نذیر قیصر کے لکھے ”حرف سے کونپلیں نکل آئیں“

5جنوری کو معروف شاعر اور دانشور جناب نذیر قیصر کی 75 ویں سالگرہ تھی تو میں نے فیس بک پر ان کو مبارکباد کے لیے چند الفاظ لکھے تو اس پوسٹ کے نیچے کچھ معروف رائٹرزنے بھی کمینٹ کرتے ہوئے ان کے فن اور شخصیت پر بات کی جو میں اس کالم میں محفوظ کررہاہوں…

Read more

حمایت علی شاعر کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں وفات پاگئے

صبح صبح ہی یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ نامور شاعر نغمہ نگار دانشور حمایت علی شاعر آج کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں وفات پاگئے جبکہ گذشتہ روز ان کی 93 ویں سالگرہ منائی گئی آج اس خبر سے دل نہایت دکھ اورکرب سے بھر گیا اس خبر کے بعد کئی اہم واقعات ایکساتھ میرے…

Read more

گمنام ننھا ہیرو: اقبال مسیح

اقبال مسیح 1983 کو لاہور میں پیدا ہوا۔ اس کی ماں ایک کارپٹ فیکٹری میں ملازمہ تھی۔ جب اقبال چار سال کا تھا تو فیکٹری کے مالک نے زبردستی اسے ماں کی جگہ کام پہ لگا دیا۔ کیونکہ اقبال کی ماں نے چھ سو روپے قرض لیا تھا جو وہ بیماری کے باعث ادا نہ…

Read more

ڈاکٹر ڈینس آئزک کہاں ہیں؟

ڈرامہ نگار ہو شاعر ہو موسیقار ہو یا پھر ایک مصّور اُسے فن کی داد دینے والوں کی ضرورت رہتی ہی ہے اگر فن کار کے فن کو سراہا نہ جائے تو پہلے فن مرتا ہے پھر فنکار اور اگر خوش قسمتی سے کسی تخلیق کار کو مخلص پیار کرنے والے چاہت والے لوگ مل جائیں تو تخلیق کار کی تخلیق یافن پارہ بے مثال ہوجاتا ہے۔ایک وقت تھا جب لوگ پی ٹی وی پر چلنے والے ڈراموں کا ہفتہ بھر بے چینی سے انتظار کیا کرتے تھے 80 ء کے آغاز میں ایک نام ڈرامہ رائٹر کے طور پر اُبھرا ان کا پہلا ڈرامہ سریز 1982 ’دو راہا‘ کے نام سے ٹیلی وژن پشاور سے ٹیلی کاسٹ ہوا۔ پھر سلسلہ واران کے مشہور ڈرامے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے گئے

Read more

ڈاکٹر وزیر آغا اور میں !

1992 میں جہلم شالوم سنٹر میں نئے لکھنے والوں کے لئے ایک رائٹرورکشاپ منعقد ہوئی جس کا اہتمام فیصل آباد کی مس روت جو جریدہ ’رہبر‘ کی ڈائریکٹرتھیں جن کا تعلق بلجیم سے تھا اس ورکشاپ میں مجھے میرے دوست شہزاد انجم لے گئے ورکشاپ سے نکلنے کے بعد میں تھوڑا بہت لکھنے لگا۔ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو پہلے کہانی اور افسانہ لکھا کرتا تھا پھر شعرکہنے کا شوق ہوا تو پہلے سیالکوٹ کے سیاسی سماجی اور ادبی شخصیّت عزیز ہمدم، جن کا یہ شعر میں کبھی نہیں بھول سکتا،؂ یوں تو میری چشم ِ بینا متفق نہ تھی مگرلے گئی اندھے کنویں پر پیاس کی شدت مجھے

Read more

سارہ شگفتہ – ایک ٹریجک شاعرہ

ایک زمانے کی بات ہے کہ ایک شاعر دوست نے سارہ شگفتہ کی کتاب ’آنکھیں‘ تحفہ میں دی کتاب کو میں نے کئی با رپڑھا اور کئی بار سمجھنے کی کوشش کرتا رہا پھر اس پر گفتگو کا ایک دور چلا مگر کوئی بھی ڈھنگ سے اس ٹریجک اور منفردشاعرہ کوسمجھ نہیں پایا کہ سارہ کا کلام ہر بند میں آسمان کی طرف ایک نیا در وا کرتا چلاجاتا ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ کئی دن محفلوں میں اس کا ذکر رہا اکثر لوگ اس شاعرہ کا ذکر سن کرگم سم ہو جاتے۔سارہ :کا مختصر سا تعارف کچھ یوں ہے۔سارہ شگفتہ 31 اکتوبر، 1954 ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ وہ اردو اور پنجابی میں شاعری کرتی تھیں۔ ان کی شاعری کی مرغوب صنف نثری نظم تھی جو ان کے ایک الگ اسلوب سے مرصع تھی غریب اور ان پڑھ خاندانی پس منظر کے باوجود وہ پڑھنا چاہتی تھیں مگر میٹرک بھی پاس نہ کر سکیں۔ ان کی سوتیلی ماں، کم عمر کی شادی اور پھر مزید تین شادیوں (ان کے دو شوہر شاعر تھے ) نے انہیں ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا۔ انہیں دماغی امراض کے ہسپتال بھیجا گیا جہاں انہوں نے خودکشی کی ناکام کوشش کی، 4 جون، 1984 ء کو انہوں نے کراچی میں ٹرین کے نیچے آکر جان دے دی ان کی ناگہانی موت نے ان کی زندگی اور شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔

Read more

نذیر قیصر اور پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ۔۔۔

جب پیرس کے ژاں پال سارتر کو 1964 میں ان کی ادبی خدمات کے سلسلے میں نوبل پرائز کے لیے نامزد کیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر ایوارڈ لینے سے انکار کردیا کہ ’’ایک ادیب کو اپنے آپ کو ایک ادارہ میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے اوراپنی کامل آزادی برقرار…

Read more