عمران خان کا طوطی بولتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایکسٹینشن کی بات ہو یا حکومت میں آنے سے پہلے کیے گئے وعدے ہوں، وزرا کی سلیکشن ہو یا نیب کے قوانین، ہر معاملے میں یو ٹرن لینے کے باوجود عوام کپتان سے مایوس ہرگز نہیں ہیں۔ انہیں پوری امید ہے کہ اس ٹیسٹ میچ کا نتیجہ ان کی فتح ہو گی۔ یعنی کپتان کی فتح ہو گی۔ تنقید کرنے والے چند لوگ جو آٹے میں نمک کے برابر ہیں مخالفت برائے مخالفت میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ تقریباً ڈیڑھ سال ہونے کو ہے اور ملک میں کوئی ترقیاتی کام ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آنے کے بعد بے قابو ہو چکا ہے۔

افسوس! وہ ایک بنیادی نکتہ یکسر فراموش کر بیٹھے ہیں کہ مہنگائی کوئی پہلی بار تو نہیں ہوئی۔ سابقہ حکومتوں میں بھی ہوتی رہی ہے مگر سابقہ حکمران مہنگائی کا توڑ نہیں جانتے تھے۔ شاید انہوں نے مرزا غالب کا مندرجہ ذیل شعر کبھی نہیں سنا تھا۔

رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

مہنگائی کا علاج ہے زیادہ مہنگائی۔ اس طرح مہنگائی کا احساس مٹ جاتا ہے۔ چوں کہ کپتان عوام کی نفسیات سے واقف ہیں اس لیے انہوں نے مہنگائی کا علاج بھی ڈھونڈ لیا۔ اور پھر عوام نے عمران خان کو سڑکیں، پل اور فلائی اوور وغیرہ بنانے کے لیے ووٹ نہیں دیا تھا۔ اصل ٹارگٹ کرپشن تھی۔ چناں چہ کپتان نے اقتدار میں آتے ہی کرپشن کا قلع قمع کرنے کے اقدامات شروع کر دیے۔ جب کپتان کی گرجدار آواز گونجتی ”کسی کو نہیں چھوڑوں گا“ تو تمام کرپٹ لوگ تھر تھر کانپنے لگتے، درختوں کی شاخوں سے پرندے چیختے ہوئے اڑ جاتے اور مائیں خوش ہو کر بچوں کو سینے سے لگا لیتیں اور کہتیں دیکھو بیٹا کرپشن کا خاتمہ ہو رہا ہے۔

کپتان نے اپنے زورِ بازو سے ان تمام افراد کو جیلوں میں بند کر دیا جو کرپشن کے حوالے سے مشکوک تھے (مالی کرپشن کے حوالے سے مشکوک تھے ) ۔ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کے بعد کپتان ریلیکس ہونے کے لیے ورلڈ ٹور پر نکل گئے لیکن اس دوران بھی عوام کا مفاد پیشِ نظر رہا۔ جس ملک میں بھی گئے وہاں کے سربراہ نے خوب آؤ بھگت کی۔ گویا سونے میں تول دیا۔ کہیں سے ڈالر دے کر روانہ کیا گیا کہیں سے ریال ملے۔ عوام بھی اپنے کپتان کی پزیرائی پر نہال تھے۔

اب ملک میں خوشحالی کا دور دورہ تھا، کرپٹ لوگ جیلوں میں بند تھے اور حکومت کے ساتھ ساتھ ہر محکمے میں ایماندار اور شیریں زباں افراد کو تعنیات کیا گیا تھا چناں چہ کپتان نے اصلاحات کا بیڑہ اٹھایا۔ آئین اور قوانین میں جہاں جہاں سقم تھے یا کوئی خامی تھی اسے دور کیا گیا۔ ساٹھ برس کی عمر تک آدمی عام طور پر جوان ہی رہتا ہے چناں اہم عہدوں کے لیے مدت ملازمت میں اضافہ کیا گیا۔ جیلوں میں بہت زیادہ افراد بند تھے جس کی وجہ سے حفظان صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے تھے۔ اس لیے ایسے ملزم جن پر لگائے گئے الزامات پرانے اور بوسیدہ ہو چکے تھے انہیں رہا کر دیا گیا۔ ایک دو کو ملک سے باہر بھیج دیا گیا تاکہ جیلوں میں مزید کرپٹ لوگوں کو رکھنے کی گنجائش پیدا ہو سکے۔

مورخ جب بھی تاریخ لکھنے بیٹھے گا تو عمران خان کی مقبولیت اور شہرت کے بارے میں ضرور لکھے گا جو چار دانگِ عالم میں پھیل چکی ہے۔ امریکہ ہو یا پڑوسی ملک ان کے چرچے ہیں۔ ملک کا پوچھیے مت۔ کسی دور افتادہ گاؤں میں اپلے سلگاتے ہوئے کوئی سردی سے کپکپاتا بوڑھا ہو یا مال روڈ پر مٹر گشت کرتا ہوا کوئی نوجوان سب عمران خان کے گن گاتے دکھائی دیتے ہیں۔ کپتان سے انہیں اس قدر محبت ہے کہ اگر کسی کا پانچ دس ہزار روپے کا چالان بھی ہو جائے تو خوشی خوشی چالان جمع کرواتے ہیں کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ انہیں کی بہتری کے لیے ہے۔ چھوٹے موٹے چالان انسان جلد بھول جاتا ہے اور دوبارہ غلطی کرتا ہے جبکہ اس طرح غلطی بہت اچھی طرح یاد رہتی ہے۔

ایم ٹیگ سے ٹول ٹیکس کٹوانے کے ساتھ ساتھ مینویل طریقے سے دہرا ٹیکس بھرنے والے بھی خوش ہیں کہ اس طرح قومی خزانہ بھرے گا۔ جن لوگوں کے کاروبار بند ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ برسوں بعد انہیں کچھ آرام کرنے کا موقع ملا ہے۔ پہلے تو اتنے گاہک ہوتے تھے کہ سر کھجانے کی فرصت نہیں ملتی تھی۔ اب فرصت ہی فرصت ہے۔ سر میں جوئیں پڑ جائیں تو بے شک سارا دن نکلواتے رہیں۔

نئے سال کا آغاز بھی پیٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے ہوا۔ عوام نے اسے بھی نئے سال کا تحفہ ہی سمجھا ہو گا۔ الغرض ہر طرف عمران خان کا طوطی بولتا ہے۔ اس سے پہلے کسی حکمران کا نام اس طرح زبانِ زدِ عام نہیں ہوا۔ اب تو یہ عالم ہے کہ دکاندار، گاہک، امیر، غریب، مریض، طبیب، وکیل، جج، کسان، صنعت کار، ملازم پیشہ، بچے، بڑے، بوڑھے جوان، سب کی زبان پر عمران خان کا نام ہے۔ اگر یقین نہ آئے تو گھر سے نکل کر مشاہدہ کر لیں۔ آج کل عمران خان کا بول بالا ہے۔ کوئی شخص سبزی فروش سے بھاؤ تاؤ کرتے ہوئے عمران خان کی تعریف میں چند جملے ضرور ادا کرے گا۔ تو کوئی کسی شو روم میں گاڑی کی قیمت پوچھتے ہوئے بھی پہلے خان صاحب کی شان میں چند الفاظ ضرور ادا کرے گا۔ راقم الحروف اسی لیے رطب اللسان ہے کہ عمران خان کا طوطی بولتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *