پختونخوا میں وزارتوں کی تبدیلی اور نئی مجوزہ وزارت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تمام پاکستانی اور بالخصوص پنجابی خواتین و حضرات اگر بخل کا مظاہرہ کریں تو الگ بات لیکن حق بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے باسیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا بنتا ہے۔ وہ آفت جو اِن پر پچھلے ڈیڑھ سال سے نازل ہے ہم پختونخوا والے پچھلے ساڑھے سات سال سے بھگت رہے ہیں۔ عظیم شیر شاہ سوری کا تیسرا جنم تو پنجاب میں اب ہوا ہے، خیبر پختونخوا کے کوہ و دمن میں شیر شاہ سوری کی آمد سن دو ہزار تیرہ بعد از مسیح ہو گئی تھی۔ پرویز خان جس کے نام کا لاحقہ مجبوراً لکھنا پڑتا ہے لیکن روزِ محشر اس عظیم خٹک کے سامنے شرمسار ہونا پڑے گا جنہوں نے لگ بھک ساڑھے تین صدیاں پہلے لیڈر کے خصائل اور ہنروں پر ایک لازوال کتاب سردار نامہ لکھی تو سرِ ورق پر یہ شعر جلی حروف سے لکھا

چے دستار تڑی ہزار دی
د دستار سڑی پہ شمار دی
دستار باندھنے والے ہزاروں ہیں لیکن دستار کے اہل معدودے چند ہیں۔

کہتے ہیں کہ تاریخ بالآخر ہر ایک کے ساتھ انصاف کرتی ہے، جب گرد چھٹے گی تو اپنے سیاسی اور مالی مفاد کے لئے اس دھرتی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کرنے والوں کے چہرے آشکار ہوں گے۔ پرویز خٹک کی بھیانک حقیقت اور اس کے کریہہ سیاسی چہرے سے نقاب ہٹانے کے لئے صرف بلین ٹری سونامی اور پشاور بی آر ٹی ہی کافی ہیں۔

گڈ گورننس کی ایک مثال پختونخوا کا بینہ میں ہونے والی حالیہ تبدیلیاں ہیں۔ شوکت یوسفزئی بیچارے ویسے ہی انگریزی محاورے کے مطابق لافنگ سٹاک بن گئے ہیں ورنہ ایک آدھ وزیر مشیر کے سوا سب کا حال شوکت یوسفزئی جیسا ہی ہے۔ ایک مشیر کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ پچھلے دنوں ایک ٹی وی پر بیٹھ کر کس دھڑلے سے جھوٹ بول رہے تھے۔ ’سی ایس ایس کر لیا تھا لیکن پھر عوام کی خدمت کے واسطے سیاست میں آنا پڑا‘ ۔ جھوٹ چونکہ ان کے لیڈر کا وتیرہ رہا ہے اس لئے یہ سب جھوٹ بولتے ہوئے ذرہ برابر شرم محسوس نہیں کرتے۔

حقیقت یہ ہے کہ موصوف ایک این جی او چلانے کی تگ و دو میں تھے جو بدقسمتی سے چل نہیں رہی تھی۔ آئے روز فائلز بغل میں دابے پراجیکٹس حاصل کرنے کی کوشش میں مختلف این جی اوز اور دفاتر کے چکر لگا تے پھرتے تھے۔ اسی سلسلے میں ہمارے دفتر بھی آنا جانا تھا۔ ایک دفعہ میری مدد کے طالب ہوئے۔ نوجوان سمجھ کر میں ساتھ ہو لیا تو راستے میں کمال مہارت اور ڈھٹائی سے مجھے بھی دانا ڈالنے کی کوشش کی۔ موصوف مجھے تحریک انصاف کا سیکرٹری جنرل بنانے کے خواب دکھانے لگے۔

بات جیسا کہ اکثر و بیشتر ہوتا ہے دوسری طرف نکل گئی میں ذکر کر رہا تھا کابینہ میں ہونے والی تبدیلیوں کا! میٹرک وزیرِ تعلیم تو خیر سے انگلش بولتا ہے جو اس کی تعیناتی کی واحد مہارت ہے۔ کہتے ہیں بیوقوف دوست سے عقل مند دشمن بہتر ہوتا ہے۔ سابقہ مشیر تعلیم جس کی کارکردگی بھی اچھی تھی، شوکت یوسفزئی سے ضرور ناراض ہوئے ہوں گے کہ اگر انگلش ہی انتخاب کا پیمانہ ہے تو وہ بھی بول ہی لیتے تھے۔ میٹرک وزیر تعلیم کا اتنا غلغلہ ہوا کہ بنیادی سوال کسی نے پوچھا ہی نہیں اور وہ یہ کہ ان تبدیلیوں کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی۔

اس کے سواء کوئی تک سمجھ نہیں آتی کہ سب کو بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے بلکہ نہانے کا موقع ملے۔ یوں لگتا ہے کہ یہ سب کچھ پہلے سے ہی طے شدہ تھا کہ قلمدان ڈیڑھ سال بعد تبدیل ہوں گے تاکہ سارے اناڑی، کھلاڑی بننے کی ایکٹنگ کریں اور رنگ میں بھنگ ڈالنے سے گریز کریں۔ یہ بات کسی سالم دماغ کھوپڑی میں کس طرح بیٹھ سکتی ہے کہ جن وزیروں، مشیروں نے ڈیڑھ سال کا عرصہ اپنے متعلقہ محکمے سمجھنے میں صرف کیا اور جنہوں نے خدا خدا کرکے کسی نہ کسی کام پر ہاتھ بھی ڈالا، وہ دوسرے کے حوالے کرکے چلتا بنیں۔

شرم و حیاء کی ان سے کیا توقع لیکن کیا ان میں اتنی عقل بھی نہیں کہ محکموں کی اچھی کارکردگی ان کو عوام میں سرخرو کرے گی؟ دور رس نتائج کے لئے دور رس منصوبہ بندی بھی کرنی پڑتی ہے لیکن لگتا ہے یہ لوگ سب کچھ سے بے نیاز ہوچکے ہیں۔ ووٹ کی انہیں فکر نہیں، شاید ان کے اندر یہ احساس پکا پکا گھس گیا ہے کہ لانے والے لائیں گے تو آجائیں گے، اگر لانے والوں کا موڈ نہیں بنا تو کام وام سے کچھ نہیں ہوگا، کیوں نہ موقعے سے فایدہ اٹھایا جائے۔

مثال کے طور پر آئی ٹی کے مشیر بلدیات میں چلے گئے ہیں جبکہ مشیر تعلیم آئی ٹی کا قلمدان سنبھال چکے۔ سابقہ وزیر تعلیم اب اس گومگو کا شکار ہوں گے کہ سابقہ مشیر آئی ٹی کی مشہورِ زمانہ ٹائلٹ ایپ کے ساتھ کیا کریں؟ انہیں چاہیے کہ کل سے اپنے عملے سمیت دفتر سے نکلیں اور پشاور کی ہر بیت الخلاء کا بنفس نفیس معائنہ کریں اور اگر صورتحال باعث تشویش ہو تو وزیراعلی کو ایک نئی وزارت کی تجویز پیش کر سکتے ہیں ’وزیرِ امورِ واش رومز‘ اور اس کے لئے موزوں ترین بندہ شوکت یوسفزئی ثابت ہوسکتا ہے۔ یقین کیجئے شوکت صاحب کا نام سن کر وزیراعلی صاحب مان جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply