سندھ اور پنجاب میں ثقافتی پل بنانے کے لئے کوشاں : سگا اور لال ہڑتال تھیٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس بات میں تو کوئی دو رائے ہو ہی نہیں سکتی کہ لاہور ہی پاکستان کا سیاسی اور ثقافتی دارالخلافہ ہے۔ پنجاب تاریخی طور اپنی زرخیز ثقافتی پہچان اور ملک کا سب سے بڑا اور اہم صوبہ ہونے کے ناتے دوسرے صوبوں کے لئے بھی مثالی اہم خطہ رہا ہے۔ جنرل ضیاء کے آمرانہ دور میں جہاں ملک کو جمہوری روایات اور سماجی مسائل اور پریشانیوں کا سامنا کرتے اپنی تاریخی تہواروں اور روایات کی قربانیاں دینا پڑیں وہاں سب سے زیادہ پنجاب کو اپنی اصل شناخت سے ہاتھ دھونا پڑا یہ سلسلہ گاہے بہ گاہے بعد میں بھی جاری رہا۔ پھر ایسا ہوا کہ زخم زخم جمہوریت کے موجودگی میں پنجاب کی ثقافت سے پیار کرنے والوں نے اپنی زبان اور ثقافت کو نئیں زندگی دینے کو نئیں جستجو شروع کی۔

جس طرح پنجاب میں پنجاب ادبی بورڈ، پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگویجز، آرٹس اینڈ کلچر (پیلاک) لاہور آرٹس کاؤنسل، الحمرا، پنجابی پرچار، لال ہڑتال تھیٹر گروپ اور دیگر ادارے پنجابی ثقافت اور زبان کے لئے اہم کام کر رہے ہیں، اسی طرح سندھ میں سندھ کا ثقافت و سیاحت ڈپارٹمنٹ، سندھی ادبی بورڈ، سندھی ادبی سنگت، سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن، خانہ بدوش اور دیگر ادارے بھی سندھی ثقافت اور زبان کی ترقی کے لئے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت سندھ اور پنجاب میں اپنی اپنی ثقافت اور زبان کی ترقی کے لیے کام کرنے والے لوگ آپس میں مل کر بھی پاکستان کی ان ثقافتوں کو پروان چڑھانے میں سرگرداں ہیں۔

حال ہی میں لاہور میں سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے اک شاندار ثقافتی دن منایا گیا جس میں پنجاب میں رہنے والے سندھی اور پنجابی زبان بولنے والوں نے بھرپور شرکت کی۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ اس ثقافتی تقریب کو منعقد کرنے میں سندھ اور پنجاب کی سرکار نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ لاہور کے ثقافتی گڑھ الحمرا میں منعقدہ اس پروگرام میں سندھ کے ثقافت اور سیاحت ڈپارٹمنٹ کے صوبائی سیکریٹری اکبر لغاری اور پنجاب کے ثقافت اور انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کی ڈپٹی سیکریٹری اور پیلاک کی ڈائریکٹر جنرل ثمن رائے نے خاص مہمان کے طور پر شرکت کی۔ الحمرا ہال لاہور آرٹس کاؤنسل نے بغیر کسی فیس کے اسپانسرز کیا تو سندھ سرکار نے تمام فنکاروں اور سازندوں کو اسپانسر کیا۔

سگا لاہور کی جانب سے سندھ اور پنجاب کی ثقافت کے دلدادہ لوگوں کو ایک چھت تلے اکٹھا کرنے پر ڈھیروں مبارکبادیں بھی وصول کیں جو ان کا حق بھی تھا۔ اسی طرح دوسری طرف پنجاب کے ترقی پسند فعال تھیٹر گروپ ”لال ہڑتال“ نے بھی پنجاب کے ساتھ ساتھ سندھ میں بھی کمال کام کیے ہیں۔ اس ٹیم میں شامل ہر ساتھی اپنے آپ میں کمال ہے۔ لال ہڑتال کا بنیاد رکھنے والوں سب سے اہم نام عمیر نفیس ہے، ایکٹنگ کے اسکول ”فیض گھر“ میں اداکاری سکھانے والے عمیر نفیس کا اصل تعلق کراچی سے ہے مگر کئی سالوں سے لاہور میں رہنے کی وجھ سے انہوں نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو بھی یہاں پر پیش کیا اور منوایا۔

وہ اردو میں شاعری کرنے کے ساتھ تھیٹر لکھنے کے بھی ماہر ہیں۔ دوسرے اہم ساتھی قصور کے نوجوان عمیر اقبال عمیر ہیں، جو بنیادی طور پر انجنیئر ہیں اور ملک کی مشہور بین الاقوامی سطح کی نجی انجنیئر کمپنی میں جاب کرتے ہیں، مگر دس برسوں سے تھیٹر اور لال ہڑتال سے نباہ رہے ہیں، ساتھ ہی پنجابی شاعری اور تھیٹر کے بہتریں لکھاری بھی ہیں۔ لال ہڑتال کا اہم اور متحرک کردار اقرا پریت ہیں، جو جتنی خوبصورت اداکارہ ہیں اتنی ہی خوبصورت شاعرہ اور افسانہ نویس ہیں، کیمسٹری میں ماسٹرز کرنے کے بعد پی ایچ ڈی کی طالب علم ہیں، لال ہڑتال میں ان کا تجربہ بڑا ہے کمال رہا ہے۔

لال ہڑتال تھیٹر کے ڈراموں میں عمیر اور اقرا پریت کی جوڑی بھی ہمیشہ کمال کی رہی ہے۔ اس ٹیم میں شامل اسلام آباد کی آمنہ مواز کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ شاندار تھیٹر اداکارہ کے ساتھ ساتھ اعلیٰ پائے کی ڈانسر بھی ہیں، اسلام آباد کو چھوڑ کر لاہور میں رہنے کے بعد وہ وومین ڈیموکریٹک کریٹک فورم کی فعال میمبر بھی ہیں۔ اس سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ٹیم میں جرمنی کے اک استاد بھی شاگرد اداکار کے طور پر شامل ہیں۔ ڈاکٹر فلپ انتھروپالاجی میں پی ایچ ڈی ہیں اور لمز میں لیکچرار ہیں، اس دوراں وہ لال ہڑتال کے ساتھ تھیٹر بھی کرتے رہتے ہیں۔

”جب لالا لہرائے گا“ فیم اور لیدر جیکٹ گرل عروج اورنگزیب بھی اس اسی ٹیم کا حصہ ہیں، عروج نے ماس کمیونیکیشن میں گریجویشن کی ہے اور اس وقت ”پروگریسیو اسٹوڈنٹ کلیکٹو“ کی فعال رکن ہیں، عروج اورنگزیب اس وقت پنجاب سے زیادہ سندھ میں مقبول ہیں، سندھ کی شاگرد تحریک ”یوتھ ایکشن کامیٹی“ کی روح روان سندھو نواز گھانگھرو نے خود آکر عروج سے ملاقاتیں کیں اور ایک ساتھ ایک پلیٹ فارم سے تحریک چلانے کا مشورہ دیا۔ اس ٹیم میں مانسہرہ کا دانش بھی شامل ہے، جو مانسہرہ سے نکل کر اسلام آباد پہنچ کر جب لال ہڑتال سے منسلک ہوا تو پورے پاکستان کے مختلف شہروں میں گھومتا رہتا ہے۔ باقی ساتھیوں میں لاہور کے عبید، عمر زامران، عمر حیات، بلاول اور ابرار بھی ہیں۔

لال ہڑتال کی ٹیم نے گذشتہ دنوں سندھ کے کئی شہروں کا دورہ کیا، حیدرآباد میں خانہ بدوش کے زیر اہتمام ”ایاز میلو“، نصیر آباد میں ہاری تحریک کے زیر اہتمام ”حیدر بخش جتوئی کانفرنس“ سے لے کر کئی اور تقاریب میں شرکت کی اور اپنے فن کا مظاہرہ کیا، اس دوراں انہوں نے لاڑکانہ، وارہ، ڈوکری، دادو، موئن جو دڑو سے لے کر دیگر چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں کا چکر بھی لگایا اور اپنے فن کا مظاہرہ بھی کیا۔ یہ تجربہ ان کے لئے شاندار رہا، صرف ایک دورے نے ان کی سندھ کے بارے میں برسوں کی بنی رائے تک کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔

اقرا پریت کا کہنا تھا کہ ”سندھ کا دورہ واقعی زبردست رہا، سندھ کے لوگ کمال کے مہمان نواز لوگ ہیں۔ اتنی محبت اور عزت دی جس کو بیان کرنا مشکل ہے۔ سب سے اہم بات کے وہاں لوگ فن کو سمجھنے والے اور اس کے قدردان ہیں ہمارے فن کو بہت پسند کیا گیا۔ سچ کہ ہر سندھی محبت کا پیکر ہے۔ ہم کو اس دورے میں سندھی کلچر کو جاننے اور سمجھنے کا بہت بڑا موقع ملا۔ سندھی لوگ اپنی زبان اور کلچر کے ساتھ بہت جڑے ہیں یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا اور سندھ کے شہروں میں سائن بورڈ، سرکاری عمارات، چوک چوراہوں، دکانوں اور شاہراہوں کے سنگ میل بھی سندھی زبان میں لکھے دیکھ کر جو خوشی ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔

جب ہم نے سندھ کے چھوٹے سے شہر نصیرآباد کے ڈھابے پر کھانا کھایا تو صرف پنجابی ہونے کی وجھ سے پورا پورا مطلب سو فیصد ڈسکاونٹ ملا، ایسا اور کہاں ہوتا ہے، یہ ہم سب کے لئے کمال تجربہ تھا، اس ے پہلے تو ہم۔ کر سمجھایا جاتا تھا کہ سندھ اور بلوچستان کا عام آدمی پنجابی کے عام آدمی کو لفٹ نہیں کرواتا یا ان سے محبت نہیں کرتا، یہاں تو ہر کوئی محبت کا پیکر تھا۔ موئن جو دڑو جاتے ہوئے راستے میں جہاں سے بھی کوئی کھانے کی چیز وغیرہ لیتے رہے تو دکانداروں نے پیسے نہیں لیے اور کہنے لگے ”ادی آپ پنجاب سے آئے ہمارے مہمان ہیں ہم آپ سے پیسے نہیں لیں گے۔ “

اقرا پریت کا کہنا ہے کہ ”سندھ کے گوٹھائی اور پنجاب کے پینڈو لوگ بالکل ایک جیسے ہیں، بغیر کسی غرض کے پیار کرنے والے، وفادار، سخی اور نہایت مہمان نواز سندھ میں ملنے والا ہر شخص بضد تھا کہ کھانا اس کے ساتھ کھایا جائے اتنی اپنائیت کے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ “

عمیر اقبال اور اس کی ٹیم تو اجرک اور سندھی ٹوپی پہن کر پورے سندھ میں کراچی سے لے کر کشمور تک گھومتی رہی۔ ”ہمیں یہ یقیں کے ساتھ تجربہ ہے کہ پاکستان کی تمام اکائیوں کے لوگ آپس میں بہت پیار اور محبت کرتے ہیں، خاص طور پر سندھ اور پنجاب کے لوگ تو ایک دوسرے کے زیادہ ہی قریب تر ہیں، بس ہمیں آپس میں ملنے کی ضرورت ہے، جب ہم ملتے ہیں تو یہ جانتے ہیں کے ہمارے تو خواب اور خیالات بھی ایک جیسے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے بڑے اور چھوٹے شہروں میں پنجاب جیسی ترقی، انڈسٹری، نجی شعبے میں روزگار کے مواقع سے لے کر زراعت بھی نہیں ہے اس کے باوجود سندھ کے لوگ اپنی سیاسی جماعت، سرکار اور صوبے کے سیاسی معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں، جو بات سمجھنا پہلے تو مشکل تھا مگر سندھ کے ایک دورے نے ہم پر سب راز افشان کردیے کے ”لوگ دھرتی، زبان اور ثقافت سے جڑے ہو تو اپنا گھر اور دیس ہر حالت اور ہر صورت میں خوبصورت اور دلفریب لگتا ہے۔ “

لال ہڑتال پنجاب کا تھیٹر گروپ ہے جو پنجاب کے عظیم کرداروں بلھے شاہ، دلا بھٹی، رائے احمد خان کھرل سے لے کر فیض اور ہبیب جالب تک کے کرداروں کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ سندھ کی عظیم شخصیات سچل سرمست، شیخ ایاز، حیدر بخش جتوئی اور دیگر کے پیغامات کو ڈرامہ شکل میں عام لوگوں تک پہنچاتا ہے۔ اسی طرح سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن لاہور اور اسلام آباد میں سندھی ثقافت کے ساتھ ساتھ پنجابی زبان کی ترقی اور ترویج کے لئے بھی کمال کام سرانجام دے رہی ہے۔

پاکستان میں جب تک تمام اکائیوں اور اس دھرتی کی زبانوں کو قومی زبان تسلیم نہیں کیا جائے گا اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقعہ نہیں دیا جائے گا قومی یکجھتی کا خواب ادھورا رہے گا۔ سندھ اور پنجاب سرکار کے ساتھ ساتھ وفاقی سرکار کو چاہیے کہ ایسے اداروں کی رہنمائی اور مدد کریں جو ملک کے اندر قومی یکجھتی کے لئے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *