طاقت کا سرچشمہ کون؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چناؤ کے دن جوں جوں قریب آتے جا رہے تھے مجھے یوں لگا جیسے ہم اس دھرتی کی سب سے معتبر مخلوق ہیں۔ ہر نامزد امیدوار ایسے بغل گیر ہوتا جیسے مدتوں کا شناسا ہو۔ یوں کندھے سے کندھا ملانا، ہاتھ پکڑ کر فضا میں لہرانا، اللہ رے کیا دن تھے گویا اپنے آپ پہ رشک آنے لگتا تھا۔ الیکشن سے دو دن پہلے ایک سیاسی جماعت کا بڑا اکٹھ ہمارے محلے میں بھی کیا گیا۔ نامزد ممبران باری باری اسٹیج کی زینت بنے اور ہمارا لہو خوب گرمایا۔

ہم بھی جذبہ ایمانی سے ہاتھ اٹھا اٹھا کر اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لیے کوشاں تھے۔ پروگرام کے بعد ہماری تواضع ٹھنڈے مشروبات اور سموسوں سے کی گئی۔ مہمانانِ گرامی و ہمنواؤں کے لیے مٹن قورمے، بریانی، چم چم سے بھرپور زردہ اور دیگر لوازمات علیحدہ کمرے میں سجائے گئے جہاں عوام کی رسائی ناممکن تھی۔

میں اگر اپنی فہم و فراست سے کام لیتا تو یہ پہلا عمل تھا جس نے میرے اور میرے مستقبل کے نمائندے میں لکیر کھینچی تھی۔ مگر میں اپنی عقیدت میں اندھا ہو کر اپنے نجات دھندہ کو اپنے ساتھ پا کر رقصاں تھا۔ اگلے دن محلے کی بیٹھک سجی، چناؤ میں اپنے نامزد ممبر کو کامیاب کروانے کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیا گیا۔ تجدید عہد دوران جذباتی تقاریر کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

چناؤ کے دن صبح سویرے کافی گہماگہمی دیکھنے کو مل رہی تھی۔ ہر کوئی اس محاذ پر اپنی اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکا تھا۔ ممبر صاحب وقت فوقتاً پاس آ کر حالات کا جائزہ لیتے، ہماری کارکردگی کر سراہتے تو سینہ چوڑا ہو جاتا۔ ووٹنگ کا عمل ختم ہوا۔ اللہ نے کرم کیا ہماری محنت رنگ لائی اور کامیابی ہمارے ممبر کا مقدر بنی۔ میں نے کئی ساتھیوں کی آنکھیں خوشی سے نم دیکھی۔ ممبر صاحب ہمارے درمیان موجود تھے ہر ایک کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔ وہ آخری شام تھی جب ہم نے اپنے ممبر صاحب کو اپنے درمیان پایا تھا۔

چناؤ کے دن کے بعد سے ہمارے ممبر ہمارے لیے گوہر نایاب بن گئے تھے۔ اب ان کا قافلہ کبھی پاس سے گزرتا تو وہ گویا یوں گزر جاتے جیسے کوئی شناسائی نہ ہو۔ ہمیں مہنگائی، غربت، بے روزگاری پر تشویش تھی جس کا باقاعدہ اظہار ہم اپنے علاقے کے معززین سے کرتے رہے۔ معززین علاقہ رقعہ لکھ کر وعدے کے ساتھ جیب میں ڈال لیتے جو بعد میں کپڑوں کے ساتھ دھل جاتا رہا۔

ہمیں کافی حد تک یہ سمجھ آ چکا تھا اب ہماری ضرورت نہیں رہی۔ ہمیں استعمال کیا جا چکا ہے۔ ایک دن میرے ہمسائے کو بچے کے اسکول میں داخلے کے لیے ہیڈماسٹر صاحب نے ممبر صاحب کا لکھا رقعہ لانے کو کہا۔ میرا ہمسایہ میرے پاس آیا اور ممبر صاحب کی کوٹھی ساتھ چلنے کو کہا۔ میں نے دکان کا شٹر نیچے کیا اور ساتھ ہو لیا۔ کوٹھی پہنچنے پر دروازے پر یوں انٹرویو لیا گیا جیسے ہم نے ان کا گردہ مانگ لیا ہو۔ ایک جاننے والے نے کوٹھی کے باغیچے سے دیکھا تو گارڈز کو اندر بھیجنے کا اشارہ کیا۔ سلام دعا کے بعد ممبر صاحب کا پوچھا اور کام کا بتایا۔ ان کے سیکرٹری نے ممبر صاحب کے مصروف ہونے کی نوید سنائی، دو دن بعد آنے کا کہہ کر کام کرنے کی یقین دہانی کروا دی۔ ہمارے کوٹھی کے باہر نکلتے ہی ممبر صاحب کا قافلہ دھول اڑاتا پاس سے گزر گیا۔

وقت اپنی پوری رفتار سے گزرتا گیا، کندھے سے کندھا ملانے والے رک کر حال پوچھنا گوارا نہیں کر رہے تھے۔ چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا معمول تھا۔ اس سارے وقت میں کامیاب بس ایک ٹولہ تھا جسے ہم اپنی زبان میں خوشامدی ٹولہ کہتے ہیں۔ یہ ٹولہ ممبر صاحب کے اردگرد مکھیوں کی طرح جھرمٹ بنا کے رکھتا۔ تاکہ اپنے اپنے علاقے میں اجارہ داری کو تقویت دے سکے۔ چناؤ کے دن کے بعد ہمیں معلوم نہیں کہ ہمارے ممبر صاحب اسمبلی میں کیا چورن بیچ رہے ہیں۔ اور اس کا ہمیں کیا فائدہ ہونے جا رہا ہے۔ ہمیں بس یہ جانتے ہیں کہ ان کی کارکردگی اس قدر بری تھی کہ ہمارا چولہا جلنا مشکل ہو رہا تھا۔

آئے روز سوشل میڈیا، اخبارات، ٹیلی۔ ویژن پر نئے قانون بننے کی داستانیں رقم ہوتی ہیں۔ یہ سب لفظوں کے گورکھ دھندے ہیں۔ جو یہ ممبر طبقہ اپنے یا اپنے آقاؤں کو نوازنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر حقیقت کی عینک پہن کر دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں چار طبقاتی نظام ہے۔

ایک وہ جس کے پاس لاٹھی ہے وہ سب سے اونچا طبقہ ہے، دوسرا ہمارے حکمران جو کبھی ممبر بن کر ووٹ کی بھیک مانگتے ہیں بعد میں ہمارے خدا بن جاتے ہیں، تیسرا خوشامدی، مالشی طبقہ ہے، چوتھا طبقہ رعایا ہے جو سب سے کمتر طبقہ جانا جاتا ہے۔

پانچ سال زندگی سے جنگ لڑتے گزر گئے، نگراں حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہی نمائندے نئی سیاسی جماعتوں کی چھتری تلے عوام کو نئے خواب دکھا کر جھوٹ بیچنے کے لیے میدان میں موجود تھے۔ وقت اپنے آپ کو دہرا رہا تھا۔ ایک نامزد ممبر حلق پھاڑ پھاڑ کر عوام کو یہ باور کروا رہے تھے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہے۔ جس پر عوام کی جانب سے بھرپور تالیوں سے پزیرائی کی گئی۔ یہی ہوتا آیا ہے، یہی ہوتا رہے گا۔ طاقت کا سرچشمہ کل بھی ڈنڈا تھا آج بھی ڈنڈا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *