نون لیگ کا ووٹ: ہنگامہ ہے کیوں برپا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی آرمی ایکٹ میں ترامیم عزت و احترام کے ساتھ منظور کر لی ہیں۔ پاک وطن میں کبھی کبھی ایسا ماحول بنتا ہے جب تمام سیاسی جماعتیں اور سیاسی خواہشات رکھنے والی قوتیں ایک ہی پیج پر ہوتی ہیں بلکہ ایسے مواقع پر متذکرہ ”پیج“ پر جگہ کم پڑجاتی ہے اور اضافی شیٹ لگاکر قومی اظہار رائے مکمل کیا جاتا ہے۔

آرمی ایکٹ میں ترامیم تحریک انصاف پر لازم تھیں مگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے لئے مجبوری تھی۔ آرمی ایکٹ میں ترامیم کی حمایت کرنے پر سب سے زیادہ تنقید مسلم لیگ (ن) کو برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سول بالادستی کا علم بلند کرنے سے لے کر خلائی مخلوق کے خلاف سرعام ”تبرہ بازی“ کے مظاہروں نے مسلم لیگ (ن) کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے کہ جب بھی وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے نرم گوشہ دکھائے گی تو مخالفین اس کے بیانیئے کی پوٹلیاں کھول کھول کر قوم کو دکھائیں گے۔

ویسے اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو مسلم لیگ (ن) نے آرمی ایکٹ ترامیم کی حمایت کرکے اتنا غلط کام تو نہیں کیا جتنا کہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر اس کے خلاف مےم چلائی جارہی ہے۔ آرمی ایکٹ میں ایسی ترامیم کی گئی ہیں جس کے ذریعے سول حکمرانوں نے آرمی چیف کی تقرری بھی کرنی ہے اور بوقت ضرورت تو سیع بھی دیناہے لہٰذا پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن) اور پی پی نے اپنے اپنے ماضی، حال اور مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے ان ترامیم کی حمایت کی ہے۔ آرمی ایکٹ ترامیم میں کہیں بھی ایسا نہیں لکھا گیا ہے کہ آئندہ وزیراعظم پاکستان آرمی چیف کوسلیوٹ کیا کرے گا۔ درحقیقت یہ سول بالادستی کی ہی علامت ہے۔

اس کے علاوہ بھی میاں نواز شریف نے بمعہ میاں شہباز شریف اور مریم نواز کے اقتدار کے مے خانے سے رجوع کرکے درست قدم اٹھایا ہے اور ”ساقی“ نے بھی صبح کے بھولے ہوئے بادہ نوش کے شام کو بوقت ضرورت گھر آنے پر خوش آمدید کہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) جب اقتدار کے اس مے خانے سے جام بھر بھر کے پی رہی تھی تو میاں نواز شریف اور ان کے چند دوستوں کا مطالبہ تھا کہ عوام کے مقبول رہنما ہونے کے ناتے انہیں نہ صرف ”قومی ساقی“ قرار دیا جائے بلکہ سمجھا بھی جائے اور باقی تمام قوتیں اپنے اپنے پیالے لے کر انہی سے جام کی درخواست کریں۔

یہ سب کچھ پاکستان کے مستند ”ساقی“ کو پسند نہیں آیا تھا حالانکہ میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کا مؤقف تھا کہ بڑے میاں اقتدار کی تھوڑی مے پر ہی گزارہ کریں وگرنہ ساقی اپنے باؤنسرز کو کہہ کر مے خانے سے باہر نکلوا دے گا۔ کیونکہ یہ دونوں رہنما اس اصول کو اچھی طرح سمجھ گئے ہیں کہ بقول شاعر کے

”سب کی نظروں میں ہو ساقی یہ ضروری ہے مگر

سب پہ ساقی کی نظر ہو یہ ضروری تو نہیں ”

اور پھر یہی ہوا ساقی نے میاں نواز شریف کو ساتھیوں سمیت مے خانے سے نکال دیا اور ان پر الزام یہ بھی تھا کہ اقتدار کی مے نے ان کا دماغ خراب کر دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو شکر کرنا چاہیے کہ میاں نواز شریف کے جیل چلے جانے سے ان کے پلیٹ لیٹس تو کم ہوئے مگر اقتدار کا نشہ بھی اتر گیا اور اب مسلم لیگ (ن) میں میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کا بیانیہ مقبول ہو گیا ہے ہماری اسٹیبلشمنٹ اقتدار کا ایسا ساقی ہے جس کی طبیعت اور فطرت کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عمران خان 22 سالہ جدوجہد کے بعد اقتدار کی منزل پانے میں کامیاب ہوئے حالانکہ سچ یہ ہے کہ عمران خان کو اقتدار کے ساقی کا دروازہ ڈھونڈ نے میں پندرہ سال لگے۔

عمران خان کہا کرتے تھے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے عمل دخل کے بغیر جمہوری نظام چاہتے ہیں لیکن 2011 ء میں اسے اقتدار کے ساقی کا دروازہ ملا اور پھر ان کا کوٹہ بڑھتا گیا ساقی نے ابتدائی طور پر خیبرپختونخواہ کی شکل میں عمران خان کو جام بھر کر دیا تھا۔ اور محبت کا یہ سلسلہ آگے بڑھاتو ہمارے ”قومی ساقی“ نے عمران خان کو پنجاب کا جام بھی دیا اور بلوچستان میں بھی آدھا پیالہ بھر دیا اور رہی سہی کسر وفاق کا پورا مے خانہ ہی ان کے حوالے کر دیا گیا۔ ابھی تک عمران خان کے اندر میاں برادران والی سوچ نے انگڑائی نہیں لی اور وہ سمجھتے ہیں کہ ساقی کا در پانے میں انہیں ایک طویل مدت گزارنا پڑی ہے اس لئے وہ ساقی کے ممنون نظر آتے ہیں اور ازخود ساقی بننے کے چکر میں نہیں ہے۔

جہاں تک مسلم لیگ (ن) کا معاملہ ہے ان کے پاس موج مستی کا بھی وقت ہے اور غلام علی کی نشیلی غزلیں بھی سن سکتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ غلام علی نے یہ غزل میاں برادران کے لئے ہی گائی تھی جس کے بول تھے۔

”ہنگامے ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے

ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے ”

مسلم لیگ (ن) نے اپنے پرانے مہربان سے تعلق دوبارہ استوار کر ہی لیا ہے تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ اس لئے ہنگامے برپاکرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ البتہ پی ٹی آئی کے لئے یہ فکرمندی والی بات ہے۔

٭٭٭٭

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 72 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *