نذیر قیصر کے لکھے ”حرف سے کونپلیں نکل آئیں“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

5جنوری کو معروف شاعر اور دانشور جناب نذیر قیصر کی 75 ویں سالگرہ تھی تو میں نے فیس بک پر ان کو مبارکباد کے لیے چند الفاظ لکھے تو اس پوسٹ کے نیچے کچھ معروف رائٹرزنے بھی کمینٹ کرتے ہوئے ان کے فن اور شخصیت پر بات کی جو میں اس کالم میں محفوظ کررہاہوں میں نے لکھا ”بڑا شاعر کسی وقت اور زمانہ کا اسیر نہیں ہوتا بلکہ زمانے اس کے اندر سفر کرتے ہیں دراصل بڑا شاعر ہونے کی پہلی شرط بڑا انسان ہونا ہے حضرتِ نذیر قیصر نے بلاشبہ ہماری اردو شاعری کو صدیوں کا واقا ربخشا ہے ان کے فلاسفک رومانوی شاعری نے اردو غزل کے قاری کو حیران کرکے ایک نئے خوابعدہ زمانوں کی مخلوق بنا دیا ہے۔ آج ان کے جنم دن پر ڈھیروں مبارکباد اور صحت و سلامتی کی دعائیں“

ظفر منصور صاحب کہتے ہیں۔ نذیر قیصر کا شمار جدید اردو غزل کے صف اول کے شعراء میں ہوتا ہے، بلکہ اگر یوں کہا جائے تو کسی بھی طرح غلط نہ ہوگا کہ اس کا شمار جدید اردو غزل کے معماروں میں ہوتا ہے۔ نذیر قیصر کی شاعری میں حیرتوں، انکشافات اور بشارتوں کا ایک جہان آپ کے ساتھ ساتھ سفر کرتا ہے۔ اس کی غزل میں منفرد لفظیات، متنوع اسلوب، موضوعات کی تازہ کاری اور لہجے کی ندرت اسے اپنے عہد کے شعراء میں ایک بلند پایہ مقام عطا کرتی ہے۔

ان کے پہلے شعری مجموعے ”آنکھیں، چہرہ، ہاتھ“ کو ادبی حلقوں میں بیحد پذیرائی حاصل ہوئی۔ نذیر قیصر سے میرا تعلق ِخاطر تقریباً نصف صدی پر محیط ہے۔ اس دوران میں نے اسے ایک بلند پایہ شاعر کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی نفیس انسان بھی پایا۔ حلیم، خوش خلق، پرخلوص، مسکراہٹیں، محبتیں بانٹنے والا اور اپنے دوستوں اور رشتوں سے بے پناہ محبت کرنے والا۔ وہ بلاشبہ ایک بڑا شاعر بھی ہے اور بڑا انسان بھی۔ میری طرف سے انہیں جنم دن مبارک۔

اللہ پاک ان کو سلامت رکھے اور صحت و تندرستی والی طویل تخلیقی عمر عطا فرمائے۔ آمین۔ ساحل منیر کہتے ہیں۔ نذیر قیصر کی شخصیت بلاشبہ اُردو شعر و ادب کا ایک منفرد حوالہ ہے۔ خداوند کریم انہیں صحت و سلامتی اور درازی عمرعطا کرے۔ معروف افسانہ نگار اور سفرنامہ نگار محترمہ سلمیٰ اعوان کہتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں نذیر قیصر بڑا شاعر ہی نہیں بہت بڑا انسان بھی ہے۔ معروف ادبی شخصیت جناب شعیب بن عزیز کہتے ہیں۔ پہلے پہل جن شاعروں سے میں متاثر ہوا ان میں سے ایک نذیر قیصر تھے۔

یہ تقریبآ ”نصف صدی کا قصہ ہے۔ نذیر قیصر کی شاعری کا سفر اس عرصے میں رکا نہیں اور نہ ہی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ اس کے مشاہدے اور طرز احساس کا جہاں آج بھی ہر اعتبار سے آباد اور روشن ہے۔ نذیر قیصر کے بارے میں گذشتہ دنوں جو کالم لکھے گئے ان کا ایک ہلکا سا تذکرہ بھی کرتا چلوں جناب سعد اللہ شاہ اپنے کالم میں لکھتے ہیں۔ آج چونکہ مجھے محبت اور محبت کے ایک خوبصورت شاعر کی بات کرنی ہے تو سب سے پہلے محبت کے حوالے سے دو اشعار: میں محبت کو زندگی سمجھا۔

اس محبت نے مار ڈالا مجھے، مجھ کو میری ہی اداسی سے نکالے کوئی۔ میں محبت ہوں محبت کو بچا لے کوئی، جی تو یہ نامور شاعر نذیر قیصر جن کے بارے میں ایک مرتبہ حسن نثار نے کہا تھا کہ اگر شاعری انسانی روپ دھارتی تو وہ نذیر قیصر کے روپ میں ظاہر ہوتی۔ حسن اتفاق یہ کہ نذیر قیصر کو سن کر بھی ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے شخص شاعری میں ڈھل رہا ہے یا پھر شاعری اس کی صورت میں نمودار ہو رہی ہے۔ اس دور میں نذیر قیصر کی شاعری کی کئی کتابیں شائع ہو کر پذیرائی حا صل کر چکی تھیں جن میں ”گنبد خوف سے بشارت“ ”آنکھیں چہرہ ہاتھ“ خامشی

غارحرا، دل مر ا شامل ہیں ان کی شاعری پر فیض، احمد ندیم قاسمی سے لے کر، بانو قدسیہ اور منیرنیازی تک کئی نامور اہل قلم نے اپنی آراء دے رکھی ہیں۔ ڈاکٹر اخترشمار اپنے ایک کالم (نذیر قیصر۔ ایک بانکا شاعر مین لکھتے ہیں ) نذیر قیصر فیض اور فراز کے بعد اپنے لہجے کے میٹھے شاعر ہیں، ا ن کی شاعری میں ایک خا ص کومل امیجری اور مزا حمتی شعور کا حسین امترا ج محسوس کیا جا سکتا ہے، نذیر قیصر اِس وقت ظفر اقبال، خورشید رضوی کے بعد کی صف کے سینئر ترین جینوئن اوار توانا شاعر ہیں، انہیں بہت پہلے پرائیڈ آ ف پر فارمنس مل جانا چاہیے تھا مگر ان کانام ایوارڈ کے لئے اوپر جاتا توہے لیکن بقول ان کے کہیں را ستے میں ”ڈراپ“ ہو جا تا ہے۔ ظفر اقبال اپنے کالم سرخیاں ’متن‘ ٹوٹا ’درستی اور نذیر قیصر کی غزل۔ کا اختتام نذیر قیصر کی ایک غزل سے کرتے ہوئے لکھے ہیں۔ اور‘ اب صاحب ِطرز شاعر نذیر قیصر کی غزل:

ہم سخن ہوتا ہوا پانی سے۔ پھول کھلتا گیا آسانی سے

نیند جب آتی نہیں آنکھوں میں۔ خواب آتے ہیں فراوانی سے

صبح آغاز کیا کرتی ہے۔ تیرے ملبوس کی عریانی سے

کہیں سبزہ کہیں تارے نکلے۔ در و دیوار کی ویرانی سے

آسماں الٹا ہوا پیالہ سا۔ دشت چھلکے ہوئے حیرانی سے

اک پری چہرہ قدم رکھتی ہوئی۔ خاک پر تختِ سلیمانی سے

کھیت ہیں خون پسینہ میرا۔ روٹی کھاتا ہوں نمک پانی سے

جیسے حالات ہوئے جاتے ہیں۔ نوحہ بہتر ہے غزل خوانی سے

در سے مٹ جاتا ہے سجدے کا نشاں۔ داغ جاتا نہیں پیشانی سے

زندگی دیتی ہے بوسہ قیصرؔ۔ کبھی شعلے سے کبھی پانی سے

۔ ۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply