کیسا ہونا چاہیے، 2020 ء؟ ( 3 )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیا سال یعنی 2020 ء کیسا ہونا چاہیے یہ اس سلسلے کا تیسرا مضمون ہے۔ پاکستان کو اس وقت داخلی طور پر کئی مسائل کا سامنا ہے جس میں ایک اہم مسئلہ سرکاری محکمے بھی ہیں۔ اس مضمون میں ہم انہی محکموں کا تذکرہ کریں گے۔

سرکاری محکموں کو خسارے سے نکالنا: پاکستان ریلوے، پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائینز (پی آئی اے ) سٹیل ملز، پوسٹل سروسز، پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور دیگر کئی سرکاری محکمے ایسے ہیں کہ جو عشروں سے خسارے میں جارہے ہیں۔ حکومت سالانہ اربوں روپوں کی رعایت ان محکموں کو دیتی ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ خسارے میں چلنے والے تمام سرکاری محکموں اور کارپوریشنز کا مکمل ڈیٹا جمع کریں۔ متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے سربراہوں کے ساتھ بیٹھ کر ان سرکاری محکموں کو خسارے سے نکالنے کے لئے جامع منصوبہ بند ی کریں۔

اسی طرح گیس اور بجلی سے متعلق محکموں کا بھی جائزہ لیا جائے اور ان کو خسارے سے نکالنے کے لئے پالیسیاں بنائی جائیں۔ سرکاری محکموں اور کارپوریشنز میں ایک اہم مسئلہ ان کے سربراہوں کا تقرر بھی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ تمام تر سیاسی وابستگیوں سے بالا ہو کر نئے سرے سے ان اداروں میں سربراہوں کے تقرر کے لئے قانون سازی کریں اور میرٹ کی بنیاد پر ان کے تقرر کو یقینی بنا یا جائے۔ نادرا بھی ایک اہم محکمہ ہے اس کو بھی نفع بخش بنانے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی سربراہ کے تقرر کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ اسی طرح گزشتہ کئی عشروں سے روایت چلی آرہی ہے کہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو ان اہم اداروں میں تعینات کیا جارہا ہے لہذا ضروری ہے کہ اس پر پابند ی لگائی جائے اور نئے لوگوں کو موقع دیا جائے۔

سکیموں کی بجائے ملک چلانے کے لئے پالیسیاں بنائی جائیں : گزشتہ تین عشروں سے جس بھی سیاسی جماعت کو حکومت مل جاتی ہے یا کوئی فوجی آمر اقتدار میں آتا ہے وہ ملک کے مسائل کو حل کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی بجائے سکیمیں شروع کرتا ہے۔ کسی نے ٹیکسی سروس اور لیپ ٹاپ کی سکیمیں شروع کی تو کسی نے انکم سپورٹ کے نام سے عارضی طور پر عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ موجودہ حکومت بھی اسی ڈگر پر چل رہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ملک کو مسائل سے نکالنے کے لئے سکیموں کی بجائے پالیسیاں وضع کریں۔

معاشی استحکام کے لئے ضروری ہے کہ اس کے لئے قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔ روزگار کے مواقع پیداکرنے کے لئے بھی سرکار کو نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے لئے ساز گار ماحول کی ضرورت ہے۔ جب تک حکومت ملک چلانے کے لئے سکیموں کا نظریہ ترک کرکے منصوبہ بندی کا طریقہ کار اپنا نہیں لیتی اس وقت تک ملک ترقی نہیں کر سکتا اس لئے ضروری ہے کہ حکومت اس نقطے کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔

توانائی بحران کو حل کرنے کے لئے منصوبہ بندی: بجلی اور گیس کی لو ڈشیڈنگ، اس کا ضیاع اور چوری کو روکنا حکومت کو موجودہ سال میں اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ گیس اور بجلی کے محکموں کے اعلی عہدے داروں کے ساتھ بیٹھ کر اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کریں۔ بجلی اور گیس کسی بھی ملک میں صنعتی سرگرمیوں کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ پانی اور متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے لئے منصوبے شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح پانی کا ضیاع روکنے کے لئے بھی ڈیموں کی ضرورت ہے۔ بجلی اور گیس کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے اور چوری روکنے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔

پولیس اور عدالتی نظام میں اصلاحات : ان دونوں محکموں کا تعلق عوام کی جان ومال کا تحفظ اور ان کو انصاف دینے سے ہے اس لئے ضروری ہے کہ حکومت نئے سال میں بڑے پیمانے پر ان دونوں محکموں میں اصلاحات کے لئے متعلقہ وزارتوں اور اعلی عہدے داروں کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کرے۔

ما حولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے جامع حکمت عملی ترتیب دینا:پوری دنیا میں ما حولیاتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں اگر چہ ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لئے درخت لگانے کے مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے مگر اس کا مقابلہ صرف درخت لگا کر نہیں کیا جاسکتا۔ ضروری ہے کہ حکومت اس مشکل کا مقابلہ کرنے کے لئے ماہرین کے ساتھ مل کر مکمل تحقیق کے ساتھ منصوبہ بندی کرے۔

اس کے ساتھ حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک کی عوام کو بین الاقوامی معیار کی صحت کی سہولیات اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لئے اقدامات کو بھی اپنی ترجیحات کا حصہ بنائے۔ اس وقت دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے اقدامات کا آغاز کیا گیا ہے مگر ضروری ہے کہ جلد بازی کی بجائے متعلقہ لوگوں کو اعتماد میں لے کر اس کار خیر کو انجام تک پہنچایا جائے اس لئے کہ ماضی میں بھی اسی طرح کی کوششیں کی گئی تھیں مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ نقصان ہی ہوا ہے۔

بعض معاملات اگر چہ صوبائی ہیں مگر ضروری ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نئے سال کی ترجیحات میں ان کو شامل کریں۔ پشاور میں بی آرٹی کامنصوبہ ہر صورت رواں برس مکمل ہونا چاہیے۔ سوات موٹروے بھی ابھی نامکمل ہے۔ آئے روز حادثات کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہورہی ہے۔ اس منصوبے کو بھی نئے سال کی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے تاکہ اس سال یہ منصوبہ مکمل ہو۔ خیبر پختون خوا کے قبائلی اضلاع (سابق فاٹا) کو بھی نئے سال کی ترجیحات میں جگہ دینی چاہیے۔

انضمام کے بعد بھی وہاں صورت حال جوں کی توں ہے۔ سرکاری ہسپتال ویران پڑے ہیں۔ تعلیمی نظام میں بھی کوئی بہتری نہیں آئی۔ سڑکوں کا تو وہاں تصور نہیں۔ اگر سابق فاٹا کو اس سال ترجیحات میں شامل کردیا جاتا ہے تو وہاں بھی ترقی اور خوشحالی کا آغاز ہو جائے گا۔ کاروباری سرگرمیاں شروع ہو جانے کی وجہ سے ملک کے دیگر بڑے شہروں پر ان کا انحصار کم ہوجائے گا۔ زراعت، لائیوسٹاک اور سیاحت سے صوبے کی آمدن میں اضافہ ہو گا۔

سرکاری محکموں کی فعالیت اور ان میں ملازمتوں سے نوجوانوں کو روزگار مل جائے گا۔ انضمام کے بعد سے لے کر آج تک وہاں کوئی بڑا منصوبہ شروع نہیں کیا گیا۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ تمام قبائلی اضلاع کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کرنے کے لئے موٹروے طرز کے کسی بڑے منصوبے کا آغاز کرے تاکہ وہاں کے پھل، سبزیاں اور دوسری فصلوں کوصوبے اور ملک کے دیگر حصوں میں منڈیوں تک رسائی مل جائے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ بلوچستان اور کراچی کو بھی اپنی ترجیحات میں رکھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *