بھارتی مسلمانوں سے ہماری ہمدردی کے تضادات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ مضمون ننکانہ واقعہ سے پہلے لکھا گیا جس میں سکھ برادری کو جس طرح ہراساں کیا گیا وہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک کو نمایاں کرتا ہے

بھارت میں شہریت کے قانون پر احتجاج جاری ہیں اور اس بل پردوسری اقلیتوں کے ساتھ مسلمانوں کو بھی شدید تحفظات ہیں انہی تحفظات کو لیکرپاکستان میں بھی بھارتی مسلمانوں کے غم میں حکومت، میڈیا اور سوشل میڈیا پربھی ایک جنگی صورتحال سی نظر آرہی ہے یوں لگ رہا ہے اس بل سے بھارتی مسلمانوں سے زیادہ پاکستانی مسلمانوں کے حقوق متاثر ہوئے ہیں میڈیا کے ذریعے یہ تاثر دینے کی بھی کوشش کی جارہی ہے کہ بھارتی مسلمان تقسیم وقت پاکستان میں شامل نہ ہونے پرپچھتارہے ہیں ( جہاں تک میرے علم میں ہے یاجو میں نے ویڈیوزدیکھی ہیں اس میں بھارتی مسلمانوں نے کبھی یہ ظاہرہونے دیا کہ وہ پاکستان ہجرت نہ کرکے پچھتارہے ہیں البتہ وہ اسے اپنے حقوق کی جنگ کہتے ہیں لیکن وہ یہ حقوق بطور بھارتی شہری چاہتے ہیں ) ۔

اب ہمیں جومسلمان ہونے کی وجہ سے بھارتی مسلمانوں کے حقوق سلب ہونے کا غم کھائے جا رہا ہے ا س میں کم ازکم مجھے خدشات ہیں۔ جہاں ہم بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار کا ذکرکرتے ہیں وہاں ہمیں یمن میں سعودی اتحاد کے ہاتھوں معصوم شہریوں کا قتل، ان کا اندرونی معاملہ نظرآتاہے۔ شام میں بشارالاسد اور اتحادیوں کے ہاتھوں معصوم شہریوں کاقتل، ان کا اندرونی معاملہ دکھائی دیتا ہے۔ ایغورمیں چینی حکومت کا مسلمانوں کے ساتھ سخت برتاؤ، چین کا اندرونی معاملہ لگتا ہے۔

روہنگیا مسلمانوں پر میانمار میں ظلم وستم کی داستان، لیکن ریاست کے ساتھ ساتھ عوام بھی خاموش۔ ترکی کرد علاقوں میں کارروائی کر کے مسلمانوں پر بمباری کرے تو ترکی کا بھی اندرونی معاملہ۔ مقبوضہ کشمیرمیں جو مسلمان بھارت کے ہاتھوں جبرکا نشانہ بن رہے ان کے لیے بھی پاکستانی حکومت بیانات سے زیادہ کچھ نہیں اور عوام کا تو کیا ہی کہنا۔ اب ہماری یہ امہ کی رگ صرف بھارت میں شہریت کے قانون پاس ہونے سے ہی کیوں پھڑک رہی ہے؟ ہمارے مسلم امہ کے خودساختہ لیڈر صاحب اوران کے ہمنوا آج کل تواتر سے کہتے نظرآتے ہیں کہ مودی حکومت (امہ کے خودساختہ لیڈرنے جس کی الیکشن میں جیت کی خواہش کا اظہارکیاتھا) آر ایس ایس نظریے پر عمل پیرا ہے اور اس کی پالیسیاں کشمیری اور بھارتی مسلمانوں کے لیے ہٹلرسے مشابہ ہیں، سوچنے کی بات یہ ہے کیا ایغور مسلمانوں کے ساتھ چین کا برتاؤ ہٹلر یا آرایس ایس کے نظریے سے مطابقت نہیں رکھتا؟

کیا شام اور ایران میں مسلمانوں کی مسلمانوں کے ہاتھوں نسل کشی ہو رہی ہے وہ ہٹلر اورآرایس ایس نظریے جیسے اقدامات نہیں؟ روہنگیا مسلمانوں کو بے رحمی سے قتل کیا جا رہا خواتین کی عزتین پامال کی جا رہی ہیں اور چین کی اس معاملے میں میانمارکی حمایت جنونی رویوں کوظاہر نہیں کرتی؟ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں بھارت دشمنی کی ایک عمومی ذہنیت جکڑپکڑے ہوئے ہے ہم بھارت میں آرایس ایس، شیوسینا اور ہندو انتہا پسندوں کی بات کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان میں بھی اسی قسم کی کئی تنظیمیں بھارت کاتذکرہ ہونے یا کرنے پرمنہ سے جھاگ نکالتے ہوئے سر دھڑکی بازی لگانے کی بڑکیں مارتی نظرآتی ہیں۔

دیکھا جائے تو پاکستانیوں کی بھارتی مسلمانوں سے ہمدردی اس لیے نہیں کہ وہ مسلمان ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ بھارت میں رہتے ہیں اور اس طرح ہمیں بھارت پر تبریٰ کرنے کا موقع ملتا ہے اگر بھارتی مسلمانوں (جو تمام ترحالات کے باوجود صرف بھارت کے وفادار اور حامی ہیں۔ اسدالدین اویسی کاتازہ بیان میری بات کی تصدیق ہے) اور مسلم امہ کا اتنا ہی ہمیں دکھ اور درد ہے تو سب سے پہلے ان لاکھوں مسلمان بھائیوں کو ہم پاکستان لے کر آئیں نا جو 1971 سے پاکستان کی محبت اوروفا میں بنگلہ دیش کے کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی بسرکر رہے ہیں، نہیں تو کرد، شامی، یمنی، ایغورمسلمانوں کے لیے ہی کوئی ایک آدھ جملہ بول دیں۔

اب یہاں بطورپاکستانی حکمران ہمارے تضادات سامنے آنا شروع ہوجاتے ہیں، سی پیک معاملے پر خدشات کو دور کرنے کے لیے ہمارے صاحب اقتدارجانے کون کون سی یقین دہانیاں کرانے بیجنگ پہنچ جاتے ہیں، ایغور معاملے پربات کرنے سے چونکہ چین کی ناراضی کا ڈر ہے اس لیے ایغورکے ساتھ ساتھ ہم میانمارکے مسلمانوں کے لیے بھی چینی حکومت سے بات نہیں کر پاتے۔ ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات ہمیں ان احساسات سے دور رکھتے ہیں جو کرد مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم پرکسی بھی انسانی دل و دماغ کو جھنجھوڑ دیتے ہیں شام میں ایرانی مداخلت کے باعث پڑوسی ملک کی ناراضگی ہمارے حکمرانوں کی زبانیں گنگ کردیتی ہیں۔

رہ گئی یمن میں سعودی مداخلت کی تو جہاں ہماری موجودہ خارجہ پالیسی ہے اس کے تحت سعودی دباؤ اور اجازت کے بغیر ہمارے وزیراعظم ملائیشیا میں ہونے والے سمٹ میں شرکت سے انکارکر دیتے ہیں، عرب ممالک کے سربراہوں کے آنے پر ان کے ڈرائیور تک بن جاتے ہیں وہ یمن میں جنگی درندگی کی مذمت کر کے عرب اتحاد کی ناراضگی کیسے مول لے لیں جو ملکی معیشت کے لیے وقفے وقفے سے مالی امداد اور ادھارتیل ہمارے کشکول میں ڈالتے رہتے ہیں تو اس لیے اگر بھارت میں مسلمانوں اوردوسری اقلیتوں کے لیے ہمارے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں تووہ صرف بھارت دشمنی کی وجہ سے ہے، یہاں بات انسانیت یا مسلم امہ کا نہیں بس مقابلہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا ہے کہ دونوں ممالک میں سے کون اقلیتوں کو زیادہ شدت سے دیوار سے لگاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
خالد محمود، لاہور کی دیگر تحریریں

Leave a Reply