زہریلے رشتوں کے حصار سے نکلیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوسرے کی زندگی کو اپنے قابو میں لانا، بات بے بات زچ کرنا اور جذباتی طور پر اذیت دینا یہ محبت نہیں بلکہ ”Abuse“ ہے۔ اور ”Abusive relationship“ میں انسان کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتا۔ بد قسمتی سے ہمارے کلچر نے محبت کے ایسے تعلق کو معاشرے میں قابلِ قبول بنوا دیا ہے، کہ جس میں ایک فریق ظلم سہتا ہے اور تمام تر جذباتی و نفسیاتی اشتعال کو نہ صرف محبت کے نام پہ رومانٹسائز کرتا ہے، بلکہ اس سے ہونے والے نقصانات کو بھی ”محبت“ سمجھتا رہتا ہے۔

لڑکا ہو یا لڑکی، آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ تعلقات میں ایسے دوسرے کو قابو کرنے والے رویوں کے پیچھے محبت نہیں بھروسے کی کمی، جلن یا کوئی دوسری مقصدیت ہوتی ہے، جسے محبت تو ہر گز نہیں کہا جا سکتا۔ ایک صحت مند تعلق ہمیشہ ”لینے اور دینے“ کا ہوتا ہے، جس میں دونوں برابر کا سمجھوتہ کرتے ہوئے، تعلق کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نہ کہ کسی ایک فرد کی لا متناہی قربانیوں اور برداشت کا نام باہمی الفت ہے۔

چاہے آپ لڑکا ہیں یا لڑکی، اگر آپ کا تعلق آپ کو بنیادی حقوق (عزت، قوت و فیصلہ اور جذباتی آسودگی) سے محروم کر رہا ہے تو فوراً سے پہلے اس تعلق سے باہر نکل جائیں۔

اسی تعلق کو عام اصلاح میں ”toxic relationship ’کہا جاتا ہے، جو ایک انسان کی زندگی کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتا ہے

دوسرا یہ کہ لوگ خودبھی اپنے جن جذبات کو محبت کا نام دیتے ہیں، شایدحقیقت میں محبت کا اس میں کم دخل ہوتاہے، مگر وہ جذباتی وابستگی اورکم اعتمادی کاشکار زیادہ ہوتے ہیں

اگر آپ اپنی مدد کرنے کی بجائے، اس ذہنی اور جذباتی اذیت سے نکلنے کے بجائے، اسے قبول کر کے بیٹھے ہیں اور یہ آپ کو محبت لگ رہی ہے تو یاد رکھیں کہ کوئی مناسب قدم نہ لے سکنا ایک انسان ہونے کے ناتے، آپ کی کمزوری ہے، نہ کہ محبت کے لیے کیا ہوا سمجھوتہ۔ محبت یا ایسے کسی بھی خوبصورت انسانی جذبے کی بنیاد، ایک دوسرے کا خیال، احساس اور ہمدردی ہے، نہ کے اذیت، تناؤ اور بد سلوکی۔

ایک اور چیز بھی نوجوانوں کو ذہن نشین کر لینی چاہیے، صرف وہ انسانی تعلق ہی، چاہے محبت کا ہو یا دوستی کا دیرپا اور صحت مند ہوتا ہے، جس میں آپ روزانہ ایک بہتر سے بہتر انسان بنتے ہیں۔ آپ کا سچا دوست اور خیر خواہ صرف وہ ہی ہے، جو آپ کی شخصی، ذہنی اور جذباتی نشوونما میں رکاوٹ نہ ہو، اور وہ آپ کے خواب، جذبات اور زندگی کے مقصد کو نہ صرف قدر کی نگاہ سے دیکھے، بلکہ انہیں پورا کرنے میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا رہے اور وقتی رومانس کے بجائے، دیرپا ذہنی مطابقت کو ترجیح دے۔

ہم ایک سب سے بڑی غلطی یہ کرتے ہیں کہ اپنے طور پر خیالی محل بناتے رہتے ہیں، یہ جانے یا پوچھے بغیر کہ کیا دوسرا بھی اس تعلق کے بارے میں اتنا ہی مخلص یا سنجیدہ ہے؟

بجائے یہ کہ آپ خیالوں کی دنیا میں رہیں، اور اپنے طور پر ایک خیر مخلص تعلق میں ایک ”تصوراتی تعلق“ کے طور دیکھتی رہیں، کوشش کریں کہ کسی قسم کے گہرے، سنجیدہ لگاؤ سے پہلے اگلے بندے کے جذبات، اس کے رشتے کے ساتھ خلوص اور اس کا آپ کے ساتھ رویہ ضرور جانچ لیں۔ یہ نہ ہو کہ پانی سر سے گزر جانے کے بعد معلوم ہو کہ یہ محض وقت گزاری تھی۔

آپ مندرجہ بالا اصولوں کا جائزہ لیں اور خود سے طے کریں کہ کیا، آپ کے تعلق میں ان تمام چیزوں کا خیال رکھا گیا ہے؟ اگر آپ کو سوائے جذباتی تھکاوٹ، نفسیاتی دباؤ اور شخصی استحصال کے علاوہ بس چند وقتی رومانٹک جملے ہی مل رہے ہیں تو میرا مشورہ ہے کہ فوراً سے پہلے اس تعلق سے علیحدہ ہو جائیں اور زندگی گزارنے کے لیے کسی ایسے انسان کا انتخاب کریں جو آپ کو محبت، عزت، اور ذہنی آسودگی دینا جانتا ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حنا انور کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *