بھلے میڑک پاس ہوں، پر انگریزی اچھی بول لیتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلاشبہ پی ٹی آئی حکومت بے شمار وجوہات کی بنیاد پر آئے روز خبروں کی زینت بنتی رہتی ہے۔ ان خبروں کی وجوہات کبھی تو خان صاحب کی بے انتہا کی گہری باتیں بنتی ہیں جن میں مذہب، تاریخ، فلسفے اور فزکس جیسے مضامین سے چھیڑچھاڑ کی جاتی ہے۔ تو کبھی وجہ، خان صاحب کے مختلف رتنوں کے میڈیا پر کی جانے والی تلخ و ترش اقوال زیریں کی پوچھاڑ ہوتی ہیں۔ جن سے مضبوط اعصاب والے تو خوب محظوظ ہوتے ہیں پر کمزور دل والوں کا ایک دفعہ تراہ ضرور نکل جاتا ہے۔

اب تو خمار آلود تبدیلی سرکار کے سر پر یہ سہرا بھی جاتا ہے کہ ٹک ٹاک جیسی بے ضرر سی ایپ میں حکومتی امور دلچسپی لے کر بھری محفل میں ”شرارتی“ ہونے کا الزام لے بیٹھے ہیں۔ جس کی وجہ سے ایک طرف تو حاسدین کو موقع ملتا رہتا ہے کہ وہ ان خبروں کی بنیاد پر خوب دانت تیز کر لیں تو دوسری طرف میری طرح کے کئی دل جلے مگر تبدیلی پسندوں کو مجبور ہونا پڑتا ہے کہ وہ کہانی کا دوسرا رخ تلاش کرتے ہوئے مثبت پہلو ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔ جس میں کم و بیش ہی کامیابی ملتی ہے۔ اکثرتو بس دیے گئے ووٹ کی دفاع کی صورت میں گناہ کی قیمت ہی چکانی پڑتی ہے۔

ایک تازہ خبر (اللہ نا کرئے چھپتے تک کوئی نیا کٹا کھل جائے ) جس کی بنیاد پر پی ٹی آئی کی حکومت کو اپنے ناقدین کے نشتروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہ ہے خیبرپختونخوا میں کابینہ کی رد وبدل کے بعد وزارت تعلیم پر ایک وزیر کا تقرر۔ جی ہاں ہم بات کررہے ہیں اکبر ایوب صاحب کی جو نئی تقرر سے قبل صوبائی وزیر برائے مواصلات اور تعمیرات تھے۔ ناقدین موصوف کے ماضی کو ٹٹول کر مختلف انکشافات کر رہے ہیں۔ جن میں موصوف کا بچپن میں شرارتی قسم کے بچہ ہونا، کھیل کود میں مشغول رہنا، پڑھائی میں تھوڑا سا پیچھے رہ جانا وغیرہ ہے۔

(مگریاد رہے موصوف تعلیم میں تھوڑا پیچھے رہے ہیں مگر کیرئیر میں نہیں، آج کل کے والدین تھوڑا توجہ فرمائیں) بغیر گھمائے پھرائے بات کی جائے تو اس بات پر تنقید کی جا رہی ہے کہ کے پی حکومت نے میٹرک پاس اکبر ایوب کو صوبائی وزیر تعلیم کا قلمدان کیوں سونپا ہے۔ اسی پیرائے میں خان صاحب کے پرانے فرمودات کے تابڑ توڑ حوالے بھی دیے جارہے ہیں کہ وہ کس طرح ماضی میں دعوی کرتے تھے کہ ملک میں تعلیم عام کرنے کے علاوہ یکساں تعلیمی نظام بھی نافذ کریں گے۔

ٖغائبانہ دماغ سے سوچا جائے تو اس صورتحال پر خان صاحب کو داد دینی پڑتی ہے کہ کس ناممکن طریقے سے خان صاحب نے یوٹرن لینے کی بجائے جو کہا کر دکھایا۔ صوبے میں تعلیم عام کرنے کے لئے ایک عام تعلیم والے کو ذمہ داری سونپی۔ جس سے اول تو ان کی صاف نیت ظاہر ہوتی ہے۔ ِ (پر زیادتی یہ ہے کہ دیگر صوبوں کے لئے ابھی تک ایسی قابلیت والے وزیر نہیں ڈھونڈے گئے) دوئم اس سے خان صاحب کی دور اندیشی ثابت ہوتی ہے کہ کس طرح وہ لوگوں کے سامنے وزیر موصوف کو رول ماڈل کے طور پر پیش کر کہ ایک سبق دے رہے ہیں۔ اور وہ سبق یہ ہے کہ والدین بچوں کو میڑک کرا کر جلد از جلد عملی سیاست میں لائیں۔ جس سے جہاں بہت سارے چشم و چراغوں کا وقت بھی بچ جائے گا وہاں اعلی تعلیم کے بعد کی بے روزگاری کی پریشانی سے بھی بچت ہو جائے گی۔

اگر اسی خبر پر حقیقت پسندانہ رائے دی جائے تو بھلا ہی زیرتعمیر نیا پاکستان کیوں نا ہو ہمارے ملک میں وزیر تعلیم کی قابلیت کے لئے کسی بھی وزیر کا سیاسی بھرتیوں اور سیاسی تبادلوں میں طاق ہونا ضروری ہے۔ جو دیگر ہم نواؤں کی سیاسی ضروریات کا خیال رکھ کر ان کو خوش رکھ سکے۔ اور اگر وہ فارغ وقت میں بیوروکریٹ کی فائلوں پر دستخط بھی کر سکتا ہو تو یہ ایک علیحدہ پلس پوائنٹ ہوتا ہے۔ جبکہ ہمارے نئے وزیر صاحب، نا صرف ان سب کاموں میں مہارت رکھتے ہیں بلکہ سونے پر سہاگہ انگریزی بھی بہت اچھی بول لیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *