کیا پاک بھارت تعلقات نئے سال میں بھی 2019 ء کے سایہ تلے ہی رہیں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سال 2019 ء کے دوران پاک بھارت تعلقات انتہائی سرد مہری کا شکار رہے اور گذشتہ سال کے آخر تک دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی اور سفارتی تعلقات انتہائی نچلی سطح پر دیکھے گئے جو بلاشبہ گذشتہ دہائی کے دوران سب سے زیادہ خراب حالت میں قرار دیے جاسکتے ہیں۔

ماہ نومبرپاکستان کی طرف سے بھارتی سکھوں کے لئے کرتارپور راہداری کھولنے سے سرد مہری کی برف پگھلنے کی ایک ہلکی سی امید پیدا ہوئی تھی مگر پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی طرف سے دسمبرکے وسط میں جنیوامیں منعقدہ گلوبل ریفیوجی فورم کے اجلاس میں بھارتی سٹیزن امینڈمنٹ ایکٹ پر کڑی تنقید اور اس خدشہ کے اظہار کے بعد کہ بھارتی حکومت کے نئے قانون سے پناہ گزینوں کا بحران دو ایٹمی طاقتوں کو سامنے لاکھڑا کرنے کا سبب بن سکتا ہے، ایک مرتبہ پھر تناؤ کی کیفیت میں اضافہ ہو گیا ہے۔

پاکستانی وزیراعظم کے بیان کے ردعمل میں بھارت نے اسے بے معنی اور غیرضروری قرار دیتے ہوئے بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔ گذشتہ برس کے دوران پاک بھارت تعلقات کشیدگی کا شکار رہے اور دونوں طرف سے ایک دوسرے پر الزام بازی کا سلسلہ بھی کم وبیش چلتارہا ہے۔ فروری 2019 ء کے دوران بھارت کے زیرانتظام کشمیرکے علاقہ پلوامہ میں ایک خودکش حملہ میں فوجیوں کی ہلاکتوں کا الزام بھارت نے پاکستا ن پر عائد کرتے ہوئے پاکستانی علاقہ بالاکوٹ میں دہشت گردوں کے قائم کردہ مبینہ کیمپوں پر فضائی حملہ کر دیا۔ کنٹرول لائن پر پاکستانی فضائی حدود میں دونوں ملکوں کے طیاروں کی فضائی جھڑپ بھی ہوئی مگر خوش قسمتی سے تنازعہ کا مزید بگڑنے سے بچا لیا گیا اور حالات دوبارہ سازگار دکھائی دینے لگے۔

ماہ مئی میں بھارتی وزیراعظم نریندرمودی عام انتخابات میں واضح برتری حاصل کرکے دوسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوگئے جس پر ان کے پاکستانی ہم منصب عمران خان نے انہیں مبارکباد کا پیغام دیتے ہوئے خطہ میں امن اور ترقی کے لئے ساتھ چلنے کی خواہش کا اظہارکیا۔

وزیراعظم مودی نے اس کے جواب میں اعتماد کی فضا بحال کرنے، تشدد اور دہشت گردی کے خاتمہ کے اقدامات پر زوردینے کی بات کی۔ اس تبادلہ خیال سے امید بندھی تھی کہ تعلقات میں بہتری پیداہوسکتی ہے اور یہ خبریں بھی گردش کرنے لگیں کہ پاکستان اور بھارت کے مابین ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے تحت اسلام آباد میں دونوں ملکوں کے نمائندوں نے ملاقاتیں کی ہیں جو پلوامہ حملہ کے بعد اس نوعیت کا پہلا رابطہ تھا۔

ماہ اگست 2019 ء میں بھارتی حکومت نے اپنے آئین کی شق 370 کو ختم کردیا جو کشمیرکو خصوصی ریاستی سٹیٹس دیتی تھی اور وہاں اپنا تسلط قائم کر لیا جس کا پاکستان اور پاکستانی وزیراعظم کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا اور دونوں ملکوں کے درمیان ہرقسم کے تعلقات تعطل کا شکارہوگئے جو ابھی تک جوں کے توں ہیں۔ ستمبر 2019 ء میں دونوں ملکوں کے وزراء اعظم کے اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لئے دورہ امریکہ کے دوران بھی کشمیر کا تنازعہ شہ سرخیوں کا حصہ رہا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کشمیر پر ثالثی کی خواہش کا اظہار بھی کیالیکن اس کے بعد اس پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔

سال 2019 ء کے دوران پاک بھارت تعلقات کے اتارچڑھاؤ کا یہ مختصر خاکہ تھا اور اب سوال یہ سامنے آتا ہے کہ سال 2020 ء کے دوران دونوں ملکوں کے تعلقات کی نوعیت کیاہوگی۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کسی بھی واقعہ یا حادثہ سے ڈرامائی تبدیلی کی توقع ہر وقت موجودہوتی ہے لیکن دونوں ممالک کے تعلقات کی تاریخ کا جائزہ لینے اور حالیہ تناؤ کو سامنے رکھتے ہوئے اس نتیجہ پرپہنچاجا سکتاہے کہ ماضی میں دونوں ملکوں کے تعلقات اذیت ناک حد تک خراب اور سخت گیری کا شکاررہے ہیں جنہیں آپ 1947 ء میں تقسیم ہندکے دوران ہونے والی بہیمانہ قتل وغارت گری اور لوٹ مار اور پھر دونوں ملکوں کی اسٹیبلشمنٹ کے رویہ اور بعد کے واقعات کا شاخسانہ قرار دے سکتے ہیں۔

ان سات عشروں سے زائد کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان ٹھوس بنیادوں پر باہمی تعلقات استوارکرنے کی کوششیں ہوئیں اور سربراہان مملکت ملے تاہم فوجی تنازعات اور دہشت گردانہ حملوں بالخصوص 2001 ء کے بھارتی پارلیمنٹ پر حملے، 2007 ء میں سمجھوتہ ایکسپریس پر بم حملہ اور 2008 ء کے ممبئی حملہ کے علاوہ 2016 سے 2018 ء کے درمیان کنٹرول لائن پر کشیدگی نے ایسی تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا ہواہے۔ نریندرمودی کے دوبارہ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد امید کی ایک ہلکی سی کرن نمودارہوئی تھی لیکن جلد ہی یہ ختم ہوگئی اور اب رواں سال کے دوران حالات امن کے لئے زیادہ سازگاردکھائی نہیں دے رہے۔

ساؤتھ ایشین وائس کے لئے لکھے گئے اپنے آرٹیکل میں تانوی کلکرنی نے واضح کیاہے کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان پر ملک کے اندرونی اور معاشی حالات کی بناء پر کافی دباؤ ہے اور وہ نئے سال میں اسے دورکرنے کے لئے جدوجہدکرتے دکھائی دیں گے جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی پی ٹی آئی کی حکومت سے دہشت گرد گروپوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کی آس کے علاوہ جموں وکشمیر میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے چیلنج سے نبردآزماء ہوں گے۔

ان حالات میں امریکہ بھی دونوں ملکوں میں تعلقات کی ابتری کی وجہ پاکستان کی طرف سے بھارت مخالف دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی میں تساہل کو قراردے رہا ہے۔

سال 2019 ء کے حالات کے پیش نظر سال 2020 ء میں بھی پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی توقع عبث دکھائی دیتی ہے لیکن تین ایسے فیکٹرز ہیں جو دونوں ملکوں کو امن کی طرف لے جانے میں ممدومعاون ثابت ہوسکتے ہیں ان میں معاشی دباؤ، موسمیاتی تغیرات اور امن کی خواہشات ہیں۔

تنازعہ کشمیر کی وجہ سے ابھی تک دونوں ملکوں میں تجارت پابندیوں کو وجہ سے شدید مسائل اور مالی مشکلات کا سامنا رہا اور جہاں بھارت کو 1.4 ارب ڈالرز کا نقصان اٹھاناپڑا اور پاکستان کو ادویات اور کاٹن کی فراہمی مکمل طورپر رک چکی ہے۔

سال 2020 ء میں یہ نقصان مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیداہونے والے مسائل دونوں ممالک مشترکہ طورپر متاثر ہورہے ہیں اور موسمیاتی شدت، خشک سالی اور سیلاب کی تباہ کاریاں بھی ہر دوجگہ یکساں طورپر تباہی پھیلارہی ہیں۔

پاکستان اور بھارت موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں اولین نمبروں میں شمارکئے جارہے ہیں اور موسمیاتی تبدیلیاں کوئی سرحدیں نہیں دیکھتی اس لئے اس سے نمٹنے کے لئے مشترکہ کاوشیں ہی بہترنتائج دے سکتی ہیں۔

دونوں ممالک کے لئے امن کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں کی مجموعی آبادی ڈیڑھ ارب نفوس پر مشتمل ہے اور دونوں ہی ایٹمی طاقتیں بھی ہیں۔ دونوں ممالک کے بگڑتے تعلقات اگر جنگ تک پہنچ گئے تو یقینی طورپر طرفین میں سے کوئی فاتح نہیں ہوگا بلکہ دنیا کی یہ بڑی آبادی کسمپرسی کی حالت میں دھکیل دی جائے گی۔

کیا دونو ں ممالک 2019 ء کے تلخ سایوں کے ساتھ 2020 ء بھی گزاریں گے اور اس کا ممکنہ جواب ہاں میں ہی دیا جاسکتاہے اور اس سلسلہ میں کسی کو خوش فہمی یا غلط فہمی میں مبتلا نہیں رہنا چاہیے کیونکہ زمینی حقائق اسی امر کی غمازی کررہے ہیں۔ میں یہ خواہش ہی کر سکتا ہوں کہ 2019 ء کی تلخ حقیقتیں اور منحوس سایہ سے نئے سال میں دونوں ممالک جان چھڑانے میں کامیاب ہو جائیں اور 2020 ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات کی بنیاد کا آغاز ثابت ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *