کیا آپ نے کسی نصابی کتاب میں اسلام میں مرد کے مقام پر کوئی مضمون پڑھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذرا اپنے د ماغ پر زور دیں تو ہمیشہ ماضی کی باز گشت آپ کو یہی موضوع دہرانے پر مجبور کرے گی کہ آئیے آپ کو بتائیں اسلام میں عورت کا مقام کیا ہے؟ کیا یہ کسی ایسے محرک کی طرف اشارہ ہے جو کہ ایک طرف تو عورت کو کٹہرے میں لاکر کھڑا کرتا ہے جبکہ دوسری طرف اسے مذہب اورمعاشرے کے اس پر کیے جانے والے احسانات کے بوجھ تلے اتنا دبا دینا چاہتا ہے کہ وہ کبھی سر اٹھا کر جی نہ سکے۔

عورت اور مرد کا تعلق ایک یک طرفہ تعلق نہیں ہو سکتا۔ یہ باہمی تعلق ہے۔ بات چاہے مذہبی اقدار کی ہو یا معاشرتی اقدار کی۔ مسئلہ معاشی ہو یا جنسی تعلق کا۔ بات دنیا کی ہو یا آخرت کی۔ اس بات سے آپ انکار نہیں کر سکیں گے کہ یہ معاشرہ عورت کے لیے قد آور اخلاقیات اور معیار کا ایسا بت کھڑا کیے ہوئے ہے جس کے برابر آنے کے لئے عورت اپنی ساری زندگی ایڑھیاں رگڑتے رگڑتے مر جاتی ہے۔ لیکن نہ تو وہ ایسی بن پاتی ہے اور نہ ہی کبھی مرد کے اس معاشرے میں سرخروئی حاصل کر سکتی ہے۔ وہ کج فہم ہی رہ جاتی ہے اس کی ہر خامی کے بدلے اسے عورت ہونے کا طعنہ سننا پڑتا ہے۔

جب اسلام نے عورت اور مرد کو مختلف حقوق و فرائض کی بنا پر کلی طور پر ایک دوسرے کے برابر قرار دیا ہے تو مرد اور عورت دونوں پر شرم و حیا کی ایک جیسی قید و بند ہے۔ اگر اسلام مساوی سلوک کا درس دیتا ہے تو معاشرتی رویہ عورت اور مرد کے کردار میں تمیز کن بنیادوں پر کرتا ہے؟ اس معاشرے میں مرد کو شہوت رکھنے کا حق حاصل ہے۔ یہ بات بار بار جتلائی اور سمجھائی جاتی ہے۔ معاشرہ اور مذہب کی معاشرتی تشریح دونوں مرد کو جنسی طور پر فعال قرار دیتے ہیں جب کہ عورت صرف اس جنسی تعلق کے اثر کو قبول کرتی ہے؟

جنسی تسکین مرد کی قدرتی ہیجانی کیفیت ہے جس کے لیے وہ پولی گیمی کا سہارا بھی لیتا ہے بلکہ میریٹل کوڈ آف کنڈکٹ کو توڑتا بھی ہے۔ ناجائز تعلق بھی قائم کر لے تو یہ معاشرہ اسے قبول کر لیتا ہے۔ مرد کو لے کر معاشرے کا ایسا رویہ یہ بتاتا ہے کہ مذہبی تعلیمات اور ان کی معاشرتی تشریح میں قدرے تفریق پائی جاتی ہے۔ کیونکہ مذہب تو مرد کو کسی ایسے تعلق کو بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔ تو پھر معاشرہ مرد کے کردار کی دھجیاں کیوں نہیں بِکھیرتا؟

دوسری طرف عورت کا ایک ازدواجی بندھن میں ہوتے ہوئے بھی اپنی جائز جنسی خواہش کا اظہار کرنا بے شرمی و بے حیائی تصور کیا جاتا ہے۔ ایک طرف ہم عورت کو یہ بتاتے ہیں کہ اسلام نے تمہیں اعلیٰ مقام دیا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام نے عورت کو جو اعلیٰ مقام دیا ہے اس کی معاشرتی تشکیل کہاں ہے آخر؟ کیا معاشرے نے عورت کو وہ بلند پایہ مقام دے رکھا ہے؟ صرف نظریات کی میٹھی گولیوں سے معاشرے کے کڑوے حقائق کے نقوش نہیں مٹائے جا سکتے۔

نتیجتاً جب مرد اور عورت کے مابین تعلق کی اس تفریق کا سبب معاشرہ بنا ہے تو اس کا حل بھی معاشرے کی ان جڑوں کو کاٹ کر نکالا جائے گا۔ کسی یوٹوپیا کے تصور سے یہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے پہلے ان مسائل کو پیدا کرنے والی وجوہات پر بات کرنا ہوگی سب سے بڑی بات یہ کہ انہیں تسلیم کرنا ہوگا۔ مفروضے کے عملی اظہار کے بغیر اصول و ضوابط کی تشریحات دورِ حاضرمیں اپنا تاثر نہ چھوڑ سکیں گی اگر ان کا کوئی معاشرتی عملی نمونہ ہمارے سامنے نہ رکھا گیا۔

نیز یہ کہ غلطی کی گنجائش انسان کی فطرت اور روش ہے۔ یہ گنجائش معاشرہ مرد کے لئے تو رکھتا ہے عورت کے لئے کیوں نہیں؟ مرد اور عورت کے مقام کو اگر تمام مذہبی اور معاشرتی پابندیوں سے آزاد تصور کر لیا جائے تو یہ معاشرہ مرد کے گناہ کو تو معاف کر دیتا ہے لیکن عورت کے گناہ کو معاف رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ جب بات شخصی اور انفرادی آزادی کی ہو رہی ہے تو عورت اور مرد دونوں کا کردار ان کا ذاتی فعل ہے۔ ان کے ذاتی اعمال اور کرادر کی بنا پر انہیں جہنم رسید کرنے کا حکم اور اختیار کسی تیسرے شخص کو حاصل نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *