ملکی بقا اور سلامتی کے لئے معاشی مساوات ناگزیر ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلے اشیا کی قیمتیں سال کے بعد بڑھتی تھیں۔ پھر یہ عرصہ چھ ماہ ہوا۔ اب ہر چند دنوں کے بعد اکثر اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا ایسا سلسلہ چل نکلا ہے کہ سفید پوش افراد کے لئے دو وقت کا کھانا بھی دشوار سے دشوار تر ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مختلف نوعیت کی سرکاری وصولیوں کی مقدار اور حدود میں بھی اتنا اضافہ کیا گیا ہے کہ صحیح معنوں میں عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں۔

قیام پاکستان کا بنیادی محرک یہی تھا کہ برصغیر کے مسلمان معاشی طور پر شدید بدحالی کا شکار تھے اور ان کا یہ یقین پختہ ہو چکا تھا کہ انگریزوں کے جانے کے بعد ہندو اکثریت کے اقتدار میں انہیں مزید برے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان بن گیا لیکن چار پانچ سال میں ہی پاکستان بنانے والے رہنماؤں کے منظر عام سے ہٹتے اور ہٹائے جانے کے بعد، ملک میں طبقاتی تقسیم اور بالادستی کو مضبوط سے مضبوط کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ آج اس کی بدترین صورتحال ملک اور عوام کے لئے تباہ کن نتائج کے ہولناک خطرات لئے ہوئے ہے۔

ملک کے اقتصادی حالات کو خراب بتاتے ہوئے حکومت یوٹیلٹی بلوں، پیٹرول و دیگر ایسی اشیا میں آئے روز اضافہ کرتے ہیں کہ جس اضافے سے شہریوں کو کئی مختلف حوالوں سے ناقابل برداشت مہنگائی کا شکار ہونا پڑ رہا ہے۔ ملک کی ابتر اقتصادی صورت حال کا جواز پیش کرتے ہوئے آئے روز بجلی، گیس، پیٹرول وغیرہ اور مختلف نوعیت کے ٹیکسوں کے عنوانات اور مقدار میں اضافہ کیا جاتا ہے اور دوسری طرف سرکاری تنخواہیں پانے والوں کی مراعات میں ہر سال اضافہ ناگزیر ضرورت کے طور پر کیا جاتا ہے۔ کیا یہ جائز بات ہو سکتی ہے کہ ملکی نظام چلانے والوں اور عام شہریوں کے معیار زندگی میں اتنا زیادہ فرق ہو کہ سرکاری تنخواہیں پانے والے اعلی لوگ شاندار سماجی زندگی انجوائے کر رہے ہوں اور عام شہری فقیری کے باوجود زندہ رہنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہوں؟

حکومتی عہدیداران اور اعلی سرکاری افسران کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھیں تو وہ شاہانہ زندگی بسر کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا معیار زندگی اعلی تر معیار کا نظر آتا ہے۔ حکومتی عہدیدار و سرکاری افسران کے بنائے قواعد و ضوابط انہی کے مفادات کو یقینی بناتے ہیں۔ جج کی تنخواہ و مراعات میں ایک انوکھا فارمولہ اپنایا جاتا ہے کہ جج حضرات کی تنخواہیں اتنی زیادہ رکھی جائیں کہ وہ کرپشن کا سوچ نہ سکیں اور پوری دلجمعی سے انصا ف کی فراہمی پر توجہ دے سکیں۔ پھرتو ہر شعبے کے افراد کی تنخواہیں اتنی زیادہ ہونی چاہئیں کہ وہ پوری دلجمعی سے اپنے فرائض سرانجام دیں اور انہیں کرپشن کی ضرورت پیش نہ آئے۔

ہر شعبے کے ہر فرد کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرائض پوری دیانتداری سے ادا کرے، اپنی ذمہ داری کے تقاضے پورے کرنا کسی پہ احسان نہیں ہوتا بلکہ اپنے عہدے اورتنخواہ کے لئے اقرار کیے گئے فرائض کی انجام دہی ہوتا ہے۔ انسان کی شکل والوں کو انسان ہی سمجھا جاتا ہے، انسانوں کا تعلق مختلف شعبوں سے ہوتا ہے، اصل ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ ہر شعبے سے منسلک افراد اپنے شعبے سے متعلق فرض، ذمہ داری اور اخلاقی اصولوں پر سختی سے کاربند رہیں۔

اس معاملے سے بھی اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ مملکت خدا داد پاکستان میں غلامانہ طرز عمل ہر شعبے پہ محیط نظر آتاہے۔ سماجی، سیاسی، حکومتی، سرکاری، ہر شعبہ غلامانہ طرز عمل کی کھلی مثالیں لئے ہوئے ہے۔ ملک پہ گراں قرضوں اور ملک میں امیر اور غریب کے خوفناک فرق کے پیش نظر بھیمعاشی مساوات قائم کرنا ملکی سلامتی اور بقاء کے لئے ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم اقدام تو یہ ہو سکتا ہے کہ حکومتی عہدیداران اور سرکاری افسران کی تنخواہوں اور مراعات میں کم از کم پچاس فیصد کمی کی جائے۔

اس کے ساتھ ہی اگر یہ پابندی بھی عائد کر دی جائے کہ تمام سرکاری تنخواہیں پانے والے (چاہے وہ حکومتی عہدیدار ہوں یا کسی بھی ادارے سے منسلک) اپنا علاج صرف سرکاری ہسپتالوں سے کرا سکتے ہیں اور ان کے بچے صرف سرکاری تعلیمی اداروں سے ہی تعلیم حاصل کریں گے، تو یقین کیجئے کہ پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں اور سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار چند ہی دنوں میں نجی شعبے سے بھی بہتر ہو جائے گا۔

ایک تلخ حیققت یہ بھی ہے کہ ”بھولے“ عوام کی توجہ ان کی ابتر حالت سے بہکائے رکھنے کے لئے، ان کی توجہ ایسے موضوعات کی طرف مائل رکھی جاتی ہے کہ جن امور میں عوام کی صرف خواہشات ہی ہو سکتی ہیں، وہ ان امور میں کوئی بھی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ عوام کی توجہ سیاسی، حکومتی اور اقتدار کی کھینچا تانی اور پاکستان کے علاقائی و عالمی کردار کے موضوعات کی طرف ہی مبذول رکھنے کے کی کوشش نظر آتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *