مسلم لیگ ن کا ایکسٹینشن ووٹ اور قبل از وقت الیکشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آرمی ایکٹ ترمیمی بل میں مسلم لیگ ن کی جانب سے ٹی وی سکرینوں پر غیر مشروط حمایت کا بیان آتے ہی سوشل میڈیا پر ایک بحث شروع ہو گئی۔ اس حمایت کو سویلین بالادستی کے حامی افراد نہ صرف ایک مایوس کن قدم قرار دے رہے ہیں بلکہ ”ووٹ کو عزت دو“ کے بیانیہ سے انحراف کے الزامات بھی لگائے جانے لگے۔ بہت سے افراد پارٹی قیادت کے اس فیصلہ کی حمایت میں بھی تھے۔ سوشل میڈیا پر حامی اور مخالف افراد کی جانب سے جنگ کی سی کیفیت تھی لیکن پارٹی قیادت نے اس صورتحال میں کارکنوں کو مطمئن کرنے کے لئے کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں کیے۔ اگر کوئی براہ راست پیغام جاری کر دیا جاتا تو کارکن اتنے مایوس نہ ہوتے۔

نواز شریف نے عدالتی نا اہلی کے بعد جی ٹی روڈ سے شروع ہونے والے سفر میں جب ”مجھے کیوں نکالا“ کے اسباب بتانا شروع کیے تو اسے عوامی پسندیدگی ملی اور پھر اسی تحریک سے ہمیں ”ووٹ کی عزت“ کا نیا نعرہ ملا۔ سویلین بالادستی کے حامی افراد نے اس نعرے کو پذیرائی بخشی اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف یہ سوچ پروان چڑھنے لگی کہ آخر بہتر سالوں میں کیوں کوئی ایک بھی سویلین وزیراعظم مدت پوری نہیں کر پایا۔ آخر کیوں ہر سویلین حکومت کے خلاف محلاتی سازشیں شروع ہو جاتی ہیں۔ نواز شریف کے خلاف کردار کشی کے تمام ہتھکنڈے استعمال کیے گئے مگر ووٹرز کی حمایت ختم نہ کی جا سکی۔ الیکشن سے پہلے وطن واپسی کے فیصلے نے بھی حامیوں میں نئی روح پھونکی۔ نفرت انگیز مخالفانہ پروپیگینڈا اور طرح طرح کی مشکلات کے باوجود نواز شریف کی جماعت سوا کروڑ سے زائد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

اس جدوجہد میں خود نواز شریف نے بھی ہر طرح کی مشکلات برداشت کیں، نواز شریف نے وہ مناظر بھی دیکھے جب کچھ لوگ ہسپتال میں دروازوں کو پیروں سے ٹھڈے مارتے ہوئے یہ دیکھنے داخل ہو گئے کہ آیا وینٹی لیٹر پر زیرعلاج کلثوم نواز زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ مسجد میں جوتا مارنے جیسا قابل افسوس واقعہ بھی پیش آیا۔ دوران قید کلثوم نواز کی وفات کا اندوہناک سانحہ بھی سہنا پڑا۔ متعدد بار باہر بھجوانے کی آفرز کے باوجود نواز شریف نے سمجھوتے سے انکار کیا۔ افسوسناک واقعات کا کرب اور ارادوں کی پختگی ان کے چہرے سے عیاں ہوتی تھی۔ ایسے شخص سے اپنے بیانیہ سے ہٹنے کی توقع رکھنا ہی عبث ہے۔

ان سب تکلیف دہ واقعات نے سول بالادستی کے حامیوں کو ایک ولولہ اور نیا جوش دیا۔ گزشتہ الیکشن میں دھاندلی اور اچانک آر ٹی ایس (RTS) کا بند ہونا جیسے واقعات نے لوگوں کا یقین مزید پختہ کر دیا کہ ہمارے ووٹ کو پاؤں تلے روندا جاتا ہے۔ واٹس ایپ پر جے آئی ٹی (JIT) بننے کی خبروں اور ججز کی تبدیلی نے بھی یہ تاثر مضبوط کر دیا کہ انصاف حقائق اور ثبوتوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ یہاں ’واٹس ایپ انصاف‘ رائج ہے جو صرف دباؤ کے تحت ہو رہا ہے۔

رہی سہی کسر جج ارشد ملک کے ویڈیو اعتراف نے پوری کر دی کہ کیسے ان سے دباؤ پر فیصلہ کروایا گیا تھا۔ جج ارشد ملک کے ویڈیو اعتراف کے بعد نہ صرف نواز شریف کی سزاء بے معنی ہو کر رہ گئی بلکہ یہ تاثر بھی مضبوط ہو گیا کہ جو بھی ملک میں سول بالادستی اور جمہوریت کی بات کرے گا اسے نشان عبرت بنایا جائے گا۔ ان واقعات نے جمہوریت پسندوں کو ایک لڑی میں پرو دیا اور سب آنکھوں میں سول بالادستی کے خواب سجائے اپنی اپنی جگہ اس جدوجہد میں کردار ادا کرنے لگے۔

اب سوال یہ ہے کہ آخر مسلم لیگ ن نے اس ترمیم کے حق میں ووٹ کیوں دیا؟ کیا بیان کی گئی تمام تکالیف کے باوجود نواز شریف اور ان کی جماعت ”ووٹ کی عزت“ پر سمجھوتہ کر سکتی ہے؟ کیا یہ حمایت ووٹ کی عزت کے بیانیہ سے انحراف ہے یا مقاصد کچھ ایسے ہیں جو ابھی نظر نہیں آ رہے؟ اب اس کا تجزیہ کرتے ہیں کہ اس فیصلہ کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں نے نہ صرف عوام کو مایوس کیا ہے بلکہ انھیں بھی کیا ہے جو اس حکومت کو بہت چاؤ سے لائے تھے۔ باتوں کے ہوائی محل جو الیکشن سے پہلے بنائے گئے تھے وہ کچھ ہی ماہ میں زمین بوس ہو گئے، بڑھتی مہنگائی اور ہر شعبہ میں تنزلی نے نہ صرف اس نا اہل حکومت کی قلعی کھول دی بلکہ ان قوتوں کو بھی اپنے فیصلے پر نظرثانی کے لئے مجبور کر دیا ہے جو ہر احتیاط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہیں اقتدار میں لائے۔ صبر کا پیمانہ لبریز ہونا ہی تھا۔ آخر نا اہلوں کا بوجھ کب تک اٹھایا جائے۔ ان وجوہات نے فیصلہ سازوں کو دوبارہ واپس پلٹنے پر مجبور کیا ہے۔ یہ بیانیہ کی شکست نہیں ہے بلکہ مخالف فریق بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوا ہے کہ ان کی ہٹ دھرمی سے ملک کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ’آرمی ایکٹ ترمیمی بل‘ کی حمایت پر مسلم لیگی فیصلے کی بہت زیادہ حمایت نہیں کی جا سکتی۔ یہ ایک مایوس کن فیصلہ ہے۔ اگر اس ایکٹ کی حمایت نہ کی جاتی تو آئین میں ایکسٹینشن کا وجود ہی ختم ہو جاتا۔ ہر آنے والے آرمی چیف کو پتا ہوتا کہ تین سال بعد مجھے ریٹائر ہونا ہے لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ایک غلطی سے گزشتہ سب محنت پر پانی نہیں پھر جاتا۔ چند سال پہلے تک جن کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا تھا آج ہر چوراہے پر انھیں نہ صرف ڈسکس کیا جاتا ہے بلکہ ہر خرابی کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ صرف اور صرف وہی شعور ہے جو نواز شریف نے اپنی قربانیوں سے اس قوم کو باور کروایا ہے۔

قیاس آرائیوں اور اخباری اطلاعات کے مطابق غالب امکان ہے کہ یہ الیکشن کا سال ہے۔ سفر وہیں سے شروع ہو گا جہاں پر ختم ہوا تھا۔ وہی سفر جس میں ترقی بھی ہو گی اور خدمت بھی۔ دنیا میں عزت بھی ہو گی اور عہدے کی تکریم بھی۔ ایسا نہیں ہو گا کہ کسی ملک کا وزیر خارجہ اہم معاملات کے لئے آرمی چیف کو فون کرے۔ اس طرح کی بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ شاید اسی سال گرمیوں سے سردیوں کی جانب جاتے ہوئے الیکشن ہو سکتے ہیں جس میں مداخلت نہیں ہو گی۔ عوام کی مرضی سے جو الیکٹ ہو گا وہی حکومت کرے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “مسلم لیگ ن کا ایکسٹینشن ووٹ اور قبل از وقت الیکشن

  • 10/01/2020 at 12:45 am
    Permalink

    Kashif mayo Weldon app key
    article say pata chal Raha mayo
    paka Muslim Leagi hota hey
    Mayozada Shahzad saleem

  • محمد کاشف میو کی دیگر تحریریں
    محمد کاشف میو کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *