ٹک ٹاک کا کاروبار، نکاح متع اور ہتھ چھٹ حکومت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیا سال آتش بازی اور موسیقی کی تیزلہروں کے ساتھ نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور امریکہ سے ہوتا ہو سخت سردی اور دھند میں پاکستان آیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سردی جنوری کے مہینے غالب رہے گی، مگر فواد حسن فواد اور سعد رفیق کی بیرک کے باہر لگی آگ کا ’سینک‘ شہباز شریف تک جا پہنچا۔ بقول سعد رفیق اس کو چوٹ لگی۔ لاہور سے روزانہ قومی اسمبلی کا اجلاس اٹینڈ کرانے اسے اسلام آباد لایا جاتا ہے اور اجلاس ختم ہونے کے بعد واپس لاہور جیل میں۔ باقی اپوزیشن لیڈر بھی اسی طرح نئے سال کا استقبال کرتے نظر آتے ہیں۔ البتہ رانا ثنا نئے سال کو انجوائے کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

نئیے سال کے آغاز میں ہی امریکہ نے ایران کو جنرل سلیمانی کی موت کا تحفہ دیا ہے۔ ایران نے بھی امریکہ کو ایسا ہی تحفہ دینے کا اعلان کیا ہے، ساتھ ہی ٹرمپ کے سر کی قیمت اسّی ملین ڈالر مقرر کردی ہے۔ جو کوئی خوش نصیب ٹرمپ کا سر لے آئے گا، اس کو اسّی ملین ڈالر انعام دیا جائے گا۔ یہ اعلان تو کسی غمخوار نے کر دیا، جیسے پاکستان میں کسی سرپھرے وزیر نے پچاس لاکھ نوکریاں دینے کا اعلان کردیا تھا اور ایک منصف بابے نے ڈیم بنانے کا اعلان کردیا۔

وہ منصف بابا اتنا معزز تھا کہ حکومت نے بھی ڈیم بنانے کے لئے چندہ مانگنا شروع کر دیا۔ لوگوں کے موبائل بیلنس میں سے چندہ کٹنا شروع ہوا تو فوج نے اپنی ایک دن کی تنخواہ بابا جی کے نام کر ڈالی۔ ایران میں بھی اب ایک سیانے وزیر نے ٹرمپ کے سر کی قیمت انعام کے طور پر دینے کے لئے عوام سے چندہ مانگ لیا ہے۔ عوام اسی ملین ڈالر چندہ دے گی، جب چندہ جمع ہو جائے گا تو کوئی خودکش حملہ آور بھی مل جائے گا۔ غمگین ایرانی یقینی طور پر چندہ دیں گے جیسے ہم کہیں جنازہ پڑھنے جائیں تو امام صاحب جنازہ پڑھانے سے پہلے مسجد کی تعمیر کے لئے چندہ مانگ لیتے ہیں اور غمخوار چونکہ صدمے کی حالت میں ہوتے ہیں، اس لئے دل کھول کر چندہ دیتے ہیں اور اپنی آخرت اچھی کرتے ہیں۔ ایرانی قوم ٹرمپ کے سر کا تحفہ تو شاید نہ حا صل کر سکے البتہ چندہ دے کر ثواب دارین ضرور حاصل کر لے گی۔

پاکستان میں نئے سال کا آغاز سخت سردی سے ہوا۔ اس طرح کی کپکپی والی سردی کبھی کبھی آتی ہے۔ اس طرح کی سردی کے لئے، ہمارے علاوہ، لنڈے کے کوٹ بیچنے والے دعائیں کر کر کے تھک جاتے ہیں، پھر کہیں ان کی سال کی روزی بنتی ہے۔ سال نو کے آغاز پر سرد راتوں کی سلگتی ہوئی تنہائی، اشرافیہ نے حریم شاہ کی قربت سے انجوائے کی۔ روزانہ ایک نئیے وزیر کی ویڈیو مارکیٹ میں آتی ہے۔ شیخ رشید جسے ہم جیسے ناسمجھ مردانہ صفات سے بے نیاز سمجھتے تھے، میدان حسن کی گرمی سے اپنے ہاتھ سینکتے نظر آئے۔ وہ بقول شخصے نکاح متعہ کے مرتکب پائے گئے۔ نکاح کسی بھی صورت میں ہو جائز بات اور حلال ہے۔ شیخ صاحب مگر چھینا جھپٹی کے عادی ہیں۔ ان کی گفتگو اور سیاسی پیشین گوئیاں نکال کر دیکھی جائیں تو ایک کتاب چھپ سکتی ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد مشتاق احمد یوسفی صاحب بھی مزاح میں پیچھے رہ جائیں گے۔

حسن کی اس کشاکش میں اینکرز بھی اپنے ہاتھ رنگتے نظر آئے ہیں۔ ایک اینکر جس کا بقول وزیر محترم اپنا کردار داغدار ہے، وزیر محترم پر گرما گرم پروگرام کر دیا۔ ایک شادی میں وزیر صاحب نے اینکر کو تھپڑ دے مارا، وزیر صاحب پہلے بھی صحافیوں کو تھپڑ مارتے رہے ہیں۔ ان جیسے لوگوں کو ’ہاتھ چھٹ‘ کہا جاتا ہے۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی تھا کہ ایسے وزیروں سے دور رہا جائے، لیکن اینکر موصوف بھی ’زبان چھٹ‘ یعنی منہ پھٹ واقع ہوئے ہیں اس لئے ان دونوں پر مزید گفتگو کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

معاشرتی طور پر ہم اتنے گر چکے ہیں کہ کسی کی عزت محفوظ نہیں۔ اس حمام میں وزیر کبیر اور اینکرز زیادہ ننگے پائے گئے ہیں۔ غریب آدمی کی تو پہلے بھی کوئی عزت نہ تھی۔ اب اوپر والوں کے سروں پر خاک پڑی ہے تو سائیبر کرائم کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے۔ وزیر صاحب اپنی بے بسی کی اسمبلی میں دُہائی دے رہے ہیں، کہتے ہیں ہم سے عدلیہ اور فوج اچھی، جن کے خلاف کوئی بات کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ حالانکہ موصوف پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔

اس گرمی سردی کا فائدہ اٹھانے والے دو لوگ ہیں۔ ایک وہ ٹک ٹاک سٹار جو براستہ دبئی، باکو میں مزے کر رہی ہے۔ کچھ عربی شیخ بھی سرمائے کے زور پر ٹک ٹاک کھیل رہے ہیں۔ پاکستان کے معززین البتہ اپنی ناک بچاتے پھرتے ہیں اور انڈر ہینڈ ڈیل کی کوشش میں مصروف ہیں۔ یہ لوگ انڈر ہینڈ ڈیل کے ویسے بھی ماہر ہیں۔ پاکستان میں کاروبار، شادی اور حکومت، ڈیل کے بغیر نہ ملتی ہے نہ چل سکتی ہے۔ جہاں حکومتی وزیر ٹک ٹاک سے ڈیل میں مصروف ہیں وہیں اپوزیشن والے حکومت حاصل کرنے کی ڈیل میں اپنی جمہوریت پسندی، مزاحمتی بیانیہ اور عزت سادات، سب کچھ قربان کرتے نظر آتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *