومت، بلکہ نون لیگ کو اس بات سے اتفاق کرنا پڑا، مجوزہ ترمیم کو پارلیمانی پروسیس میں لانے کا پورا کریڈٹ محترم بلاول بھٹو زرداری کو جاتا ہے۔

اس دوران جب شہباز لیگ نے بلا چوں چرا اپنا ووٹ حکومت کے پلڑے میں ڈال کر دائیں بازو کی قوتوں پر سبقت حاصل کر لی۔ تو دوسری طرف مریم نواز نے دکھانے کی خاطر ہی سہی من پسند صحافیوں سے ٹیلی فونک گفتگو میں ‏اس بیانیئے سے لاتعلقی کا اعلان کرنے اور اگلے چوبیس گھنٹوں میں بڑے میاں صاحب کی جانب سے یا پھر خود مریم نواز کی طرف سے سیاست سے لاتعلقی سمیت کئی دیگر خبریں مارکیٹ کی زینت بنی۔ اس دوران آج تک بڑے میاں، چھوٹے میاں مخالف پچوں پر کھڑے ہو کر گڈ کاپ بیڈ کاپ والے کھیل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس سارے معاملے پر یہ سوال گردش کررہا ہے کہ اگر نواز شریف، شہباز شریف اور نون لیگ نے یہ سب ہی کرنا تھا تو اس میں جلدی کی کیا ضرورت تھی؟ ”ووٹ کو عزت دو“ آئین کی بالادستی کا نعرہ عوام کو دھوکا دینے کا مقصد کیا تھا؟

نون لیگ اپنے فیصلوں کی روشنی میں کہاں کھڑی ہے؟

جبکہ جمہوریت پسند حلقوں اور آزادانہ موقف رکھنے والے اکابرین آج بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو سراہنے پر مجبور ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *