طاقت کا سرچشمہ کون؟

چناؤ کے دن جوں جوں قریب آتے جا رہے تھے مجھے یوں لگا جیسے ہم اس دھرتی کی سب سے معتبر مخلوق ہیں۔ ہر نامزد امیدوار ایسے بغل گیر ہوتا جیسے مدتوں کا شناسا ہو۔ یوں کندھے سے کندھا ملانا، ہاتھ پکڑ کر فضا میں لہرانا، اللہ رے کیا دن تھے گویا اپنے آپ پہ…

Read more

ایران کی جنگ میں گھرا ہوا پاکستان

قریب دو دہائیاں پہلے اسی طرح کے عالمی حالات دیکھنے کو مل رہے تھے، جب امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کر دی تھی۔ اور مسلمان ہونے کے ناتے ہمارے بڑے بزرگ ہماری عورتیں سب افغانستان کے لیے دعا گو تھے۔ ہر طرف سے جہاد جہاد کی آوازیں اُٹھ رہیں تھیں۔ ایسے حالات میں اس جنگ…

Read more

پچھتاوا

ڈوبتے سورج کی اداسی اپنے دل میں اتارنا میرا معمول بن چکا تھا۔ اس وقت سورج کو دلاسا دینے کا من کرتا ہے۔ حسب معمول میں کھڑکی سے لمحہ لمحہ سورج کو ڈوبتا دیکھ رہا تھا۔ آج کی شام میں ایک عجیب سی وحشت تھی۔ کاش میں سورج کی اداسی اپنے اندر سمو لیتا۔ اس…

Read more

ہمارے دفاتر اور ورکنگ وومن کی جنسی ہراسمنٹ

یقیناً ہم پہلے امتحان، پہلے انٹرویو اور نوکری کے پہلے دن بمشکل ہی اپنے اعصاب کو قابو میں رکھ سکتے ہیں۔ صبح پانچ بجے الارم کے بجنے سے پہلے ہی میری آنکھ کھل چکی تھی۔ میں نے نماز پڑھنے کے بعد اللہ تعالٰی سے اپنے انٹرویو کی کامیابی کے لیے ڈھیروں دعائیں کی۔ ناشتے سے…

Read more

پاکستان کا نازک دور

اخبار کی ورق گردانی کرتے ہوئے نظر ایک سطر پر ٹھہر گئی، ”پاکستان تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا ہے“ یہ وہ فقرہ ہے جسے ہر طبقہ خصوصاً دائیں بازو کی قوتیں اپنی ناکامیاں چھپانے، حقائق مسخ کرنے اور اٹھنے والے سوالوں کو دبانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ میری ناقص عقل یہ سمجھنے…

Read more

ڈیجیٹل پاکستان

 زمین پر قدم رکھ چکی ہیں اور ڈیجیٹل پاکستان منصوبے کی سربراہی کرنے والی ہیں چار و ناچار کئی طرح کے وسوسوں نے مجھے آن گھیرا کہیں ان کے آنے سے پاکستان میں قادیانیت نہ پھیل جائے۔ کہیں یہودی سازش میرے ملک کے کونے کونے میں اپنے پنجے نا گاڑھ لے۔ یا امریکا اپنے نا…

Read more

اماں کہاں ہیں آپ؟

ثناء نے گھر داخل ہوتے ہی ماں کو ڈھونڈنا شروع کر دیا۔ بیٹا میں کچن میں ہوں، سب خیریت تو ہے نا؟ ماں نے مسکرا کے جواب دیا۔ اماں پتہ ہے آج ہماری طلبہ تنظیم نے خواتین کی آزادی اور حقوق کے لیے ریلی کا انعقاد کیا تھا۔ جس میں ایشیا سرخ ہے کے نام…

Read more

پیر بخشا!

پیر بخشا! اؤ پیر بخشا! پیر بخش (احترام سے ) جی چوہدری جی چوہدری: او پیر بخشا یہ جو ہر جگہ لانگ مارچ کا چرچہ ہے یہ کوئی نئی جماعت ہے کیا؟ پیر بخش: (مسکراتے ہوئے ) نہیں چوہدری جی۔ یہ نئی جماعت تو نہیں ہاں اسے جماعتوں کا مربہ کہہ سکتے ہیں۔ چوہدری: (حیرانگی…

Read more

کسی بابل کی جیب خالی نہ ہو

اسلام آباد مارگلہ کی پہاڑیوں پہ شام کے سائے بڑھتے ہی ہوا میں ٹھنڈک کا احساس بڑھنے لگا۔ رب نواز بوجھل قدموں سے سڑک کنارے چلتا ہوا ان گنت سوچوں میں گم تھا۔ اُس کے کانوں میں بار بار اپنی بیٹی کے الفاظ گونج رہے تھے۔ بابا مجھے ڈرائنگ کی کاپی اور پینسل کلر لے…

Read more