توبہِ عشق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں تو یہ جانتی ہی نہیں کہ کیا ہو گئی میری توبہ قبول کیا ہو گئی معافی میری

تو پھر۔ تو پھر کیسے ایک اور گناہ پر راضی ہو گئی

کیا یہ جو آئینے میں موجود میرا عکس ہے کیا یہ بھی جواب نہیں دے گا کیوں

یہ بھی تو میں ہی ہوں

میں ہوں ہاں میں ہی تو ہوں

خودکو جانتی ہوں سمجھتی ہوں مطلب اور کوئی تو ویسے جانتا بھی نہیں جیسے یہ عکس مجھے جانتا ہے تو یہ جواب کیوں نہیں دیتا

مجھے جواب چاہیے کہ کیا مجھے معافی ملی؟

توبہ قبول ہو گئی؟

میں نے اگر کسی سے محبت کر لی اور انتہا کر گئی لیکن وہ ہی نہ میرا ہوسکا تو کیا کیا

میری ہی خطا ٹھہری قصور بھی میرا ٹھہرا

جب وہ گیا تو ایسا لگا کہ جیسے سانس رک جائیں گی میری

لمحہ لمحہ تڑپاتا تھا اب وہ تڑپائے گا نہیں لیکن میں مر ضرور جاؤں گی اس جدائی میں اس تنہائی میں

جب جب ناراض ہوتا تھا

مناتی تھی جتن کر کے کبھی اداؤں سے کبھی شرارتوں سے کبھی جھک کے کبھی ہاتھ تھام کے کبھی اپنے ہاتھ جوڑ کے لیکن منا ہی لیتی تھی

ہاں اب سوچتی ہوں جہاں اتنا کچھ کیا وہاں تھوڑی اپنی عزت بھی کروا لیتی

مطلب محبت تھی بلکہ یوں کہیں کہ محبت نہیں عشق تھا ان سے لیکن ان سب میں عزت و انا سب کہیں گم ہو چکا تھا کہیں خاک ہو چکا تھا

وہ بادشاہ اور میں غلام کنیز

سزا کیا ہوتی ہے تب جانا جب اسے خفا ہوتے دیکھا

میں پاگل نفل مان لیا کرتی کہ اب مانے گا تو اتنے نفل ادا کروں گی

اس کی جدائی سے اتنا ڈرتی کہ اس کی حفاظت کے لئے بھی دن رات دعا کرتی

اور وہ مجھے تحفوں سے خوش کرنا چاہتا تھا اپنی کسی اور کی طرف کشش کو قیمتی تحائف کے پیچھے چھپانا چاہتا تھا

مجھے ایسا لگتا تھا کہ جیسے قیمت تحفوں کی نہیں میرے جذبات کی لگا رہا ہے ظالم

میں بھی مسکرا دیا کرتی انجان ہنسی جیسے کچھ جانتی ہی نہیں اور وہ مطمئین ہو جاتا

اس کو خبر ہی نہ تھی کہ یہ جو عورت ذات ہے اپنے شوہر اپنے محبوب کی بے وفائی کو بڑی جلدی بھانپ لیتی ہے اور نگوری کی سوچ بھی حقیقت پر رکتی ہے جس پر شک کرتی ہے اصل میں بھی وہی قصور وار ہوتی ہے

کتنی عجیب سی بات ہے کہ خاموش رہی تو سب چھپا رہا اس نے بھی ظاہر نہ کیا اپی محبت کسی اور کے لئے

احتجاج کیا تو عیاں کر دیا سبھی عشق ماجرا

سزا دیتا تھا تھوڑی تھوڑی

اب یہ تھوڑی تھوڑی کیا ہوتا ہے سزا یا تو ہوتی ہے یو نہیں ہوتی ہاں آدھی یا پوری ہوتی ہے یہ تھوڑی تھوڑی کیا ہے

تو بتاتی ہوں کہ

جب آپ کا ماہی آپ کو نظر انداز کرے

آپ کو دیکھ کر ان دیکھا کرے

اس کے لب سے آپ کے لئے ایک بھی حرف ادا نہ ہو

آپ کے سامنے آپ کے رقیب کو مخاطب کرے

آپ کے وجود کی موجودگی کا احساس بھی نہ رہے

آپ کی محبت آپ کی توجہ احساس کا انکاری ہو

آپ کی دلربائی کو وہ ہرجائی منافقت کہ دے

یہ تو کچھ ہی ہیں جناب لیکن یہ کچھ بھی بلا کی تکلیف دیتے ہیں یہ لمحے نہیں سزا ہوتی ہے تھوڑی تھوڑی

لیکن ایک دن میں تھک چکی تو گھٹنے ٹیک دیے اس کے سامنے کہ لو حاضر ہوں دے دو سزا جو چاہو

اس نے مسکرا کر مجھے کہا وقت دو مجھے

اس کی مسکراہٹ نے دل چیڑدیا میرا کیونکہ وہ مسکراہٹ دلفریب نہیں دلبرداشتہ تھی جیسے

کہ کہ رہی ہو اب کہاں گیا تیرا وہ ضبط

تیرا ارادہ عہد تیرا کہ میرے ہو میرے ہی رہو گے

دیکھ اب تیرا بھی نہیں اور تیری محبت کو کسی حیثیت میں لاتا بھی نہیں

اب کوئی اور بھاتا ہے مجھے اس کی وقعت بہت زیادہ ہے تجھ سے

میں نے نم دید لیے مان لی ہار اور کہا میری عمر لے لو پر مجھے اپنے وجود سے دستبردار نہ کرو

وہ دن دوبارہ آیا ہی نہیں کہ پھر سے تھام کر ہاتھ قربان ہو جاؤں کیونکہ چھوڑ گیا مجھے وہ اسی پہر مانگ کر وقت دے گیا عمر بھر کا روگ

جس کے بنا ایک لمحہ گراں گزرتا تھا

اب شب و روز اس کی یاد میں گزرتے ہیں

پر میں نے تو توبہ کر لی تھی کہ اب نہیں ہوگی محبت مجھ سے اب نہیں دل گرفتار ہوگا کسی عشق کے قفس میں نہ جھکاؤں گی سر کسی کی وفا کے سامنے

تو پھر کیوں دل دھڑکنا چاہتا ہے میرا

پھر کیوں کسی کے پیار پر پیار آتا ہے

کیا میں منافقت کر رہی ہوں اس کی محبت کا حق کسی اور کو دے رہی ہوں، ؟

یا میری توبہ قبول نہ ہوئی؟ اور کائنات چاہتی ہے قوسِ قزح کے رنگ پھر سے دامن میں آجائیں میری

مجھے تو اس سے عشق تھا تو دیکھو کیسے برباد ہوئی ہاں کیونکہ عشق تو انسان کے بس کا روگ ہی نہیں

اب جب برباد ہو چکی تو کیوں کوئی اباد کرنے کو بضد ہے

میرے عکس مجھے بتا کیا حق ہے مجھے پھر سے سانس لینے کا؟

کیا اس کو اجازت دے سکتی ہوں میرے دل کی جانب بڑھنے کی؟

کیا اس کے پیار کو خود پر عیاں ہونے دوں کہ شاید اس جاوداں خوشی سے میرے خزاں دل پر بہار آجائے؟

کیا یہ بھر دے گا ہر وہ زخم جو عشق کر کے پائے میں نے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *