کیا ہم سموگ کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلاشبہ انسان کی زندگی کی ڈور اس کی سانسوں سے جڑی ہے۔ ایک عام انسان دن میں تقریبا تیئس ہزار بار سانس لیتا ہے۔ سانس، فضا سے پھیپھڑوں کا ہوا میں موجود آکسیجن کا کھینچ کر جسم کے اندر لے جانے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا واپس خارج کرنے کے عمل کا نام ہے۔ پر افسوس اٹھارہویں صدی کے صعنتی انقلاب کے بعد سے ہم فضا سے آکسیجن کے ساتھ سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ اور دیگر پارٹیکلز کی خطرناک حد کو بھی جسم کے اندر کھینچ رہے ہیں۔

جو کہ نا صرف سنگین خطرے کا باعث بن رہی ہے بلکہ اے ایف پی کے مطابق دنیا بھر میں فضائی آلودگی ہر سال 70 لاکھ افراد کی اموات کی وجہ بنتی ہے۔ فضائی آلودگی اس وقت عالمی سطح پر انسانی صحت کے لحاظ سے چوتھا بڑا خطرہ ہے۔ اگر ہم صحت مند فضا میں سانس لیں تو دس میں سے نو افراد مختلف بیماریوں سے بچ سکتے ہیں جن میں کینسر سے لے کر پھیپھڑوں کی مختلف بیماریاں شامل ہیں۔

پاکستان میں فضائی آلودگی کی بات کریں تو گذشتہ چند برسوں میں وسطی پنجاب میں چار نہیں بلکہ پانچ موسموں سے واسطہ پڑتا ہے اور یہ پانچواں موسم ”سموگ“ کا کہلاتا ہے۔ فضا میں موجود آلودگی کی اس دبیز تہہ کے باعث آنکھوں ناک اور گلے میں جلن ہوتی ہے اوریہ سانس کی تکلیف میں مبتلا لوگوں کے لیے انتہائی مضر ہوتی ہے۔

”فوگ“ یعنی دھند اور ”سموک“ یعنی دھواں کو ملا کر بنائے گئے لفظ ”سموگ“ کو 1905 میں پہلی دفعہ ڈاکٹر ہنری انتوین ڈی وُونے صحت عامہ کے ایک کانفرنس کے مقالہ میں پیش کیا۔ سموگ دراصل زمینی اوزون، سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ اور پارٹیکیولیٹ میٹر دو اعشاریہ پانچ جیسے عناصر کا مجموعہ ہوتی ہے۔ جس میں انسانی صحت کے لیے سب سے زیادہ خطرناک پارٹیکیولیٹ میٹر دو اعشاریہ پانچ ہے۔ یہ خورد بینی ذرات ٹھوس اور مائع دونوں صورتوں میں ہو سکتے ہیں۔

جو فضا میں معلق رہ جاتے ہیں اور ہوا کا دباؤ کم ہونے پر فضا میں ٹھہر کر دھند کی دبیز تہہ بنا دیتے ہیں۔ فضائی آلودگی میں موجود کیمائی گیسز، کیمائی اجزا، مٹی کے ذرات اور پارٹیکولیٹ میٹر کو ناپننے کے لئے ایئر کوالٹی انڈیکس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ان ذرات کو ان کے حجم کی بنیاد پر دو درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے یعنی پی ایم 2.5 اور پی ایم 10۔ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے جو رہنما اصول بنا رکھے ہیں اُن کے مطابق پی ایم 2.5 کا سالانہ ایکسپوژر 10 مائیکرو گرام اور پی ایم 10 کا 20 مائیکرو گرام سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔

اگر سموگ کی اقسام کی بات کی جائے تو سموگ کے لئے سرما اور گرما کے ساتھ ساتھ بالترتیب سلفوریس سموگ اور فوٹوکیمیکل اصطلاحیں رائج ہیں۔

گرمائی سموگ پیچیدہ قسم کے فوٹوکیمیکل کے تعامل سے پیدا ہوتی ہے اور سموگ کی اس قسم کو زیادہ تر ریاست ہائے متحدہ امریکا میں دیکھا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے اس کو ”لاس اینجلس سموگ“ بھی کہا جاتا ہے۔ فوٹو کیمیکل سموگ میں گاڑیوں کا دھواں، کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ دھواں یا بھاپ پیدا کرنے والے نامیاتی مرکبات، نائٹروجن آکسائیڈز اور سورج کی روشنی میں زمین کے اوپر ایک زہریلی اوزون بنا دیتے ہیں۔ اس طرح سے پیدا ہونے والی سموگ سے فضا کا رنگ بدل سا جاتا ہے۔

سموگ کی دوسری قسم سلفوریس سموگ یا موسم سرما کی سموگ کہلاتی ہے۔ اس میں سموگ سلفرڈائی آکسائیڈ کے فضا میں زیادہ ارتکاز سے پیدا ہوتی ہے، اسے پیدا کرنے والے عوامل میں کوئلے جیسے فاسل فیولز ہوتے ہیں۔

اسی طرح کی سموگ سے عہد وسطیٰ میں لندن کو واسطہ پڑا تھا۔ جبکہ اب چین اس کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات اٹھا رہا ہے۔

پر اگر لندن کی ماضی کی مذکورہ سموگ اور لاہور میں پیدا ہونے والی سموگ میں فرق تلاش کیا جائے تو یہ ثابت ہے کہ ہمارے ہاں کی سموگ میں آلودگی کی متنوع اقسام پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ ایک عام تاثر یہ ہے جس کو ہمارے وزرا بھی پختہ کر کے حکومت کو بری الذمہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان میں سموگ کی ایک بڑی وجہ سرحد پار فصلوں کی کٹائی کے بعد بچ جانے والی باقیات یا مڈھی جلانا ہے۔ ماحولیاتی ایکسپرٹ کے مطابق اگرچہ کسی خاص وقت میں معلومات کے بغیر ہوا کے رخ کے بارے میں اندازے لگانا مشکل ہے۔ پر مون سون کی مڈھی جلانے کے دوران ہوائیں جنوب سے جنوب مشرق کی جانب چلتی ہیں جس سے یہ آلودگی پاکستان کی بجائے انڈیا کی جانب ہی جانی چاہیے۔ یوں پڑوسی ملک کو مورد الزام ٹھہرا کر حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں رہ سکتی۔

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سموگ کا 40 فیصد سبب ڈیزل والی گاڑیاں ہیں۔ پاکستان 1998 سے یورو 2 کوالٹی کا ڈیزل امپورٹ کر رہا ہے۔ جس کے بعد آج تک اس کے معیار کا کبھی جائزہ نہیں لیا گیا۔ یورو 2 ڈیزل میں 500 پی پی ایم سلفر ہوتا ہے۔ جبکہ دنیا بھر کے ممالک میں یورو 5 اور یورو 6 ڈیزل استعمال ہورہا ہے۔ جس میں 50 پی پی ایم سلفر ہوتا ہے۔ جو کہ ماحول کو کم آلودہ کرنے کا باعث بنتا ہے۔ اگرچہ حالیہ حکومت نے اعلیٰ معیار کی پیٹرولیم مصنوعات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔پر اس کا جلد از جلد عملی اطلاق کرنا انتہائی ضروری ہے۔ کیونکہ ہم پہلے ہی اس معاملے میں کافی دیر کرچکے ہیں۔

سموگ سے بچاؤ کے لئے دیگر اقدامات بھی انتہائی ضروری ہیں، جن میں روایتی اینٹوں کے بھٹوں پر پابندی، فیکٹریوں میں باقاعدہ فلٹریشن کے آلات کا اطلاق، گاڑیوں کے دھوئیں پر قابو پانا اور دھان کی مڈھی جلانے کے عمل پر کڑی نظر رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ درختوں کی شجرکاری پر بھی دھیان دینا چاہیے۔

اگر ہم فوری اور عملی اقدامات کریں تو مایوسی کی بات نہیں کیونکہ کہ لاہور پہلا شہر نہیں ہے جوفضائی آلودگی کا سامنا کررہا ہے۔ کیونکہ لاس اینجلس، نیویارک، لندن، پیرس، میکسیکو سٹی، بیجنگ اور شنگھائی جیسے دوسرے شہر بھی اس مسئلے کا سامنا کر چکے ہیں اور جدید حکمت عملی کی مدد سے چھٹکارا بھی پا چکے ہیں۔

فوری ضرورت اس امر کی ہے کہ سموگ کے خلاف نا صرف حکومتی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں بلکہ عوامی سطح پر اجتماعی کاوشیں بھی کرنا چاہئیں۔ جن لوگوں کے پاس وسائل ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ہوا کو خالص بنانے والی مشینیوں یا قیمتی ماسک وغیرہ کے استعمال سے وہ فضائی آلودگی سے بچ جائیں گے تو ان کو کنگز کالج لندن کے ماحولیاتی تحقیقاتی گروپ کے ڈائریکٹر فرینک کیلی کی بات پر دھیان دینی چاہیے کہ ”ہم سب کو سانس لینا ہوتا ہے اس لیے ہم اس آلودگی سے بچ نہیں سکتے“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *