سوشل میڈیا اور تھیٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک عجیب سی خواہش تھی میری۔ میں جب بلوچستان یونیورسٹی میں ایم اے انگریزی ادب کا طالب علم تھا، ہمارے اساتذہ ڈرامے کے متعلق ہمیں پڑھاتے تھے اور ہمیں ارسطو کی مشہورکتاب بوطیقا بھی پڑھائی جاتی تھی، تو جب میں یونان اور روم میں ڈرامے کے اسٹیج کی ہزاروں سال پہلے کی تصویریں دیکھتا، تو من میں ایک خواہش سی پیدا ہوجاتی تھی کہ کاش ہمیں بھی کوئی ایسا ہال مل جائے کہ جب بھی جی چاہے، اس کے اسٹیج پر ڈراما پیش کریں۔ تو پشتو اکیڈمی کوئٹہ کی جدید عمارت کے قیام نے میرا یہ خواب پورا کر دیا اور یہاں ایک شاندار ہال کا قیام منظر عام پر آیا۔ جس کا نام پشتو اکیڈمی کے بانی اور ہمارے بزرگ اہل قلم، مترجم اور سیاستدان خان عبدالصمد خان اچکزئی شہید کے نام سے اور ان کی یادوں کو زندہ رکھتے ہوئے ”خان شہید“ ہال رکھا گیا۔

اگرچہ ہمارے تمام ادارے تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ سوشل میڈیا کی مدد سے ایک بالکل نئی سوچ اور ذہنی طور پر بدلی ہوئی سوسائٹی سامنے آرہی ہے اور اس سوشل میڈٰیا کے اپنے اچھے اور شاندار پہلو ہیں، تو ایک دن جب میں نے اپنی اس خواہش کا اظہار پشتو اکیڈمی کے صدر سید خیر محمد عارف اور جنرل سیکرٹری جناب خلیل باور سے کیا، تو چونکہ وہ دونوں بھی جدید سوچ کے ترجمان ہیں، انہوں نے فوری طور پر حامی بھری اور کہا کہ جب بھی جی چاہے آپ ہمیں کہیں، ہم خان بابا کے ہال کے اسٹیج پر کوئی نہ کوئی ڈرامہ پیش کردیں گے اور ڈرامہ تو ویسے بھی ادب، تاریخ اور ترقی کی بنیاد ہے۔

تو نزدیکی وقتوں میں فوری طور پر ہمارے ہاں اسی پشتو اکیڈمی میں ڈرامے کے بادشاہوں جناب اے ڈی بلوچ اور جناب حبیب پانیزی کی خدمات حاصل کی گئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے مختصر وقفوں کے ساتھ دو شاندار ڈرامے پیش کیے گئے۔

یہ دونوں ڈرامے جناب اے ڈی بلوچ نے لکھے تھے، جن کا حبیب پانیزئی نے پشتو زبان میں ترجمہ کیا اور چونکہ حبیب ایک نامور، اچھے اور شاندار ڈرامہ آرٹسٹ ہیں، اس لئے ان دونوں ڈراموں میں مرکزی کردار بھی انہوں نے خود ہی ادا کیا اور ایک بہت بڑی تعداد میں بیٹھی ہوئی audience آڈینس نے ان دونوں ڈراموں کو خوب سراہا بھی۔ ان دونوں ڈراموں کی ڈائریکشن بھی جناب اے ڈی بلوچ نے دی اور سیٹ اور تکنیکی سلسلے کو کنٹرول کرنے کا کریڈٹ بھی انہی کا تھا۔

ان میں سے پہلا ڈرامہ ”دیکھ تماشا“ ( یو دی مہ مرہ) گزشتہ دنوں اس وقت پشتو اکیڈمی میں پیش کیا گیا، جب سہ روزہ عالمی ادبی کانفرنس کا انعقاد ہوا، جبکہ دوسرا کھیل اسی علمی ادارے کی مدد سے پشتون کلچر ڈے پر۔ یہ دونوں ڈرامے مکمل طور پر سوشل Satire سیٹائر تھے اور خوفناک قسم کا طنز ان میں سمویا گیا تھا۔ دونوں ڈراموں کے انتہائی خوبصورت پلاٹ تھے اور ایسے زبردست سکرپٹ تھے کہ ایک لمحے کے لئے بھی کسی کی توجہ ادھر ادھر نہیں ہوئی۔

پہلے ڈرامے میں ایک شخص پر کسی درخت کی کوئی موٹی سی شاخ آن گری ہوتی ہے، وہ اس کے نیچے دبا ہوتا ہے اور روڈ پر چلتا ہوا کوئی بھی راہگیر اس کی مدد کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ تب معاشرے سے دھتکارا ہوا ایک انتہائی بے غرض اور ملنگ اور فقیر قسم کا شخص اس بدحال اور مصیبت میں گرفتار شخص کی مدد کرلیتا ہے اور وہ بھاری سی شاخ اس سے ہٹا دیتا ہے۔ جبکہ دوسرے ڈرامے ”پاگل گھرانے“ میں ان ماں باپ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، جو اپنی اولاد کو توجہ نہیں دیتے۔ جناب اے ڈی بلوچ کے ان سکرپٹس کی جتنی تعریف کی جائے، وہ کم ہے، پھر جناب حبیب پانیزی کا ترجمہ تو سونے پر سہاگا تھا۔

اگر دیکھا جائے تو جدید تھیٹر کی ترویج کے لیے اسٹیج کے ساتھ ساتھ اور بھی مختلف ذرائع کے بارے میں بہت کچھ سوچا جاسکتا ہے، سب سے اہم بات یہ کہ اب تو سوشل میڈیا ہمارے سامنے کیا، بلکہ ہمارے ساتھ ہے، جس نے سب کچھ بہت آسان کر دیا ہے۔ اب تو موبائل ہاتھ میں ہوتا ہے اور چند شوقیہ نوجوان کسی بھی گاؤں یا ویرانے میں بہت آسانی کے ساتھ اور بہت اچھے انداز میں ایک انتہائی خوبصورت تھیم کا ڈرامہ انتہائی سادگی، مزاحیہ انداز اور نیچرل پرفارمنس کے ساتھ بنا رہے ہوتے ہیں۔

تب اسے اپنے وال پر پیش کر دیتے ہیں اور پھر سینکڑوں کی تعداد میں دیکھنے والوں سے داد بھی وصول کرتے ہیں اور ان پر بہتری کے لیے بھرپور تنقید بھی ہو رہی ہوتی ہے، جس سے ان کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے اور انہیں نیا راستہ بھی ملتا ہے۔ اسی سلسلے میں پرانے وقتوں میں یورپ اور لاطینی امریکا میں کسی بھی گاؤں یا شہر میں اسٹریٹ تھیٹر کو پیش کیا جاتا تھا۔ ان اسٹریٹ تھیٹر کے ذریعے وہاں بہت سے ممالک میں انقلابات بھی آئے، لوگوں کو علم صحت، زندگی اور سوچ کی بہتری کے بہت سارے پیغامات اور شعور ملا۔ درحقیقت اسی اسٹریٹ تھیٹر کے ذریعے بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں اور لوگوں کو روشن فکری کی طرف لے جایا گیا۔

اگر دیکھا جائے تو آج ہمارا ملک بہت سارے مسائل میں گرا ہوا ہے۔ اس عالم میں ہمیں اپنے مخلص اہل علم اور باشعور بزرگوں کی طرف دیکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی سوشل میڈیا کو بھی دیکھنا چاہیے اور موبائل کا استعمال کرتے ہوئے چھوٹے چھوٹے سے ڈرامے پیش کرنے چاہیے۔ لوگوں کے سامنے، مسائل کی نشاندہی کرنی چاہیے، ان سے لڑنے کا حوصلہ دینا چاہیے اور چھوٹے چھوٹے مسائل کو تو خود حل کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ سوشل میڈیا ہمیں اجتماعی کاوش سکھاتا ہے اور ادب بھی یہی کہتاہے کہ طوفانوں سے مل کر لڑو۔

جبکہ سوشل میڈیا اس سلسلے میں ہم سے تعاون کرنے کے لیے ہر وقت رہتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مایوسی اور روشن خیالی کے اس دور میں سوشل میڈیا امید کی ایک نئی کڑی، لہر اور ذریعہ ہے اور جدید تھیٹر کے لیے زبردست اور بھرپور ذریعہ ہے۔ اس سے بہت سارے اچھے اچھے فنکار، نئے نئے تخلیق کار اور لکھاری بہت آسانی کے ساتھ ہمارے سامنے آ سکتے ہیں اور کسی کی منت اور مشکلات کے بغیر فن کی دنیا کی شاندار خدمت کر سکتے ہیں۔

اسی حوالے سے ایک سب سے اہم خبر یہ کہ اس کے ذریعے آپ مختصر وقفوں کی فلمیں بھی بنا سکتے ہیں۔ جس میں آپ اپنے معاشرے اور ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے خوبصورت تھیم اور آئیڈیاز کے ساتھ شاندار مختصر فلمیں بھی پیش کر سکتے ہیں، دنیا بھر کی فلمی میلوں میں حصہ لے سکتے ہیں اور ان سے اپنی بھرپور صلاحیتوں کا اعتراف کروا سکتے ہیں، یاد رہے کہ اس سلسلے میں آپ پر کوئی قدغن اور کوئی بھی رکاوٹ نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *