”تاریخ اوچ متبرکہ“ ایک مطالعاتی جائزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دینی و علمی حلقوں میں جناب علامہ مفتی محمد سراج احمد قادری رضوی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، گزشتہ چالیس برسوں سے انہوں نے اوچ شریف جیسے چھوٹے سے علاقے میں دین کی شمع روشن کر رکھی ہے، اپنی دینی خدمات، معلمی جیسے مقدس پیشے سے عرصہ دراز تک وابستگی، جامعہ مدرسہ عزیزالعلوم کے خطیب اور جماعت اہلسنت اوچ شریف کے سرپرست اعلیٰ کی حیثیت سے اتحاد بین المسلمین اور بین المسالک ہم آہنگی کے لئے ان کی بے لوث کاوشوں کے سبب تمام مکاتب فکر کے حلقوں میں انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، ان کے علمی مرتبے کے سب لوگ معترف ہیں، گزشتہ روز انہوں نے اس بندہ ناچیز کو فون پر یاد کیا، جس کے نتیجے میں عشاء تک کا کچھ وقت ان کی شرف بازیابی میں گزرا، ملاقات کے دوران انہوں نے اس بندہ ناچیز کو خطہ پاک اوچ کی تاریخ وقدامت، تہذیب وثقافت، روحانی عوامل، جدید تشکیل اور موجودہ حیثیت کے حوالے سے حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی گراں قدر مفصل کتاب ”تاریخ اوچ متبرکہ“ کے تحفہ سے نوازا۔

792 صفحات پر مشتمل اس ضخیم کتاب کو ملک کے معروف اشاعتی ادارے ”ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور“ نے شائع کیا ہے جبکہ اس کی قیمت 820 روپے مقرر کی گئی ہے جو اس اعلیٰ پائے کی کتاب کے آگے کوئی حیثیت نہیں رکھتی، علامہ مفتی محمد سراج احمد قادری رضوی سے اس ناچیز نے پوچھا کہ کتاب کا نام رکھنے کے حوالے سے آپ کی کیا سوچ پنہاں تھی؟ کیونکہ ماضی قریب میں ”تاریخ اوچ“ کے موضوع پر جناب دین محمد عباسی اور جناب رشید احمد عباسی بھی کتابیں تصنیف کر چکے ہیں، اس سوال کے جواب میں علامہ مفتی محمد سراج احمد قادری رضوی گویا ہوئے کہ ”تاریخ اوچ متبرکہ“ کا نام انہوں نے اوچ شریف میں آرام فرما برصغیر پاک وہند کے عظیم صوفی بزرگ حضرت سید مخدوم جہانیاں جہاں گشتؒ کے مخطوطات سے مستعار لیا ہے کہ انہوں نے اپنے سفرناموں میں اوچ شریف کا ذکر ہمیشہ ”اوچ متبرکہ“ کے نام سے کیا ہے جو کہ اوچ شریف کی قدرومنزلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اوچ شریف کی تاریخی حیثیت، عروج وزوال، محمد بن قاسم کی آمد، اسلامی بادشاہوں کے ادوار، عظیم صوفی بزرگوں کے حالات وتعلیمات اور ارشادات کی تفصیل، ان کے ملفوظات اور تصنیفات کے حوالے سے ”تاریخ اوچ متبرکہ“ کو پندرہ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، ”تاریخ اوچ متبرکہ“ میں اوچ شریف کی تاریخی و تہذیبی حیثیت کا اس دور کی برصغیر کی تاریخ اور سیاسی عوامل کے حوالے سے تقابلی جائزہ بھی لیا گیا ہے جبکہ اوچ شریف کی موجودہ سماجی صورتحال، حالات حاضرہ، حدوداربعہ، اوچ شریف کی ترقی میں خانوادہ بخاریہ اور گیلانیہ کے کردار، اوچ شریف کی ریاست بہاول پور میں شمولیت، قیام پاکستان سے قبل اور بعد کے سیاسی وسماجی اور اہم سماجی شخصیات کی سوانح حیات پر تفصیل سے حوالہ جات کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔

یقیناً علامہ مفتی محمد سراج احمد قادری رضوی نے ”تاریخ اوچ متبرکہ“ کو منظر عام پر لا کر تاریخ و تحقیق سے نابلد نئی نسل، تاریخ دان طبقے اور کتب بینی کا شوق رکھنے والے افراد پر احسان کیا ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذوق علم و تحقیق میں مزید برکتیں عطا فرمائے، بندہ ناچیز جب تک مفتی صاحب کی قربت میں بیٹھا رہا، ممتاز ایرانی مورخ محمد قاسم فرشتہ کے اس ”حسب حال“ شعر کو یاد کرتا رہا جو ”تاریخ اوچ متبرکہ“ میں بھی موجود ہے

آنچہ زر مے شود از پر تو آن قلب سیاہ

کیمیا است کہ در صحبت درویشاں است

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *