صحافی نہیں، صحافت بچاؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے۔ اور اس بات سے بھی انکاری نہیں کہ یہ ریاست کا چوتھا اور اہم ستون ہے۔ صحافت کی اہمیت روز اول سے رہی ہے اور رہے گی۔ اس کی اہمیت میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے۔ دیگر تمام پیشوں سے زیادہ اہمیت کا حامل اس پیشے سے کبھی انصاف نہیں ہوا۔ ہر دور میں اس مقدس پیشے کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے اس پیشے سے منسلک پیشہ ور لوگ ہمیشہ متاثر ہوتے رہے ہیں۔

اس ملک میں کسی بھی شعبے میں جانے کے لئے قواعد و ضوابط ہوتے ہیں کچھ قانونی تقاضے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اگر آپ کو وکیل بننا ہے تو آپ کو LLB کیڈگری حاصک کرنی ہوگی۔ اس ڈگری کے بغیر کیا مجال ہے کہ آپ جج کے سامنے ایک بات کرسکے چاہیے آپ دوسرے شعبے میں ماہر ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر آپ نے MBBS کی ڈگری حاصل کررکھی ہے تو آپ ڈاکٹر ہی بن سکتے ہیں آپ جج کبھی نہیں بن سکتے ہیں۔ اسی طڑح دیگر تمام شعبوں میں جانے کے لئے متعلقہ شعبے میں علم حاصل کرنا لازمی ہے۔ آپ MBBS کرکے بینک میں کام نہی کرسکتے ہیں یا ہھر MBA والے ڈاکٹر بن کر ہسپتال میں نہیں بیٹھ سکتے۔ اگر M۔ COM کا بندہ ڈاکٹر بن کر ہسپتال میں بیٹھے گا تو وہ کسی مریض کو مار ہی سکتا ہے اس مریض کو ٹھیک کبھی نہی کرسکتا ہے۔

پاکستان میں صحافت وہ مظلوم ترین پیشہ ہے کہ کوئی بھی منہ اٹھاکر اس میں گھس جاتا ہے اور سب کی پگڑیاں اچھالنا شروع کردیتا ہے۔ اگر وکالت کی تعلیم حاصل کرنے والا ڈاکٹر نہیں بن سکتا اگر ایم بی بی ایس والا وکیل نہیں بن سکتا ہے۔ تو وہ صحافی کیسے بن سکتا ہے؟

ہمارے ملک میں میٹرک پاس بھی صحافی بنا ہوا ہے۔ اگر آپ شہروں کی بات کریں تو ٹیکسی ڈرائیور، ورکشاب والا، ہوٹل والا، اخبار فروش، پیمپر فروش، چائے والا سب کے پاس پریس کارڈ موجود ہے۔ اگر ایک بندہ بغیر ایم بی بی ایس کے ڈاکٹر نہیں بن سکتا ہے اگر ایک بندہ ایل ایل بی کے بغیر وکیل نہیں بن سکتا یے۔ اگر ایک بندہ بندہ ایل ایل بی کے بغیر جج نہیں بن سکتا ہے تو ایک میٹرک پاس کیسے صحافی بن سکتا ہے۔ حالانکہ صحافت کی ایک پوری سائنس ہے۔

صحافت کی ہی دراصل قوم کو ٹھیک راستے پر ڈال دے۔ صحافت کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ مستقبل کے لئے لوگوں کو تیار کریں۔ بد قسمتی سے اس ملک میں صحافت کے ساتھ ظلم ہوا جو کسی کام کا نہیں رہا وہ صحافت میں گھس گیا۔ اور بلیک میلنگ شروع کردیا۔

اگر آج ہی صحافیوں کے اثاثوں کی چھان بین ہو تو سیاست دانوں سے زیادہ زیادہ اثاثے نکل آئیں گے۔ ہمارے آس پاس ہی بہت سارے ایسے صحافی موجود ہیں جن کی انکم صفر اور اثاثے لاکھوں اور کروڈوں کے ہیں۔ وہ بڑے گاڑیوں میں گھومتے ہیں۔ اچھا پہنتے ہیں اچھا کھاتے ہیں بچے مہنگے ترین سکولوں میں ہڑھتے ہیں۔ ان کو آخر کون پوچھے گا کہ ان کا ذریعہ امدن کیا ہے؟ ایسے لوگوں کا کڑا احتساب ہونا چاہیے۔

حکومت کو چاہیے صحافت کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے اس مقدس پیشے کے حوالے سے قانون سازی کرے۔  سب سے پہلے صحافی اپنے اثاثے اور آمدن ظاہر کریں۔ اس کے بعد صحافی بننے کے لئے صحافت میں ماسٹر ڈگری لازمی قرار دیا جائے۔ اور ایسے تمام صحافی جو اس شعبے میں ڈگری رکھتے ہیں تمام کو ان کے بنیادی حققوق دیے جائیں۔

اخبارات اور ٹیلی ویژن کے مالکان کو پابند کریں کہ وہ ان کو بروقت تنخواہیں ادا کریں اور ان کو اتنا پیکج دے کہ ان کی تمام ضرورت ز ندگی حل ہو۔ ایسے تمام لوگوں پر پابندی عائد کریں جن کے پاس متعلقہ شعبے میں ڈگری موجود نہیں ہے۔

آج گلگت پریس کلب کے باہر کچھ دوست سڑک پر موجود تھے۔ ایسا لگا کہ کوئی اپنی احتجاج ریکارڈ کروانے آئے ہوں۔ وقت کی کمی تھی رک نہیں سکا بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ہمارے دوست صحافی ہی اپنا احتجاج ریکارڈ کروارہے تھے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت صحافیوں کے ساتھ نا انصافیاں کررہی ہے۔ سنسرسپ ہے، صحافیوں کے حققوق نہیں دیے جارہے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ میں اس بات سے متفق ہوں کہ نا انصافی ہوئی ہو گی۔ آپ کے تمام مطالبات جائز ہیں۔ اس تحریک کو صحافت بچاؤ تحریک کا نام دیا جائے تو بہت ہی بہتر ہوگا۔ اگر حکومت بغیر ڈگری والے صحافیوں پر پابندی عائد کردے تو دیگر پیشہ ور ڈگری ہولڈر اور قابل لوگ سامنے آئیں گے۔ اور یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ورنہ صحافی یوں ہی ذلیل ہوتا پھرے گا۔ کبھی کسی کو دھکہ دیا جائے گا تو کبھی کسی کے ہاتھ سے زور دار تپھڑ کھانا پڑے گا۔ کبھی بلیک میلر کا طعنا سننا ہوگا تو کبھی لفافہ صحافی کے القابات سے نوازیں گے۔ اس تحریک کا نام صحافی بچاؤ تحریک نہیں بلکہ صحافت بچاؤ تحریک رکھنا چاہیے کیونکہ صحافت بچاؤ گے صحافی بچے گا۔ خودبخود۔

اپنے صفوں کے اندر سے ان جاہل، نکمے، ان پڑھ، اور بلیک ملیر صحافیوں کی نشاندہی کرو اور ان کو باہر نکالو۔ یہ صحافت پر آپ کا بڑا احسان ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply