عورت: سرکس کا ہاتھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فطرت میں دیکھا گیا ہے کہ دیوہیکل اور بڑی جسامت والے حیوان اپنی بے پناہ طاقت کے باوجود کاہل اور سہل پسند ہوتے ہیں، جبکہ کم طاقت والے اجسام چست اور محنتی ہوتے ہیں۔

یہی اصول عورت اور مرد پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

مرد جسمانی طور پر عورت سے طاقتور ہونے کی وجہ سے کاہل اور کام چور ہوتا ہے اور ساتھ میں سہل پسند، آرام، عیش و عشرت کا دلدادہ۔ وہ ذرہ برابر بھی درد برداشت نہیں کرتا لیکن اس کے بر عکس عورت جسمانی حساب سے کمزور، نازک ہوتی ہے لیکن وہ چست ہوتی ہے، وہ کاہل نہیں ہوتی اور درد پسند ہوتی ہے۔ موسمی حساب سے بھی ان کے اجسام میں کمال کی مدافعت پائی جاتی ہے جو گرمی اور سردی کو جھیلنے میں مرد سے پتہ نہیں کتنا گنا زیادہ آگے ہوتی ہے۔

مرد بنیادی طور پر اپنی کاہلی اور زورآوری طبیعت کی وجہ سے سامراجی نفسیات رکھتا ہے۔ لیکن عورت اس سے الٹ کمزوروں کا ساتھ دیتی ہے، ان سے محبت کرتی ہے۔

اور اگر اس کا معاشرتی چھید کرنا چاہیں تو کچھ ہزار برس پہلے اس دھرتی پر اس کی ہی حکومت تھی۔ مؤرخ، اور سماجی سائنسدان اس دور کو ”مادر سری دور“ کا نام دیتے ہیں جہاں مرد محکوم ہوتا تھا۔

ہندو مذہب درحقیقت اس دور کی پیداوار ہے جہاں زندگی میں نعمتیں یا زحمتیں دینے والے نہیں بلکہ ”والیاں“ ہوتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں ایشتار دیوی کا تصور بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔

لیکن پھر مرد اپنی طاقت کے زور پر مارشل لا لگاتا طاقت کا سارا پلڑا اپنی طرف کرنے میں جٹ گیا۔ اور اسے زیادہ دیر بھی نہیں لگی۔

کمزور اور قربان کردینے والی نفسیات نے عورت کو جلدی مرد کے آگے تابع کردیا۔

اور یوں ”پدر سری دور“ کی ابتدا ہوئی۔

دوستو وہ دن اور آج کا دن؛ دھرتی پر کہرام کی جنگیں لگتی گئیں، فتوحات کرتے اور پرائے علاقوں پر اپنی راجدھانیوں کا جھنڈا گاڑے ایسا لگتا ہے جیسے مرد ہمیشہ سے عورت کو کہتا آرہا ہے کہ دیکھو۔ تم تھی کیا۔ گھر کی چیونٹی۔ اب دیکھو کہ میں کیا کیا کر سکتا ہوں!

اگر انتہائی غور سے دیکھیں گے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ مرد اپنے اندر بلا کی احساسِ کمتری کو چھپانے کے لیے کیا کیا کرتا آیا ہے۔

وہ جنگیں کرکے عورت پر دھونس جمانا چاہتا ہے کہ دیکھو مجھے! میں کتنا دلیر، کتنا طاقتور۔

وہ حکومتیں کرتے عورت کو سندیسہ دے رہا ہے کہ دیکھو مجھ سا عیار کوئی اور ہو سکتا ہے جس کے سامنے اچھے اچھے بھی کانپتے ہیں۔ سو مجھ سے تم بھی ڈرو!

پھر ایجادات کرتا گیا۔ بنانے کے لیے کیا کیا بنا رہا ہے؟ باہر ہزار وجوہات ہوں لیکن اپنے اندر وہ عورت کو بتا رہا ہے کہ دیکھو تم ”انسان“ بنا سکتی ہو تو مجھے بھی دیکھو میں کیا کیا بنا رہا ہوں!

اور مرد اپنی تمام چالبازیوں میں، تمام زلالتوں میں دھرتی پر عورت کو زیر کر ہی گیا!

اس نے تمام نفسیاتی حربے چلائے کہ عورت کمزور ثابت ہو۔ اسے دلائل دیے کہ تم کچھ بھی نہیں، آدھی ہو میرے بغیر۔ عقل نہیں تم میں۔ وغیرہ وغیرہ۔

اور ان ہزاروں برسوں کی خطرناک ”گرم سرد جنگ“ میں عورت ہار گئی۔ وہ یہ طئے کر بیٹھی کہ واقعی وہ کمزور ہے

وہ یقین کر گئی کہ وہ آدھی ہے

وہ سمجھ گئی کہ وہ کچھ بھی نہیں بلکہ اگر وہ ہے تو بمعرفت اس شہنشاہ مرد کے!

اور یوں مشرق تا مغرب عورت مغلوب ہوگئی۔ درد سے اسے مزہ ملنے لگا سو وہ اپنے مرد کو کہنے لگی کہ: ”اک ستم اور میری جاں، ابھی جاں باقی ہے۔ “

ہاں ایسا ہوا کہ مشرقی تہذیبوں نے عورت کو تقدس کا برقعہ اوڑھا کر اس کے حقوق پائمال کیے تو مغرب نے اسے ننگا کرکے وہ ہی حرکت کی جو مشرقی کرتے آرہے ہیں۔

اگر کوئی صاحب یہ سمجھتا ہے کہ تعلیم سے عورت کی زندگی میں انقلاب آئے گا تو بھول ہے اس کی۔ کوئی انقلاب نہیں آ سکتا ہاں اگر مرد کا پورا مائینڈ سیٹ نہیں بدلتا!

مغرب میں عورت سیکس کی علامت ہے۔ وہاں کا مرد اپنی صنعتی مصنوعات بیچنے کے لیے ”عورت کے ننگے پن“ کو استعمال کر رہا ہے۔ میں تو اس حد تک کہتا ہوں عورت روتی ہی رہی ہے وہ چاہے نیو یارک کی ہو یا نوشہرو فیروز کی، لندن کی ہو یا لاہور کی، سویڈن کی ہو یا سکھر کی۔ بس کہ فرق یہ ہے کہ وہ سر عام روتی ہیں اور ہماری عورتیں چھپ کر۔ فرق کیا ہے؟

لیکن سچ تو یہ ہے کہ عورت وہ سرکس کی ہاتھی ہے جس کے کرتبوں سے سیٹھیا مرد لاکھوں کے حساب سے دولت کماتا ہے۔ اور وہ سیٹھیا اس پتلے مداری کی مانند ہوتا ہے جو اس ہاتھی کی پیٹھ پر سوار ہوکر ایک معمولی چھڑی سے اُسے اِدھر سے اُدھر ہانکتا رہتا ہے۔ سرکس میں تمام شائقین کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ ہاتھی ہے۔ بس کہ صرف ہاتھی نہیں جانتا کہ وہ ہاتھی ہے۔ اور اگر وہ اپنے بارے میں جان جائے تو ایک ہی جھٹکے سے اس مداری کو گرا کر صرف اپنی سُونڈ ہی اس ہر رکھے تو وہ مر جائے!

ٹھیک اسی مثال کی طرح، عورت کو بھی نہیں پتہ کہ وہ کیا ہے! اور ڈرو اس دن سے جب یہ جان جائے گی۔ یاد رکھنا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *