ایران امریکا جنگ اور فیس بک کے پیشہ ور وسایا سوگوار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری علاقے میں کسی وقت ایک  وسایا نام کا بندہ ہوتا تھا، اس کے لئے مشہور تھا کہ علاقے میں کوئی بھی بندہ مرجاتا وسایا اپنی منجی الٹ کر اس کا تین دن سوگ مناتا۔ چاہے اس بندے سے اس کا کوئی لینا دینا ہو یا ناہو وہ وسایا کا حال پوچھنے آتا بھی تھا یا نہیں۔ وسایا کو اس سے کوئی غرض نہیں تھا۔ البتہ وسایا اس کے لئے سوگ مناتا۔ مجھے بھی اس ملک کے لوگ وسایا لگتے ہیں۔ کوئی ان کو جانے نا جانے ان کو سب کا دکھ ہوتا ہے۔ یہ اپنی منجی الٹ دیتے ہیں۔ روڈوں پر نکل آتے ہیں۔ یہ بڑے انسانیت کے علمبردار لوگ ہیں جن کی انسانیت سے مہان انسان بابا گرونانک کا گردوارہ تک محفوظ نہیں۔

مجھے دکھ ہوتا ہے اگر دنیا کے کسی خطے میں دہشت گردی ہو، کہیں کوئی بھی کسی بھی رنگ نسل مذہب سے تعلق رکھنے والے انسان مارے جائیں مجھے شدید دکھ ہوتا ہے۔ ان میں سے اگر کوئی محسن انسانیت مارا جائے تو اور بھی شدید غم غصے کا شکار رہتا ہوں۔ بطور ہمدردی اس انسان کے لئے کبھی ڈی پی بھی تبدیل کرتا ہوں تو کبھی اس واقعہ پر اپنی رائے کا اظہار اپنے فیس بک اکاونٹ پر کرتا ہوں۔ کرنا بھی چاہیے اس سے آپ کی حق کے لئے آواز بلند ہونے پر اور کچھ ہو نا ہو آپ حق پرستوں میں شامل ہوجاتے ہیں شرط یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کی تفریق نا ہو۔

لیکن میرے وطن عزیز میں کچھ لوگوں نے قاسم سلیمانی کی موت کو اتنا سیریس لے رکھا ہے کہ انہوں نے اپنے فیس بک اکاونٹس پر اپنی منجیاں الٹ لی ہیں، پرسہ بچھا دیا گیا ہے اور وصولی تعزیت جاری ہے۔ وجہ کوئی بھی نہیں۔ نا قاسم سلیمانی کا ان سے کوئی تعلق تھا نا کارگل کی لڑائے کے دوران قاسم سلیمانی اپنی قدس فورس کے دستے لے کر پاکستان ایران بارڈر پہ کھڑا تھا۔ نا کبھی اس نے کشمیر میں اپنی فوجیں اتارنے کی دھمکی دی نا پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو بھارت نے کاٹ کر اپنے آئین ساتھ جوڑا تو قاسم سلیمانی نے غصے میں اپنی کیپ اتار کر گریہ کیا نا ہی بھارت کے ساتھ سختی سے پیش آنے کا وعدہ کیا۔ آخر ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ مشترکہ فقہی اعتبار کی وجہ سے بھی کافی سوگ منایا جا رہا ہے۔

اس بیچ کچھ سعودی پرست گروہ خوشیاں منا رہے ہیں۔ اور اس آمریکی حملے کو صدام مخالف سرگرمیوں اور لاکھوں کی تعداد میں صدام کے حامیوں کے قتل میں شامل قدس فورس کے سربراہ مکافات عمل سے جوڑ کر شکر الحمدللہ کا ورد جاری رکھے اور منجی پہ منجی ڈال کر اپنے فیس بک اکاونٹ پر آمریکا کو کسی الہامی طاقت ثابت کرنے پر تلے ہیں۔ میرے مطابق آمریکا کا پولیو سے زیادہ یہ کام اچھا لگا ہے۔ پولیو کی مخالفت میں سرگرداں سب فیس بکی سپاہی قاسم سلیمانی کی موت پر آمریکا کے ساتھ کندھے پہ کندھا جوڑ کر کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ اور ایرانیوں کے گلے میں رافضی کا لیبل لٹکا کر فتوے بازیاں کرنے میں مصروف ہیں جیسے بلی کے بھاگ میں گوشت کا چھینکا ٹوٹ کر گر پڑا ہو۔

اس بیچ کچھ اور قسم کے لوگ بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی منجیاں الٹنے کے ساتھ امریکا کے دن بھی گن رہے ہیں۔ کوئی حضور فرماتا ہے کہ یہ جنگ آمریکا کی آخری جنگ ثابت ہوگی۔ کوئی جناب فرماتا ہے کہ اب آمریکا کو پتا چلے گا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سارے حضور اور جناب ایرانی فوج کے آئی ایس پی آر بنے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر ایران کا اس وقت لائحہ عمل کیا ہے۔ آیت اللہ خامینائی نے کیا فرمایا ہے۔ ایران کی فوج کن مقامات کا نقشہ بنا رہی ہے۔

وائیٹ ہاؤس کو پہلے تباہ کرنا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی؟ ایرانی فوج کی اب ممکنہ پیش رفت کیا ہوگی؟ آمریکا کے پاس باقی کتنے دن ہیں وغیرہ وغیرہ، سب ان کے اکاونٹس سے پتا چل رہا ہے۔ ان کی باتیں سن کر کبھی کبھار امریکا مجھے کسی شاہین کے آگے کوئی فاختہ لگتا ہے جسے جب بھی آئے گا جھپٹ کر لے جائے گا اور بوٹی بوٹی کر دے گا۔ ہم جیسے بھولے بھالے خبروں کے شوقین ان کی پوسٹس پر سبحان اللہ کا کومینٹ کر کے عالمی و ملکی مشہور نشریاتی اداروں کے پیجز اور ویب سائٹس کھولتے ہیں لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ملتا۔

بحیثیت قوم ہم نے آج تک یہ فیصلہ نہیں کیا نا ہی ہم نے یہ کبھی جاننے کی کوشش بھی کی ہے کہ معاشی مفادات کے تعلقات پائیدار ہوتے ہیں یا مذہبی۔ ظاہر ہے ہماری قوم دو قومی نظریہ کا سہارا لے کر کھڑی ہے تو مذہبی اعتبار سے سب مسلمان ان کے بھائی ہیں چاہے انہیں گھاس ڈالیں یا نا ڈالیں۔ دو قومی نظریہ کے خاتمے کی بڑی مثال یہ ہے کہ اکہتر میں آپ نے اپنی آنکھوں سے ملک کو دو لخت ہوتے دیکھ لیا۔ اور کشمیر معاملے پر کسی مسلمان ملک کی طرف سے کوئی خاطر خواہ مدد نا ملنے پر آپ بخوبی جان گئے ہوں گے کہ مسلمان آپس میں بھائی نہیں ہوتے بلکہ یہ مفادات کی ڈوری ہے جو لوگوں کو جوڑے رکھتی ہے۔

اور ہاں آپ کی میڈیا یہ بات بتائے یا نا بتایے لیکن انڈیا میں مسلمانوں کے رہنما کہلائے جانے والے اور اپنی شعلہ بیانی سے مشہور ال آنڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے کہا ہے کہ وہ انڈین مسلمانوں کی نہیں اپنے ملک کی فکر کریں بھائی۔ ہمیں ہندوستانی مسلمان ہونے پر فخر ہے اور قیامت تک ہمیں ہندوستانی مسلمان ہونے پر فخر رہے گا۔ ہم نے اسی وجہ سے پہلے ہی جناح کے غلط نظریے کو مسترد کردیا تھا۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ جھوٹے پروپیگنڈہ سے فائدہ نہیں۔ انھیں ہندوستان کے مسلمانوں کی فکر کرنے کے بجائے پاکستان میں سکھوں اور گردواروں پر حملے روکنے چاہیں۔ تو بھائی بلی کے اتنے بھاگ بھی نہیں کہ گوشت کا چھینکا ٹوٹ کر گر پڑے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *