ایران کی جنگ میں گھرا ہوا پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قریب دو دہائیاں پہلے اسی طرح کے عالمی حالات دیکھنے کو مل رہے تھے، جب امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کر دی تھی۔ اور مسلمان ہونے کے ناتے ہمارے بڑے بزرگ ہماری عورتیں سب افغانستان کے لیے دعا گو تھے۔ ہر طرف سے جہاد جہاد کی آوازیں اُٹھ رہیں تھیں۔ ایسے حالات میں اس جنگ میں پاکستان کی بالواسطہ یا بلاواسطہ شرکت پاکستانی معیشت کے لیے کینسر کا مرض ثابت ہوئی۔ ہمیں اربوں ڈالرز اور ستر ہزار پاکستانیوں کی جان کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ یہ وہ زلزلہ تھا جس کے آفٹر شاکس کا سلسلہ آج بھی پاکستان میں دہشت گردی کی صورت میں جاری ہے۔

شام، عراق، لیبیا اور فلسطین کی بربادی کے بعد حالیہ امریکہ و ایران کشیدگی سے خطے کی بگڑتی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ یہ سب کوئی ایک دن میں نہیں ہو گیا اس کی تیاری باقاعدہ کئی سالوں سے جاری ہے۔ بحیرہ عرب میں امریکی بیڑے مسلم ممالک کی تباہی کے بعد ایران کو تاک پہ رکھے ہیں۔ جس کا اگلا ممکنہ ٹارگٹ پاکستان بھی ہو سکتا۔ جیسے ہمیں ناچار افغانستان کی جنگ میں گھسیٹا گیا اور فوجی اڈوں کے لیے پاکستان کی سرزمین مانگی گئی ویسے ہی ممکنہ ایران کی جنگ میں گھسیٹا جائے گا اور نا کرنے کی صورت میں ایران کا حامی قرار دے کر حملے کی راہ ہموار کی جائے گے۔ یا معاشی پابندیاں لگا کر ملک کو دیوالیہ کیا جائے گا۔ دشمن ہمارے سر پر پہنچ چکا ہے اور ہم سیاسی پراکسی وار میں مصروف ہیں۔

ایران کی آڑ میں جس محتاط انداز سے پاکستان کو گھیرا گیا اس کا ادراک پاکستانی فوج تو کر سکتی ہے مگر سوچنے سے عاری سیاستدان نہیں کر سکتے۔

انڈیا میں کشمیر محاذ پر پاکستان کو الجھانا، پاکستان اور چین میں پروپیگنڈے سے دوریاں بڑھانا یہ الگ بات ہے کے چین کی کوششوں سے ابھی تک دشمن کامیاب نہیں ہوا، ایران اور انڈیا کی دوستی مگر بگڑتی صورتحال میں انڈیا کا امریکہ کو ترجیح دیتے ہوئے معاملے پر خاموش رہنا، افغانستان کا انڈیا اور امریکہ کو محفوظ پناہ گاہیں دینا جہاں سے وہ پاکستان مخالف کارروائیاں ترتیب دیں، یہ سب پاکستان کو اندرونی و بیرونی محاذ پر کمزور کرنے کی کوششیں ہیں۔

امریک کبھی بھی براہ راست پاکستان پر حملہ آور نہیں ہوگا۔ وہ ہمیشہ اسلحے اور تیل کی نئی منڈیاں ڈھونڈتا ہے۔ ایران سے کشیدگی بڑھتی ہوئی عراق تک جائے گی اور دیکھتے ہی دیکھتے فرقہ وارانہ فسادات کی شکل اختیار کرتی ہوئی گلی محلوں تک آ جائے گی جس کا واضح اثر پاکستان میں بھی دیکھنے کا ملے گا۔ رواں کشیدگی کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی سونے اور تیل کی قیمت سے امریکا براہ راست فائدہ اٹھائے گا۔ امریکہ کے ایران پر ممکنہ حملے میں نشانہ تیل کی تنصیبات ہوں گی جس سے خطے میں عدم استحکام کے ساتھ ساتھ تیل کی ترسیل رک جائے گی اور امریکہ اپنا تیل مستقل طور پر نئی منڈیوں میں بیچے گا۔ اور خطے میں اجارہ داری کو مضبوط کرے گا۔

اس نازک وقت میں محلے کی مسجد کے ممبر سے خطاب کرتے مولوی سے لے کر خطیب اعظم، کونسلر سے لے وزیراعظم، تمام مکتبہ فکرکے علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو یکجہتی کا درس دیں اور بیرونی جنگ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے سے باز رہیں۔

جنرل قاسم کی شہادت کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی مذموم کوشش کی گئی۔ حالانکہ جنرل قاسم کی شہادت ہو یا صدام کی شہادت دونوں صورتوں میں شہادت مسلمانوں کی ہوئی ہے۔ امریکہ ہمیں مسلمان سمجھ کر ٹارگٹ کر رہا ہے اور ہم کبھی شیعہ کے جان سے جانے پر بغلیں بجاتے ہیں اور کبھی سنی کی موت پر اتراتے ہیں۔ ہم آج تک ہاتھ باندھ کر یا ہاتھ کھول کر عبادت پر متفق نہیں اور دشمن ہمارے ہاتھ کاٹنے کہ درپے ہے۔

اللہ تعالٰی پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *