فواد چوہدری کاغصہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فواد چوہدری کہتے ہیں، ریاستی ادارے انھیں انصاف دلائیں یا الزام لگانے والے الزام کو ثابت کریں، ایسا اگر نہیں ہو گا تو پھر وہی ہوا جو مبشر لقمان کے ساتھ ہوا یا اس سے قبل سمیع ابرہیم کے ساتھ ہوا۔ گزشتہ چار پانچ برس کے دوران میں یہ ملک جن تجربات سے گزرا ہے، اس کے سبب فواد چوہدری نے بہت سی محبت اور بہت سی مخالفت کمائی ہے، اس بنا پر اس واقعے پر تالی بجانے والے بھی کم نہ ہوں گے اور کچھ ایسے بھی ہوں گے جو اس حادثے میں سیاسی مخالفین کی شرارت یا سازش تلاش کر لیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ ایک سنگین الزام کے رد عمل میں فواد چوہدری نے جو کچھ کیا، کوئی بھی خود دار، صاحب عزت، مضبوط اور خود اعتماد شخص یہی کچھ کرے گا لیکن کیا ایسا ہونا چاہیے؟

اس تکلیف دہ واقعے کے بعد اپنی ایک گفتگو میں فواد چوہدری نے قذف کی سزا کا ذکر کیا ہے۔ فواد چوہدری اپنی بات چیت میں عمومی روایت کے برعکس دینی معاملات زیر بحث نہیں لاتے، یہ روّیہ ان کی ذاتی ترجیحات اور انداز فکر کا ہے جس کا انھیں حق حاصل ہے لیکن اگر اس معاملے میں وہ قذف کی سزا کا ذکر کرنے پر مجبور ہوئے ہیں تو اس سے معاملے کی سنگینی کا احساس ہونا چاہیے۔ ہمارے ہاں سوچے سمجھے بغیر کسی کو مورد الزام ٹھہرا دینے کی جو قبیح روایت چل نکلی ہے، کسی بھی مہذب معاشرے میں جہاں آئین اور قانون کی عمل داری ہو، وہاں ایسی کسی صورت حال کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ فواد چوہدری درست کہتے ہیں کہ مغربی ممالک میں ایسا کرنے والوں کی جائیدادیں فروخت ہو جائیں۔

اس حادثے پر فواد چودھری سے گفتگو کرتے ہوئے ایک جواں سال صحافی شہزاد اقبال نے انھیں تقریباً یہ طعنہ ہی دے دیا کہ بھائی، یہ وہی لوگ تو ہیں، کل تک جو آپ کے ہم خیال تھے اور آپ اور آپ کی قیادت ان کی صحافت کو درست صحافت خیال کرتی تھی۔ پاکستانی سیاست اور صحافت کی روایت میں ایسے سوالات اور بحث برائے بحث میں مخاطب کو بے دست و پا کر دینے کے لیے اس طرح کے دلائل کچھ ایسے معیوب نہیں۔ ہمارے ہاں کوئی بھی ایسا نہیں جو دعویٰ کر سکے کہ وہ اس گنگا میں کبھی نہیں نہایا لیکن ہماری صحافت میں اس وقت جو صورت حال پیدا ہو چکی ہے، اس کے تناظر میں اس رویے سے گریز ہی میں بھلائی ہے۔

ہماری سیاست میں گالی گفتار کوئی نیا عنصر ہرگز نہیں۔ قیام پاکستان کے بعد ابتدائی برسوں میں زبان دراز ظالموں سے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نہ بچ پائیں، ستر کی دہائی میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی جیسی برگزیدہ ہستی کی بیٹیوں پر زبان طعن دراز کی گئی۔ نوے کی دہائی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی ایسی کردار کشی کی گئی کہ الاماں۔ اب یہ دور چل رہا ہے، شہزاد اقبال کی بالواسطہ تشخیص کے مطابق یہ صورت حال جیسے کو تیسا کا نتیجہ ہے۔ شہزاد اقبال صف اوّل کے تجزیہ کار کی حیثیت سے قومی زندگی میں رونما ہونے والے کسی بھی واقعے کے تجزیے کاحق رکھتے ہیں لیکن میرے خیال میں یہ اس واقعے کی سادہ توجیہ ہے کیونکہ اس طرز عمل کے اثرات زیادہ گہرے اور پیچیدہ ہیں۔ اسی طرح ایک غیرت مند جاٹ کی حیثیت سے فواد چوہدری کو بھی اپنی عزت پر ہاتھ ڈالنے والے کسی بھی شخص سے نمٹنے کا پورا حق حاصل ہے لیکن چوہدری صاحب جس مرتبے کی شخصیت ہیں، اس پس منظر میں اس واقعے کے اثرات محض دو افراد کے ذاتی جھگڑے تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے اثرات نہایت پیچیدہ اور خطرناک ہیں اور وقت آگیا ہے کہ ان معاملات کا نہایت ٹھنڈے دل اور سنجیدگی کے ساتھ تجزیہ کیا جائے نیز یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ اس طرح کی صورت حال ریاست، ریاستی اداروں اور جمہوری عمل پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے؟

یہ ساٹھ کی دہائی کی بات ہے، امریکا میں رائے عامہ کی سائنس کے دو ماہرین کرٹ لینگ اور گلیڈی لینگ نے صدارتی انتخابات کے دوران چلائی جانے والی انتخابی مہمات کے اثرات کا جائزہ لیا اور یہ دریافت کیا کہ اس طرح کی مہمات کے دوران ذرائع ابلاغ کے ذریعے جو پیغامات عوام کو دیے جاتے ہیں، وہ بھی عوام تک پہنچتے ہیں اور عوام اپنے اپنے رجحانات کے تحت انھیں رد یا قبول بھی کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی خود کار طریقے سے ایک اثر اس سے مختلف بھی ہوتا ہے۔

یہ اثر ریاست، جمہوریت، آئین، آئینی اداروں اور سیاسی شخصیات کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔ اس کا سبب الزامات، بدزبانی، تشدد اور تصادم سے متعلق اطلاعات اور خبریں ہوتی ہیں۔ مغربی معاشروں میں اس صورت حال کے دو فوری اثرات ریکارڈ کیے گئے ہیں، اوّل انتخابی عمل سے عوام کی دوری، پاکستان میں اس صورت حال کے نتائج کا تجربہ ہم نسبتاً مختلف انداز میں کرتے ہیں اور دوم، ذرائع ابلاغ کی بے توقیری اور عوام کی ان سے بے اعتنائی، موجودہ دور میں پاکستانی صحافت بھی ان ہی اثرات کا سامنا کررہی ہے۔

رائے عامہ کی سائنس میں یہ موضوع نظریہ ابلاغی اضطراب (Media Malaise) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ بہت وسیع موضوع ہے، پاکستان کی صورت حال میں اس کی روشنی میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن صحافتی تحریروں میں زیادہ پیچیدہ اور تیکنیکی بحث کی گنجائش کم ہوتی ہے۔ اس لیے اہل دانش اور اہل حکم کم لکھے کو زیادہ جانیں اور اس گندگی کے سوتے خشک کرنے پر توجہ دیں ورنہ یہ کشیدگی صرف شخصیات کو متاثر نہیں کرے گی کیونکہ اس کی آنچ ریاست تک بھی پہنچ رہی ہے۔

بشکریہ ہم نیوز

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *