جاگیر
شہر کی گھٹن بھری فضاؤں سے میلوں دور وہ اپنے کھیت کی پگڈنڈی پر بیٹھا سوچوں میں گم تھا اسے احساس تک نہ ہوا کب دن کی سفیدی شام کی سیاہی میں بدلنے لگی۔ وہ بدستور بیٹھا گھاس کی ڈنڈیاں توڑنے میں مشغول تھا۔ مغرب کے بعد عشاء کی اذان کی صدائیں فضا میں گونجنے لگی۔ نوکر اسے ڈھونڈتے ہوئے کھیتوں میں آ گیا۔ مراد بابا، مراد بابا، وہ بڑے سائیں آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ کرم چاچا، جا کر
Read more

