ہمارا الیکٹرانک میڈیا اور معاشرتی ہیجان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزری دہائی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں واقعات سے بھر پور دہائی کے طور پہ یاد رکھی جائے گی۔ دو منتخب حکومتوں نے اپنی حکومتی مدت پوری کی۔ یہ بھی حقیقت رہی کہ دونوں حکومتی جماعتیں کو دوران حکومت بڑے دشوار راستوں پہ اپنا سفر طے کرنا پڑا۔ ان پہ ماضی میں کی گئی غلطیوں کا بوجھ بھی تھا۔ نوے کی دہائی دو بڑی سیاسی جماعتوں کا ایک دوسرے پہ عدم اعتماد، ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا اور ملک کی مستقل قائم طاقت کے گن گانا جیسے سیاسی اعمال کے رو پذیر ہونے کی وجہ سے یاد رکھی جائے گی۔

جب گذشتہ دنوں میں پاکستان کے سیاسی افق پہ ہونے والے واقعات پہ نظر رکھنے والے دوستوں سے پاکستان میں نئے سوشل کنٹریکٹ کی ضرورت پہ بات کر رہا تھا تو سب نے یک زباں ہوے کہا کہ وہ تو ہو چکا اور اٹھارویں آئینی ترمیم اس کا واضح ثبوت ہے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم بظاہر سیاست کے ٹھہرے پانی میں ارتعاش تھا۔

لیکن سیاسی میدان میں ان کامیابیوں کے با وجود الیکٹرانک میڈیا کے توسط سے لوگوں میں ملک میں جاری سیاسی عمل سے بیزاری پیدا کی گئی اور یوں ہمارا الیکٹرانک میڈیا جھوٹ کو ہوا دینے لگا۔ اس طرح لوگوں کی حقیقی سیاسی مرضی کو جھوٹی خبروں سے گدلا کر لوگوں کو نئے قبائلی نظام کے طابع کر دیا۔ جس کا اصول ہے ’یا تو تم ہمارے ساتھ ہو اور ہم سے متفق ہو یا پھر تمہاری سیاسی رائے کی کوئی وقعت نہیں۔ ‘

ھمارے ملک میں الیکٹرانک میڈیا کے اس کردار کو سمجھنے کے لئے پاکستان کی موجودہ سیاسی تاریخ کے دو واقعات تحقیق کرنے والوں کے لئے اھم ہیں۔ اور تحقیق کا نتیجہ امکان غالب ہے کہ یہ ہو کہ الیکٹرانک میڈیا نے لوگوں کے ذہنوں میں صرف الجھنیں ہی پیدا کی ہیں۔

لال مسجد کے ہنگاموں کو ہم نے براہ راست دیکھا کہ جب مدرسے کے طالب علم ہاتوں میں ڈنڈے لئے ہمارے دارالحکومت کی سڑکوں پہ دندناتے پھر رہے تھے۔ اور یہ سب مناظر پاکستان کے دور دراز علاقوں میں بھی براہ راست دیکھے جا رہے تھے۔

فساد کے شروع میں ٹی وی اینکروں کی بڑی تعداد واویلا کر رہی تھی کہ بھر پور قانونی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ہنگامے سے نبٹا جائے۔ اور جب ایکشن لیا گیا تو سب ٹی وی پہ لئے گئے ایکشن کو طاقت کا ناجائز استعمال کہہ کر آہ و فغاں کرنے لگے۔ کچھ اینکروں کے تو آنسو تھمنے کا نام لیتے۔ نام نہاد وکلا تحریک کے دوران جسٹس افتخار چودھری کو آزادی اور قانون کی حکمرانی کے نمائندے کے طور پہ پیش کیا گیا۔ اپنی ٹوپیوں میں فتح کے پر سجائے کچھ اینکروں اور وکلا نے بعد میں کافی مالی فوائد بھی حاصل کیے۔

جب جسٹس چودھری بحال ہوئے تو اس نے متوازی حکومت کی بنیاد ڈال دی اور چھپے لفظوں وہ ملک کا چیف ایگزیکٹو بن بیھٹا۔ کسی مہذب معاشرے میں ایسے فعل کو غیر قانونی قرار دیا جاتا۔ لیکن ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے تو اسے قوم کا نجات دہندہ بنا دیا تھا۔

یہ دو واقعات ہمیں اس نتیجے پہ پہچنے میں مدد دیتے ہیں کہ الیکٹرانک میڈ یا معاشرے میں دبے طبقات کی معاشرتی حالت سدھارنے کے بلند باگ دعووں کے باوجود معاشرے میں نظام کہنہ کو مضبوط و مربوط کرنے میں ممد و معاون ہے۔

الیکٹرانک میڈیا معاشی ’ھٹ مین‘ کا بھی کردار ادا کرنے لگا۔ کچھ ٹی وی صحافیوں کو کچھ نادیدہ ہاتھ سرکاری اہلکاروں کے نام نہاد سکینڈل کی دفتری فائلیں تھما دیتے ہیں۔ وہ فائلیں نا مکمل پروجیکٹ کی ہوتی ہیں جن پہ افسر شاھی پروجیکٹ کی افادیت پہ غور و خوض کر رہی ہوتی ہے۔ میڈیا اس طرح لوگوں کے ذہنوں میں الجھن پیدا کرتا ہے کہ صرف اور صرف ہماراحکومتی نظام، ایک ادارے کے علاوہ، معاشرے کے بگاڑ کا سبب ہے۔ حال ہی میں آپ نے الیکٹرانک میڈیا کی ایک جغادری شخصیت، جس نے اسلام آباد کے سیکٹر آئی 20 کے نا مکمل ہاوُسنگ پروجیکٹ پر شور و غل ڈالا تھا، کی ہاوُسنگ کے وفاقی وزیر طارق بشیر کے ہاتھوں درگت بنتے دیکھی ہوگی کہ جس کے بعد مایہ ناز اینکر ذاتیات پہ اتر آئے۔

اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ رویہ گورننس کو تہ و بالا کر دیتا ہے، اس طرح لوگ، جو حکومت کرنے کے آسمانی حق کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنے حکومت کرنے کے حق سے رضاکارانہ دستبردار ہوتے ہیں (اگر آپ حکومتوں کے بننے سے متعلق سوشل کنٹریکٹ کے نظریات کو مانتے ہیں ) معاشرتی لا قانونیت کو ایک سیاسی حربہ سمجھتے ہیں۔

اب آئیے جھوٹی خبروں کی جانب۔ ’جھوٹی خبریں جان بوجھ کے لوگوں کو گمراہ کرنے اور دھوکہ دینے کے لئے گھڑی جاتی ہیں۔ ‘ کچھ مہینوں پہلے جب نواز شریف شدید بیمار تھے اور ہسپتال میں داخل تھے ایک مشہور نیٹ ورک کے اینکر نے ڈھٹائی سے یہ خبر دی کہ شہباز شریف اپنے بیمار بھائی کے لئے سری پائے لے جاتے ہوئے پائے گئے جب کہ وہ شدید بیمار تھے۔ کتنی لغو بات ہے۔ لیکن کسی اور کو اسے برا بھلا کہنے کی سکت نہیں ہوئی۔ اینکرز ایک دوسرے کو تحفظ دیتے ہیں۔ اور یہ بات ہمارے معاشرے میں نئے قبائلی نظام کی عکاسی کرتی ہے۔

لوگوں کا یہ بنیادی حق ہے کہ انہیں صحیح معلومات دی جائیں لیکن اس حق کی ہمارے الیکٹرانک میڈیا پہ نفی کی جاتی ہے۔ لوگ آپ پہ اعتماد کرتے ہیں اور ان کے اعتماد کی دھجیاں اُڑائی جاتی ہیں۔

ھمارا غیر ذمہ دار میڈیا لوگوں میں ریاست پہ بے یقینی پیدا کر رہا ہے۔ اور یہ ہمارے ہاں نہ سنبھلنے والے معاشرتی ہیجان کا سبب ہوگا۔

کیا الیکٹرانک میڈیا کے ذمہ دار اس بات پہ غور کرنے کے لئے مل بیٹھیں گے کہ انہوں نے معاشرے کا کیا حشر کر دیا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سعید اختر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply